پلوامہ حملہ، وزیراعظم کا ردعمل اور جنگ کے امکانات

February 20, 2019

کشمیر کے ضلع پلوامہ میں حملے کے تناظر میں سب سے پہلے وزیر اعظم کے بیان کی بات ہوجائے ۔ دیکھا جائے تو عمران خان نے انتہائی جاندار ویڈیو بیان جاری کیا ہے، ہمارے وزیراعظم کی جانب سے ایسا ہی بیان جانا چاہئے تھا، یہ بیان ایسا تھا کہ ہمارے ہمسائے کو بھی ’مرچیں‘ لگی ہیں۔ میری نظر میں یہ ایک بیلنس ردعمل تھا۔ کیسے؟ وزیراعظم نے ٹو دی پوائنٹ بات کی کہ کراؤن پرنس کی آمد پر ہماری جانب سے ایسی احمقانہ حرکت کیونکر کی جاتی؟، اس سے پاکستان کو کیا فائدہ حاصل ہونا تھا؟، پاکستان نے خود ایک طویل عرصہ جنگ لڑی ہے اور کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے اس خطرے کا اظہار بھی کیا کہ بھارت میں الیکشن کے موقع پر پاکستان مخالف بیانیہ کافی ہٹ ہوتا ہے۔ وزیر اعظم نے 6 منٹ کی ویڈیو کے آخر میں جس سفارتی طریقے سے جواب دیا، اُس نے دل خوش کر دیا ہے۔ وزیر اعظم نے صاف کہا ہے کہ اگر بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو پاکستان جواب دینے کا سوچے گا نہیں بلکہ فوری جواب دے گا، ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی اور آپشن نہیں ہوگا۔ جنگ شروع کرنا انسان کے بس کی بات ہوتی ہے لیکن اس کا اختتام انسان کے بس کی بات نہیں ہے، اگر جنگ شروع ہوتی ہے تو پھر اللہ ہی جانے کے یہ بات کہاں تک جاتی ہے۔

ضیاء کے دور کی بات ہے، ہمارے ہمسائے کو نہ جانے کیا سوجھی، اُس وقت اِس میں اتنا تعصب نہیں تھا لہٰذا کرکٹ ٹیمیں دورے پر موجود تھیں، صدر ضیاء بتائے بغیر صرف چند گھنٹوں کے نوٹس پر بھارت پہنچ گئے، بھارت نے کافی ٹھنڈا ماٹھا سا استقبال کیا اور سیکنڈ گریڈ آفیسرز کے ساتھ صدر صاحب کو میچ دیکھنے بھیج دیا، میچ کے بعد جب صدر صاحب واپس جانے لگے تو اُنہوں نے انڈین وزیر کے کان میں آہستہ سے کہا کہ اگر آپ جنگ شروع کرنا چاہتے ہیں تو ضرور کیجئے، لیکن یہ یاد رکھیں کہ یہ ایک نیو کلئیر جنگ ہوگی، عین ممکن ہے کہ اس جنگ میں پاکستان مکمل طور پر تباہ ہو جائے، لیکن دنیا میں اسلام باقی رہے گا لیکن یہ بات طے ہے کہ اس جنگ میں بھارت مکمل طور پر ختم ہوجائے گا اور ساتھ ہی ہندو مت بھی تاریخ کا حصہ بن جائے گا، اُس کے بعد دنیا صرف ہم دونوں کے نام یاد رکھے گی، مجھے اُمید ہے کہ میرے پاکستان پہنچنے سے پہلے آپ اپنی فوجیں سرحدوں سے ہٹالیں گے۔ تاریخ کہتی ہے کہ بھارت نے اُسی وقت اپنی فوجیں واپس بلالی تھیں۔

سوال یہ بھی ہے، کیا اس خطے میں فل اسکیل وار کے امکانات ہیں؟، بظاہر دیکھیں تو 99 فیصد امکانات نہیں ہیں، اُس کی کچھ وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ معیشت ہے، بھارت ایک ارب سے زائد نفوس کی منڈی ہے اور پاکستان 22 کروڑ افراد پر مشتمل ہے، اس خطے میں پوری دنیا کا سامان آتا ہے اور یہاں سے پوری دنیا میں سامان بھی جاتا ہے، ہنر مند افراد کی کھیپ بھی اِن ہی ممالک میں پائی جاتی ہے۔ لہٰذا کوئی بھی مہم جوئی پوری دنیا کی معیشت پر ٹھیک ٹھاک اثر انداز ہوسکتی ہے۔ دوسری وجہ فوجی طاقت اور توازن ہے۔ پاکستان بھارت سے حجم میں کافی چھوٹا ہے لیکن بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق پاکستان کے پاس کئی معاملات میں فوجی برتری موجود ہے، اس بات کا ادراک بھارت کو بھی ہے، پاکستان کی فوج ایک دہائی سے زائد عرصے سے آن گراؤنڈ موجود ہے لہٰذا انڈیا اس وقت بھی فل اسکیل وار کی جانب نہیں جاسکتا۔ تیسری سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ دونوں ممالک ایٹمی طاقت ہیں اور دنیا اس وقت جس موڑ پر کھڑی ہے، وہ اس خطے میں کوئی بھی نیوکلیئر جنگ افورڈ نہیں کرسکتی۔ چین، روس سمیت کوئی بھی ملک اپنے ہمسائے میں جنگ نہیں چاہے گا، یہ وجوہات ہیں جن کے باعث فل اسکیل وار کے امکانات ختم ہوچکے ہیں البتہ سرحدوں پر محاذ گرم ہوتا رہے گا۔

موجودہ صورتحال بظاہر بھارت میں الیکشن کی حد تک ہی ہے، الیکشن کے بعد حالات آہستہ آہستہ سازگار ہوتے جائیں گے، تجارتی پابندیاں دونوں ممالک ہی عائد کریں گے، کچھ سرکاری بھی ہوسکتی ہیں لیکن زیادہ تر پابندیاں ایسوسی ایشنز لگائیں گی، بھارتی فنکار بھی دیش بھگتی کا منجن بیچیں گے کیونکہ اُن کی مجبوری ہے کہ اُنہوں نے بھی مودی کے متعصب بھارت میں ہی زندہ رہنا اور کاروبار کرنا ہے۔ حالات بدلیں گے تو یہی فنکار ہمارے فنکاروں کی منتیں کرتے نظر آئیں گے جیسے کہ ماضی میں راحت صاحب، عاطف اسلم وغیرہ سے منتیں کرکے شو اور گانوں کی تاریخیں لی جاتی رہی ہیں۔ فی الحال تو وزیراعظم عمران خان نے نہلے پر دہلا مار کر بھارت کو بیک فٹ پر بھیج دیا ہے۔

سرحدوں پر جو یہ تناؤ آگیا ہے

لگتا ہے بھارت میں چناؤ آگیا ہے