ہوم   >  بلاگز

میڈیا کے حالات،پابندیاں اور فلم انڈسٹری

9 months ago

 

کسی بھی ترقی یافتہ ملک میں میڈیا ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے  بلکہ مقننہ، عدلیہ  اورانتظامیہ کے ساتھ  میڈیا کو ریاست کا چوتھا ستون بھی تصور کیا جاتا ہے۔  بہت سے ممالک کی بڑی بڑی تحریکیں خود میڈیا نے ہی چلائیں اور انقلاب برپا کیے۔ تحریک پاکستان میں میڈیا کا کردار اور کامیابی کی شکل مملکت خداداد پاکستان کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ۔ ایک ایسی تحریک جس نے اُس وقت کی بڑی طاقت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا اور نتیجے میں پاکستان اور انڈیا کا وجود دنیا کے نقشے پر ابھرا-

حالیہ تحریکوں کی بات کریں تو عدلیہ بحالی کی تحریک سے لے کر ملک میں جمہوریت کی بحالی تک میڈیا نے کلیدی کردار ادا کیا۔ اگر ہم پاکستان کی تحریک کا مطالعہ کریں تو مارشل لاء کے ادوار میں صحافت کو دبایا گیا اور آزادی اظہار پر قدغن لگائی گئیں ۔ اس کے برعکس جمہوری حکومتوں میں ایسا کم ہوا۔ بلکہ کافی حد تک میڈیا کو آزادی ملی۔ امریکہ پر ہونے والا دہشت گردوں کا حملہ جسے دنیا نائین الیون کے نام سے یاد کرتی ہے، اس حملے کے بعد ہونے والی افغان جنگ نے میڈیا کے کردار کو مزید اُبھارا اور دنیا یہ کہنے پر مجبور ہو گئی کہ اب جنگیں بھی میڈیا کے ذریعے ہی لڑی جائیں گی اور پھر ایسا ہی ہوا۔ افغان جنگ میں الجزیرہ ، بی بی سی اور سی این این ابھر کر سامنے آئے۔ ہمسایہ ملک بھارت یہ بات بہت پہلے سمجھ چکا تھا کہ انٹرنیشنل سطح پر اپنے موقف کو پیش کرنے اور تائید حاصل کرنے کیلئے موثر میڈیا وقت کی ضرورت ہے۔ اس کے دو فائدے ہیں ایک تو آپ اپنی آواز موثرانداز میں پوری دنیا تک پہنچا سکتے ہیں ،دوسرا آپ اپنی انڈسٹری کا تشہیری بجٹ اپنے ہی ملک کے میڈیا ہاؤسز کو دلوا سکتے ہیں اور آپ کے ملک کے لاکھوں شہری بھی بہتر روزگار حاصل کر سکتے ہیں۔ اسی لیے بہت سے ممالک تو اپنے مملک کے میڈیا ہاؤسز کو سبسڈی بھی دیتے ہیں ۔ پاکستان کے عوام اور صحافیوں نے اُس وقت اظہار تشکر کیا جب ایک آرمی ڈکٹیٹر جنرل مشرف کو یہ بات سمجھ میں آئی اور اُس نے پاکستان میں نا صرف پرائیویٹ ٹی وی چینلز کو لائیسنس جاری کرنے کا فیصلہ کیا بلکہ کراس میڈیا لائسنس بھی کھول دیے گئے جس سے پہلے سے موجود اخبارات نے بھی لائسنس حاصل کیے اور دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان میں بھی چینلز کی تعداد 100 تک پہنچ گئی۔

 ان ٹی وی چینلز میں جہاں ہزاروں پاکستانیوں کو روزگار میسر آیا وہیں پاکستان میں موجود بڑی کمپنیاں جو اپنا اشتہارات کا بجٹ پاکستان سے باہر چینلز کو دیتی تھیں پاکستانی چینلز کو دینے لگیں ۔ پاکستان کے حالات اور معیشت کو جب ٹی وی چینلز نے دکھانا شروع کیا تو دنیا بھر سے بڑی کمپنیاں کاروبار کی غرض سے پاکستان آئیں اور معیشت بہتری کی طرف گامزن ہونے لگی۔ جنرل مشرف نے ٹی وی چینلز کو لائسنس تو جاری کر دیے لیکن لائسنس جاری کرنے والی اتھارٹی پیمرا اتنا ہی طاقت ورادارہ تھا جتنا اس ملک میں با اختیار اور امیر آدمی کے سامنے پولیس کا ادارہ ہے۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ ادارے ریگولیٹری اتھارٹی سے بڑے ہو گئے اور اداروں میں کام کرنے والے صحافی اور ٹی وی اینکر عوام کی طرف سے پزیرائی ملنے کی وجہ سے اداروں سے بھی بڑے ہو گئے۔ پیمرا جو ایک ہومیوپیتھک دوا کی طرح کام کر رہا تھا اختیارات سے تجاوز پر فورا ایکشن نہ لے سکا ۔ جس کا نقصان یہ ہوا کہ کچھ افراد اپنے مقصد سے ہٹ گئے اور نمبر ون کی دوڑ شروع ہوگئی۔

 نمبروں کی اس دوڑ کو چیک کرنے کیلئے جو ریٹنگ سسٹم بنایا گیا، اُس پر خود سپریم کورٹ سوالیہ نشان اُٹھا چکی ہے۔ پورے پاکستان میں کچھ شہروں میں چند سو میٹر لگا کر ریٹنگ اکھٹی کی جارہی ہے پھر اُس ریٹنگ کو پورے پاکستان کی نمائندہ ریٹنگ بتایا جاتا ہے۔ یہ کیسا ریٹنگ سسٹم ہے جو صرف جرائم کی خبروں اور سیاستدانوں کی لڑائی اور گالم گلوچ ہی پسند کرتا ہے۔ پیمرا یہاں بھی بے اختیار رہا۔ عدلیہ بحالی تحریک کی کامیابی اور 2008 میں جمہوریت کی بحالی کے بعد جنرل مشرف کو میڈیا اور جمہوری قوتوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے اور اُسے اقتدار چھوڑنا پڑا ۔ جمہوریت بحال ہو چکی تھی میڈیا آزاد تھا لیکن ریگولٹری اتھارٹی کمزور رہی۔ 2008 کے بعد 2013 میں بھی ایک جمہوری حکومت نے اقتدار سنبھال لیا۔ میڈیا اور عوام کو لگنے لگا کہ جمہوریت تو بحال ہو چکی ہے اس کو اب مزید بہتری کی طرف لے کر جایا جائے۔ موجودہ حکومت کی ابتدا میں ہی میڈیا کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کردیا گیا، پہلے سرکاری اشتہار بند کیے گئے پھر سرکاری اشتہار کا ریٹ کم کیا گیا اور پھر میڈیا کو بدنام کرنے کیلئے باقاعدہ مہم شروع کر دی گئی ۔ موجودہ دور میں میڈیا کو گندہ کرنے کا طریقہ کار بالکل ویسا ہی ہے جس طرح 1980 کے آمر جنرل ضیاءالحق کے دور حکومت میں پاکستان کی فلم انڈسٹری کو گندا کیا گیا تھا۔

 اگر اُس دور کے اخبارات کا جائزہ لیا جائے یا جنرل ضیاء کے دور میں رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے انٹرویو کیے جائیں تو وہ بتائیں گے کہ اُس دور میں بھی ایسی ہی تشہیری مہمات شروع کی گئیں تھیں کہ صرف فلم انڈسٹری ہی گندی نہیں ہے بلکہ فلم انڈسٹری میں کام کرنے والے اور فلم دیکھنے والے بھی گندے لوگ ہی ہوتے ہیں۔ اُس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہماری فلم انڈسٹری جو 1970 یا 80 کی دہائی تک ہمسایہ ملک کے ساتھ مقابلے میں کہیں آگے تھی تباہ و بربادی کا شکار ہو گئی۔ اسٹوڈیو ویران ہوگئے، لوگ روزگار ہوگئے، فلمیں لکھنے والے ناپید ہو گئے اور وی سی آر کلچر عام ہوگیا۔ ایک بڑانقصان یہ ہوا کہ عوام کی جس تفریح کو فُحش کہ کر ختم کیا گیا اس کی جگہ انڈین فلموں نے لے لی اور ہم پیغام پھیلانے والے سب سے بڑے ذریعے سے محروم ہو گئے۔ آج 40 سال گزر جانے کے باوجود ہماری فلم انڈسٹری بحال نہیں ہو سکی۔ 2018 اور 2019 میں بھی کچھ ادارے اور افراد لگتا ہے 1980 کی طرح  کسی مہم پر کام کر ریے ہیں ۔ بائی کارٹ نیگٹیو میڈیا ہیش ٹیگ یا سوشل میڈیا پر پاکستانی ٹی وی چینلز اور میڈیا ہاؤسز کے خلاف بڑے منظم اندازمیں پروپیگنڈا چل رہا ہے۔ حالات یہاں تک آپہنچے ہیں کہ سڑک پر کھڑا رپورٹر جو اکثر اپنی جان خطرے میں ڈال کر خبریں اکھٹی کرتا ہے اگر اپنی کیمرے کے سامنے رپورٹ پیش کر رہا ہو تو ساتھ سے گررنے والا راہگیر ریمارکس پاس کرتا ہے کہ کبھی سچ بھی بول لیا کرو- میڈیا تو ہے ہی نیگٹو۔ آخر وہ کون ہے جو عوام میں غیر محسوس لیکن منظم طریقے سے میڈیا کے خلاف نفرت کو اُبھار رہا ہے۔ اُس کی پہچان ہمیں کرنا ہوگی ورنہ 40 سال پہلے اپنی فلم انڈسٹری کو برباد کرنے کا بیج بو کر جو نقصان ہم آج تک کاٹ رہے ہیں کہیں خدانخواستہ وہی نقصان ہمیں آنے والے سالوں میں میڈیا کو نقصان پہنچا کر نہ اُٹھانا پڑے۔ ہاں اگر کچھ طاقت ور ادارے یہ سمجھتے ہیں کہ میڈیا کی سمت ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے توریگولیٹری اتھارٹی کو با اختیار کریں تاکہ وہ قوانین ہر عمل درآمد کرواسکے اور بہتر ریٹنگ سسٹم متعارف کروایا جائے تاکہ مثبت پروگرام پروڈیوس کیے جا سکیں نا کہ آپ اپنی ہی ریاست کے ایک ستون کو ہی گرا دیں۔ میڈیا انڈسٹری سے لاکھوں پاکستانیوں کا روزگار وابستہ ہے اور اس سے بڑھ کر یہ کہ موجودہ دور میں جنگیں میڈیا اور سوشل میڈیا پر ہی لڑی جا رہی ہیں  اور ہر ملک میں میڈیا ایک قومی ہتھیار کی شکل اختیار کر گیا ہے، ہم کیسے عقل مند ہیں کہ اپنے ہی ہتھیار کو نقصان پہنچانے کے در پر ہیں ۔

 تمام ممالک اپنے بڑے اداروں کو سبسڈی دیتے ہیں- اگر سرکاری اشتہارات کی شکل میں میڈیا انڈسٹری کو سبسڈی دی جارہی تھی تو وہ جاری رہنی چاہیے۔ ارباب اختیار کو ذہن نشین کر لینا چاہیئے کہ کسی بھی معاشرے اور ملک کی ترقی میں آزاد میڈیا کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے جو تنقید بہتری کیلئے کرتا ہے اس کو ذاتی انا بنا کر اپنی ہی ریاست کو کمزور کرنا کہاں کی عقلمندی ہے۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں