ہوم   >  بلاگز

پاکستان کی دم توڑتی اپوزیشن جماعتیں

6 months ago

کسی بھی جمہوری ملک میں اپوزیشن کا اہم کردار ہوتا ہے، حکومت کیا کر رہی ہے، پالیسیاں کیسی بن رہی ہیں، کون بنا رہا ہے اور اُس کے عوام پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، اپوزیشن اِن سب پر نظر رکھتی ہے اور وقتا فوقتا عوام کو آگاہ کرتی ہے لیکن موجودہ حکومت میں ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ اپوزیشن نام کی کوئی چیز باقی رہی ہی نہیں۔ ملک کی دو بڑی اپوزیشن جماعتیں پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی کو اپنی اپنی فکر لاحق ہے، دونوں جماعتوں کی قیادت کرپشن مقدمات میں نیب کی پیشیاں بھگت رہی ہیں۔

جہاں تک سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کا تعلق ہے تو وہ اِن دنوں عدالت عظمیٰ کی جانب سے دی گئی 6 ہفتوں کی ضمانت پر ہیں جو اُنہیں طبی بنیادوں پر دی گئی ہے، اس سے پہلے وہ لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں العزیزیہ ریفرنس میں ملنے والی سزا بھگت رہے ہیں، اگرچہ ماضی میں ایسی کسی بھی ضمانت کی مثال نہیں ملتی تاہم گزشتہ دنوں پی پی رہنما اعتزاز احسن نے یہ انکشاف کرکے حیران کردیا کہ نوازشریف کو 6 ہفتوں کی رعایت مکمل زبان بندی پر دی گئي ہے، اُنہیں ایک دن پھر جیل جانا ہوگا۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ نوازشریف پلی بارگین کرسکتے ہیں، یعنی پیسے دو اور جان چھڑاؤ۔ حال ہی میں ایسی ہی ایک مثال بحریہ ٹاؤن اراضی کیس میں سامنے آئی ہے جب عدالت عظمیٰ نے بحریہ ٹاؤن انتظامیہ کی جانب سے مقدمات ختم کرنے کے عوض 450 ارب روپے کی پیشکش قبول کی اور قومی احتساب بیورو کو ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی سے روک دیا۔

کیا حکومت سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا فارمولا اپنانے جارہی ہے، یعنی بڑی بڑی مچھلیوں پر ہاتھ ڈال کر اُن سے لوٹا ہوا خزانہ نکالا جائے۔ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ابھی تک نو ڈیل، نو کمپرومائز اور نو ڈھیل کے دبنگ بیانات آ رہے تھے لیکن گزشتہ روز گھوٹکی جلسے سے خطاب میں بالاخر اُنہوں نے اپوزیشن کو بڑی آفر دے دی۔ اُن کا کہنا تھا کہ نوازشریف اور آصف علی زرداری ملک کا لوٹا ہوا پیسہ واپس لے آئیں تو ہم اُن کی جان چھوڑ دیں گے،اس کے علاوہ ان کے پاس کوئی چارہ نہیں ۔ یہ تاثر بھی بڑھتا جا رہا ہے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کو جو رعایت ملی ہے وہ درحقیقت علاج کیلئے نہیں بلکہ ڈیل کی رقم جمع کرنے کیلئے دی گئی ہے، کیوں کہ اس سے پہلے عدالت اُن کے بھتیجے حمزہ شہباز اور بھائی اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کا نام بھی ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے چکی ہے۔ اگر یہ سب سچ ثابت ہوا تو پھر اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت کی اخلاقی ساکھ کیا رہ جائے گی، وہ کس طرح عوام کا سامنا کرے گی ۔ اندرون خانہ کیا چل رہا ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن اس وقت بالکل خاموشی چھائی ہوئی ہے، شہبازشریف کا لہجہ نرم جبکہ مریم نواز کا ٹوئٹر بھی خاموش ہے۔

پیپلزپارٹی کی بات کی جائے تو اُنہیں بھی عوام سے زیادہ اپنی فکر ستائے جا رہی ہے۔ چاروں صوبوں کی زنجیر اب سمٹ کر سندھ تک محدود ہوچکی ہے۔ اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی اور شرجیل میمن سمیت کئی رہنما جیلوں میں ہیں جبکہ خود وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بھی منی لانڈرنگ کیس میں پیشیاں بھگت رہے ہیں۔ مخالفین کو پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت بھی گوارا نہیں ہو رہی۔ تحریک انصاف اور اُس کے اتحادی پہلے بھی پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کو جھٹکا دے چکے ہیں لیکن حکومت گرانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ وزیراعظم نے گزشتہ روز کراچی کے علاوہ گھوٹکی کا بھی دورہ کیا جہاں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی یہ کہتے ہوئے سنائی دیے کہ سندھ پر اگلی حکومت تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں کی ہوگی یعنی اب بھی ہماری اس صوبے پر نظر ہے۔

ایسی صورتحال میں پیپلزپارٹی کی پریشانی بجا ہے۔ ایک طرف نیب کیسز اور دوسری طرف صوبائی حکومت پر مخالفین کے وار، شاید یہی وجہ ہے کہ اب بلاول کو بھی عوام میں آنا پڑا ہے۔ گزشتہ دنوں پیپلزپارٹی کی جانب کراچی سے لاڑکانہ کاروان بھٹو کا اہتمام کیا گیا۔ ٹرین کے دو دن سفر کے دوران بلاول بھٹو نے مختلف اسٹیشنز پر جیالوں سے خطاب کیا۔ اُن کی تقریریں زیادہ تر وفاق کیخلاف تھیں۔ عمران خان کی بہن علیمہ خان کو اُنہوں نے یہ کہتے ہوئے نشانہ بنایا کہ صادق اور امین ، بس ایک سلائی مشین۔ دوسرے لفظوں میں اگر ہمارا احتساب کیا جا رہا ہے تو وزیراعظم اپنے گریبان میں بھی جھانکیں۔ لیکن عوام بھی یہ سوال کر رہے ہیں کہ 10 سال تک سندھ پر بلا شرکت غیرے حکومت کرنے والی جماعت کو اب عوام کی پسماندگی کیوں ستا رہی ہے؟

ن لیگ حکومت کیلئے درد سر اور تحریک انصاف حکومت کو ابتدائی دنوں میں ٹف ٹائم دینے والی مذہبی جماعت تحریک لبیک بھی ٹھس ہوچکی ہے۔ تحریک کے سربراہ مولانا خادم رضوی سمیت مرکزی رہنما جیلوں میں ہیں جبکہ 3 ہزار کے قریب کارکن مقدمات بھگت رہے ہیں۔ ایک اور مذہبی جماعت جماعت اسلامی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے جبکہ مذہبی جماعتوں کا اتحاد ایم ایم اے اُسی پر راضی ہے جو اس وقت اُس کے پاس ہے۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عوام کیلئے کون آواز اُٹھائے گا جو مہنگائی کی چکی میں بُری طرح پس چکے ہیں ۔ ڈالر کنٹرول میں نہیں آرہا، غربت اور بیروزگاری دن بدن بڑھتی جا رہی ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں میں پھر اضافہ ہوگیاہے۔ عوام یہ سوچ کر صبر کیے بیٹھے ہیں کہ نئی حکومت ہے، اسے وقت ملنا چاہئے لیکن جیسے جیسے دن گزرتے جائیں گے، حکومت کے پاس یہ جواز بھی ختم ہوتا چلا جائے گا۔ اسی لیے جو کرنا ہے جلدی کریں ، آپ کی ناقص کارکردگی دم توڑتی اپوزیشن کو خون فراہم کر رہی ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہی اپوزیشن اتنی توانا ہو جائے کہ آپ کیلئے حکومت کرنا مشکل ہو جائے۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں