کیا ایسی ہوتی ہے ماں جیسی ریاست ؟

February 6, 2019

پاکستان میں ماورائے عدالتی قتل کوئی نئی یا اچھنبے کی بات نہیں۔ ملکی تاریخ پر نظر دوڑایں تو ماورائے عدالت ہونے والی ہلاکتوں یا جعلی انکاؤنٹر میں مارے جانے والے بے قصور انسانوں کی فہرست خاصی طویل ہے۔ سال 2018 میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد یہ تاثر لیا جا رہا تھا کہ خیبر پختونخوا کی پولیس کی مثال دینے والے دیگر صوبوں میں بھی پولیس اصلاحات کا نفاذ عمل میں لائیں گے اور اس ابتر ادارے کی حالت زار کو بھی بہتر بنائیں گے، مگر غضب ہو مالی مشکلات کا کہ حکومت قرضہ لینے اور قیمتوں کے تعین میں ایسی غرق ہوئی کہ اہم اداروں کی اصلاحات کی جانب توجہ ہی مبذول نہ کرائی جا سکی۔

خان صاحب نے قوم کے نام اپنے پہلے خطاب میں بارہا ایک ایسی مثالی ریاست کا نقشہ کھینچا تھا کہ لوگ فرطِ جذبات سے رو پڑے اور خواب دیکھنا شروع ہوگئے۔ ایک ایسی مثالی ریاست جس میں غریب اور امیر برابر اور کوئی مظلوم نہ ہوگا۔ خان صاحب کے بقول ریاست حقیقتا ایک ماں کا کردار ادا کرے گی اور اس کیلئے روز اول سے کوششیں شروع کی جائیں گی۔ قصہ مختصر خان صاحب حکومت میں آگئے اور روزِ اول سے اصلاحات اور ترجیحات کا تعین بھی ہونے لگا مگر افسوس کہ پولیس جیسے اہم محکمہ پر توجہ نہ دی جاسکی، جہاں بے لگام پولیس افسران کو فوری لگام کی ضرورت تھی۔

ریاست کو ماں جیسا بنانا تو دور کی بات، اتنے عرصے میں یہ ریاست اپنا اصل مفہوم بھی نہ سمجھ سکی۔ وہ ریاست جس کے آنگن کو ماں کی گود کی طرح ٹھنڈا اور پرسکون ہونا تھا، اس ریاست کی گلیاں ماروائے عدالتی قتل سے رنگین اور گرم ہوتی رہیں۔

پولیس کے محکمے کی نوازشیں ہیں کہ ایک جاری کردہ رپورٹ کے مطابق سال 2018 میں ایک ہزار سے زائد افراد کو ماروائے عدالت قتل کیا گیا، تاہم یہ اعداد و شمار حقیقت سے کہیں زیادہ کم ہیں۔ بڑی تعداد میں ایسے واقعات نہ منظر عام پر آتے ہیں اور نہ ہی کوئی ان کے خلاف آواز اٹھانے کی جسارت کرپاتا ہے۔ ذیل میں ایسے ہی چیدہ چیدہ اور اہم ماروائے عدالت واقعات کا احوال آپ کی یادداشت کیلئے پیش کیا گیا ہے۔

خروٹ آباد سانحہ

سترہ مئی سال 2011 میں بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایف سی اہلکاروں نے 5 نہتے افراد کو گولیوں کا نشانہ بنا کر قتل کیا۔ ابتدا میں واقعہ سامنے آنے پر ایف سی افسران کا کہنا تھا کہ پانچوں افراد غیر ملکی اور خودکش حملہ آور تھے۔ بعد ازاں شدید تنقید پر خروٹ آباد سانحہ سے متعلق ہائی کورٹ کے خصوصی ٹریبونل نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا اور ذمہ داری پولیس اور فرنٹیئرکور کے اہلکاروں پر عائد کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے ان کے خلاف کاروائی کرنے کی سفارش کی۔ واقعات سے متعلق 100 صفحات پر مشتمل رپورٹ تیار کی گئی۔ اس وقت کے وزیراعلی نواب اسلم رائیسانی کا کہنا تھا کہ رپورٹ کو خفیہ رکھنے اور منظر عام پر نہ لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دکھ کی بات یہ کہ یہ تمام افراد نہتے تھے اور ان میں 3 خواتین اور 2 مرد شامل تھے، جب کہ ایک خاتون حاملہ تھیں۔

باغ ابن قاسم میں رینجرز کے ہاتھوں نوجوان کی ہلاکت

جون سال 2011 میں ایک اور دلخراش سانحہ رونما ہوا، جب کراچی کے علاقے باغ ابن قاسم نے رینجرز اہلکاروں نے موبائل فون چھننے کے الزام میں ایک نوجوان کو دن دیہاڑے گولیاں مار کر قتل کردیا۔ واقعہ سامنے آنے پر رینجرز کے 6 اہل کاروں کو ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دیا گیا۔ ابتداء میں رینجرز اہلکاروں کی جانب سے الزام لگایا گیا کہ نوجوان سرفراز جرائم پیشہ ہے اور مختلف وارداتوں میں ملوث رہا ہے، تاہم اہل خانہ کی جانب سے ان تمام الزامات کی تردید کی گئی۔ مختلف ٹی وی چینلز پر بار بار سانحہ کی سی سی ٹی وی ویڈیو چلائی گئی، جس میں نوجوان سرفراز رینجرز اہل کاروں کے سامنے ہاتھ جوڑ کر اپنی زندگی کی بھیک مانگ رہا تھا، تاہم اہل کاروں کو اس پر ترس نہ آیا اور ایک اہل کار نے اپنی بندوں اس کی گردن پر تان لی، بعد ازاں اسی اہل کار نے اس کے بازوؤں اور ران پر گولیاں چلائیں اور اسے سسک سسک کر مرنے کیلئے وہیں چھوڑ دیا گیا۔

ماڈل ٹاؤن سانحہ

جون سال 2014 میں انتخابات کے نتائج سے انکار کرنے کے بعد پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر علامہ طاہر القادری نے حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور وطن واپسی پر سخت لائحہ عمل اور احتجاج کا اعلان کیا۔ سترہ جون 2014 کو لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ کے سامنے قائم تجاوزات کو ختم کرنے کے لیے آپریشن کیا گیا۔ پی اے ٹی کے کارکنوں کی مزاحمت اور پولیس آپریشن کے نتیجے میں 14 افراد جاں بحق، جب کہ 90 زخمی ہوئے۔ واقعے کا مقدمہ اسی روز درج کیا گیا، تاہم اس کا تمام ملبہ پاکستان عوامی تحریک پر ڈالا گیا۔ واقعے پر جوڈیشل کمیشن بھی بنایا گیا۔ واقعے کے نتیجے میں رانا ثناء اللہ کو عہدے سے ہاتھ دھونا پڑا۔ اس اہم سانحہ میں گلو بٹ کا کردار بھی سامنے آیا۔ تمام تر آپریشن کے دوران پولیس کا خصوصی آشرواد گلو بٹ کو حاصل رہا۔ پی اے ٹی کے کارکنوں اور ہجوم پر براہ راست فائرنگ کے نتیجے میں دو خواتین شازیہ اور تنزیلہ  جاں بحق ہوئیں۔ تنزیلہ پر فائرنگ کا واقعہ ویڈیو پر ریکارڈ بھی ہوا۔

نقیب اللہ محسود اور جعلی پولیس مقابلہ

مقتول نقیب اللہ محسود کو 4 جنوری سال 2018 میں ابوالحسن اصفہانی روڈ سے دو افراد کے ہمراہ اٹھایا گیا اور بعد ازاں انکاؤنٹر اسپیشلسٹ سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کے متنازعہ بیان میں یہ کہا گیا کہ نقیب اللہ محسود کالعدم تنظیم کا دہشت گرد تھا، جو پولیس پر حملہ کر رہا تھا اور مقابلے میں مارا گیا۔ بعد ازاں عینی شاہدین کے بیانات، سپریم کورٹ کی تحقیقات اور جے آئی ٹی سے یہ بات سامنے آئی کہ مقتول نقیب اللہ محسود بے گناہ اور نہتا تھا، جسے جعلی پولیس مقابلے میں ماروائے عدالت قتل کیا گیا۔ نقیب اللہ محسود کے قتل کی خبریں سب سے پہلے سوشل میڈیا پر آئیں، جہاں سے میڈیا نے اسے اٹھایا اور پورے ملک میں احتجاج شروع ہوا۔ اس واقعہ کے بعد کراچی پولیس کے نامی گرامی افسر راؤ انوار کو اپنے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑا بلکہ کئی عرصے وہ مفرور بھی رہے۔ واقعہ میں ملوث دیگر 16 اہل کاروں کو بھی گرفتار کیا گیا۔ اعلی عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ نقیب اللہ ایک لبرل، فن سے محبت کرنے والا نوجوان تھا، جو ماڈل بننے کا خواہشمند تھا۔ نقیب اللہ کے قتل پر جنوبی وزیرستان سے کھڑی ہونے والی احتجاج کی آواز محسود تحفظ موومنٹ کو پشتون تحفظ موومنٹ میں تبدیل کردیا گیا۔

کراچی کے انتظار کا بیہمانہ قتل

اسی سال 13 جنوری 2018 میں کراچی کے علاقے ڈیفنس میں چیکنگ کے دوران پولیس اہل کاروں کی فائرنگ سے 19 سالہ نوجوان انتظار جاں بحق ہوگیا تھا۔ واقعہ کا مقدمہ تھانا درخشاں میں درج کیا گیا اور واقعے میں ملوث اینٹی کار لفٹنگ ( اے سی ایل سی) کے اہل کاروں کو وقوعہ کے کئی دنوں بعد سوشل میڈیا پر دباؤ کے بعد حراست میں لیا گیا۔ فائرنگ کرنے میں براہ راست ملوث ایس ایس پی اینٹی کار لفٹنگ سیل مقدس حیدر کے گن مین شامل تھے جب کہ اس کیس میں 9 پولیس افسران اور اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا۔ سادہ کپڑوں میں ملبوس اہل کاروں نے فائرنگ میں ذاتی ہتھیار استعمال کیا۔ مقتول انتظار کچھ روز قبل ہی ملائیشیا سے پاکستان چھٹیوں پر آیا تھا۔

 

یہ ہی نہیں ایسے کئی انتظار، نقیب اللہ اور جانے کتنے لوگ ہیں، جو ملک کے دیگر کونوں میں بغیر کتبوں کے دفن کردیئے گئے، تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ ایئر کنڈیشنڈ کمروں سے نکل کر پولیس کی ضروری اصلاحات پر غور اور عمل کیا جانے۔ گلی گلی اور سڑکوں سڑکوں ناکے پر موجود پولیس اہل کاروں کی ہنگامی بنیادوں پر تربیت کی جائے۔ محکمہ پولیس میں نچلے طبقے کی سماجی اور معاشی بہتری کیلئے جامع پروگرامز ترتیب دیئے جائیں، تاکہ اعلی ترین محکمہ پر لگنے والے خردبرد کے الزامات کو دھویا جاسکے۔