ہوم   >  بلاگز

قانون آپ کو آن لائن ہراسانی سے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے

8 months ago

آج کے دور میں ہمارا اسمارٹ فون پر انحصار اس قدر بڑھ گیا ہے کہ اس کے بغیر گزارہ مشکل ہے مگر اس کے ساتھ ہی آن لائن ہراسانی میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان میں جب تعلق ٹوٹ جاتا ہے تو ایک پارٹنر مشتعل ہوکر آن لائن ہراسانی اور دھمکیوں پر اتر آتا ہے۔

چونکہ ہمارا معاشرہ غیر شادی شدہ خواتین کےساتھ تعلقات کو بری نظر سے دیکھتا ہے اس لیے خواتین تعلق ٹوٹنے کے بعد خاندان کے غیض و غضب کا خطرہ مولنے کے بجائے ہراساں کرنے والے کے دباؤ میں آجاتی ہیں۔ خواتین سمیت وہ تمام لوگ جو آن لائن ہراسانی کا شکار ہوتے ہیں، ان کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس عذاب سے بچنے کے لیے قوانین موجود ہیں اور ان قوانین کو ہلکا مت سمجھیں۔

الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016

الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کے تحت غیر قانونی یا بغیر مرضی کے کسی کی معلومات یا ڈیٹا تک رسائی، نفرت انگیز مواد، الیکٹرانک جعل سازی، الیکٹرانک فراڈ، شاخت کی چوری، قانونی تقاضوں کے برخلاف سِم کارڈ جاری کرنے اور سائبر دہشت گردی کی سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔

سائبر دہشت گردی میں ’ایسی جھوٹی معلومات یا افواہ پھیلانا جو دہشت گردانہ سرگرمیوں سے متعلق ہوں اور جس کی وجہ سے معاشرے میں خوف پیدا ہو، یا معاشرے کے کسی ایک خاص طبقے کو ایسا بنا کر پیش کرنا کہ وہ دہشت گرد ثابت ہوں، سائبر دہشت گردی شمار ہوتی ہے‘۔

اس ایکٹ میں کمپیوٹر سمیت دیگر الیکٹرانک آلات کو وائرس کے ذریعے نقصان پہنچانے، کسی کو مسلسل غیر ضروری پیغامات بھیجنے اور غیر مستند معلومات کسی کو مستند بنا کر بھیجنے سے متعلق جرائم کی سزاؤں کا بھی تعین کیا گیا ہے۔

الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کا ایک مکمل سیکشن (21) ذاتی تصاویر کی شیئرنگ سے متعلق ہے اور اس قانون کے تحت بچوں کو بھی تحفظ دیا گیا ہے جس کے تحت بچوں کو جنسی افعال میں ملوث کرنے والے ملزمان کو سزا دی جاتی ہے۔

اس ایکٹ پر عمل درآمد کا طریقہ کار یہ ہے کہ سب سے پہلے نیشنل رسپانس سینٹر فار سائبر کرائم ( ایف آئی اے) کو شکایت درج کرائی جاتی ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے بعد جب ملزم کی شناخت ہوتی ہے تو عدالتی کارروائی شروع ہوجاتی ہے اور اس کے بعد سزائیں سنائی جاتی ہیں۔ اس کی سزا چند ماہ جیل اور ایک لاکھ روپے جرمانہ سے شروع ہوکر 20 سال قید اور ایک کروڑ روپے جرمانہ تک ممکن ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس قانون کے تحت شکایت کرنے والے کی شناخت صیغہ راز میں رکھی جاتی ہے۔

کام کے مقامات پر ہراسانی کی روک تھام کا قانون

دفاتر اور دیگر کام کے مقامات پر خواتین کو ہراسانی سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے 2010 میں ایکٹ منظور ہوا۔ اس ایکٹ کے تحت ’ کوئی بھی ناخوشگوار جنسی تعلق کی درخواست چاہے وہ زبانی ہو، تحریری ہو یا عملی اقدام، یا ایسا جنسی رویہ جو تذلیل کا سبب بنے، کام کی انجام دہی میں مداخلت کا سبب بنے، مخالفانہ یا خطرناک ماحول پیدا کرے۔ فرمائش پوری نہ کرنے پر اس کو سزا دینے کی کوشش کرنا، یا ملازمت سے نکالنے کی دھمکی دینا ہراسانی کے زمرے میں آتے ہیں۔

اگر کوئی ایسی حرکات کرے تو متعلقہ ادارہ تین رکنی کمیٹی تشکیل دے گا جس میں تین اراکین میں سے ایک لازمی طور پر عورت ہوگی۔ ایک سینیئر رکن انتظامیہ سے ہوگا اور جہاں ملازمین کی یونین نہ ہو تو کوئی سینیئر ملازم شامل ہوگا۔

جرم ثابت ہونے پر اس کی نوعیت معمولی ہوئی تو سزا بھی معمولی نوعیت کی ہوگی جس میں شکایت کنندہ کو معاوضہ کی ادائیگی یا مجرم کے ایگریمنٹ کی واپسی شامل ہے۔ اگر جرم کی نوعیت بڑی ہو تو پھر بھاری جرمانہ، نوکری سے نکالنا اور تمام مراعات واپس لینا جیسی سزائیں دی جاتی ہیں۔ خواتین اگر ادارے کی تحقیقاتی کمیٹی سے مطمئن نہ ہوں تو براہ راست محتسب کو بھی درخواست دے سکتی ہیں۔

ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن

یہ این جی او 2012 سے لوگوں کو آن لائن فورمز، خاص طور پر سوشل میڈیا پر تحفظ فراہم کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔ اس کے پاس آن لائن حقوق سے متعلق تمام قوانین کی پی ڈی ایف فائلیں موجود ہیں۔ ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن نے 2016 میں سائبر ہراسمنٹ ہیلپ لائن بھی قائم کی جس کو ہر ماہ 90 کے لگ بھگ شکایتیں کال موصول ہوتی ہیں جس میں مرد و خواتین دونوں شامل ہیں۔ ان کے دفاتر میں صبح 9 سے 5 بجے تک کال کرسکتے ہیں نیچے ان کا فون نمبر اور ای میل ایڈریس درج ہے۔

 0800-39393 ہیلپ لائن

ای میل ایڈریس: helpdesk@digitalrightsfoundation.pk

ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نگہت داد ہیں جو اس سال عورت مارچ کی منتظمین میں بھی شامل ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ خواتین اور مردوں کو آن لائن ہراسمنٹ سے بچنے کے لیے قوانین کا علم ہونا نہایت ضروری ہے۔

بدقسمتی سے اعداد و شمار کے مطابق ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی ہیلپ لائن کو موصول ہونے والی زیادہ شکایات خواتین کی ہیں۔ گزشتہ برس کی شکایات میں 59 فیصد خواتین کی تھیں۔

اگر آپ کو ہراسانی کا سامنا ہے تو شکایت درج کروائیں۔ اگر آپ نے تعلق کے دوران اپنی مرضی سے تصاویر بھیجی ہیں تو آپ نے کچھ بھی غلط نہیں کیا۔ تعلق ختم ہونے کے بعد بھی قانون آپ کو ان تصاویر کے تحفظ کا حق دیتا ہے۔ آپ قانون استعمال کرکے ان کی حفاظت یقینی بنائیں۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں