ہوم   > Latest

صدر مملکت کے سامنے رکھے گلاس بار بار کیوں تبدیل کیے گیے

SAMAA | - Posted: Feb 26, 2019 | Last Updated: 1 year ago
Posted: Feb 26, 2019 | Last Updated: 1 year ago

حکومت میں آنے سے قبل ہر جماعت کی جانب سے بلند و بانگ دعوے کیے جاتے ہیں تاہم اقتدار کی کرسی ملتے ہی طاقت اور پروٹوکول کے نشے میں وہ تمام دعوے ہوا ہو جاتے ہیں۔

مجھے اب بھی اچھی طرح یاد ہے کہ خان صاحب نے حکومت میں آنے سے قبل بار بار یہ بات دہرائی تھی کہ وہ ملک سے پروٹوکول کلچر کا صفایا چاہتے ہیں، وہ بشمول اپنی کابینہ اور پارٹی رہنماؤں کے کسی کو پروٹوکول کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے تاہم میڈیا کانفرنس کے دوران ہم نے اپنی آنکھوں سے ان دعوؤں کو ہوا ہوتے دیکھا۔

اسلام آباد کی بحریہ یونیورسٹی میں ہونے والی دو روزہ کانفرنس کے پہلے دن ایسا شاہانہ پروٹوکول دیکھنے کو ملا کہ ہم دنگ رہ گئے، پہلے روز کے آغاز پر صدر مملکت عارف علوی بطور مہمان خصوصی مدعو تھے۔

اس شایان شان پروٹوکول اور انتظامات کو دیکھ کر بخدا یہ فقرے منہ سے نکلے کہ “کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے۔ رستم کا جگر زیر کفن کانپ رہا ہے۔ ہر قصر سلاطین زمن کانپ رہا ہے۔ سب ایک طرف چرخ کہن کانپ رہا ہے”۔

خاص مہمان کی خاص آمد کو اتنا خاص رکھا گیا کہ یونیورسٹی پہنچنے پر معلوم ہوا کہ صدر کے خطاب کے دوران احتیاط کیلئے آڈیٹوریم میں کوئی چیز ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں ہوگی، مرتے کیا نہ کرتے کے مترادف سامان جمع کرانا تھا، تاہم مسئلہ یہ تھا کہ کہاں اور کس کے پاس، اللہ اللہ کرکے ایک آرگنازئزر نے تعاون کا ہاتھ آگے بڑھایا اور ہم نے اپنا کیمرا، موبائل اور بیگ ان کے حوالے کردیا۔

ہال میں داخل ہوئے تو ہر طرف چاق و چوبند انٹیلی جنس افسروں کو دوڑتے بھاگتے دیکھا، صدر کی حفاظت کا یہ حال تھا کہ کوریج کیلئے موجود فوٹو گرافرز کو یہ تک کہا گیا کہ وہ کیمرے میں کسی صورت فلیش استعمال نہ کریں۔

صدر کیلئے لمبی چوڑی میز پر رکھے گلاسوں کو دو بار تبدیل کیا گیا، صرف یہ ہی نہیں سیل لگی منرل واٹر کی بوتلیں بھی دو بار تبدیل کرائی گئیں، ان تبدیلیوں کے بعد سیکیورٹی پر مامور اہل کاروں نے بذات خود فرداً فرداً چیزوں کو چیک کیا۔

صدر کی آمد سے ٹھیک 10 منٹ قبل سیکیورٹی اہل کاروں نے ہر قطار کا خود جا جا کر معائنہ کیا اور پھر اس کے بعد عالی جاہ عزت مآب صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی آمد کا اعلان اور شایان شان استقبال کیا گیا، خاص مہمان کے ہمراہ بحریہ یونیورسٹی کے نگران سمیت دیگر مہمان بھی موجود تھے۔

تقریب سے صدر نے اپنی روایتی انداز میں خوش گپیوں کے ساتھ خطاب کیا۔ پورے خطاب کے دوران سیکیورٹی اہل کار صدر کو حصار میں رکھے رہے، اہل کاروں کی الرٹس کو دیکھ کر سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ یہ سانس بھی لیتے ہیں یا نہیں۔

اللہ اللہ کرکے خطاب ختم ہوا اور صدر جس شان سے تشریف لائے، اسی شان سے واپس روانہ ہوئے، دل کی تسلی کیلئے کہ اب کوئی پروٹوکول زدہ خطاب سننے کو نہیں ملے گا ہم اپنا سامان وصول کرنے جا ہی رہے تھے کہ تمام جانب سے یہ اعلان ہونے لگا جو جہاں ہے وہیں رک جائے، راہداری میں موجود افراد کو اندر رہنے کی ہدایات جاری ہونے لگیں، ہم تو گویا یہ سمجھے شاید اچانک مارشل لاء لگ گیا ہے مگر بات اس وقت سمجھ آئی جب بادشاہ سلامت اپنے پروٹوکول کے ہمراہ یونیورسٹی کو الوادع کہتے ایوان صدارت کی جانب رواں دواں ہونے لگے۔

یہ شان اور یہ شوکت دیکھ کر بار بار وہ منظر آنکھوں کے سامنے سے گزرنے لگا جب خان صاحب نے بڑے معصومانہ انداز میں کہا تھا کہ اب کوئی وزیر، کوئی لیڈر 10، 20 گاڑیوں میں سفر نہیں کرے گا اور کسی کیلئے عوام کا راستہ نہیں روکا جائے گا، مگر وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہوجائے، خاص کر حکمرانوں کا کیا ہوا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube