Tuesday, January 18, 2022  | 14 Jamadilakhir, 1443

میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے اک دن

SAMAA | - Posted: Feb 4, 2019 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Feb 4, 2019 | Last Updated: 3 years ago

ابھی پرانا زخم ذرا سا ماند پڑتا ہی ہے کہ پھر سے ایک بھرپوروار کردیا جاتا ہے، نسل در نسل ظلم کی داستانیں دہرائی جارہی ہیں، اب تو آنکھوں کے آنسو بھی خشک ہوتے جارہے ہیں اور الفاظ کی دہائیاں بھی مدھم پڑنے لگی ہیں، دن کی روشنی رات کی تاریکی سے زیادہ خوفناک لگتی ہے کہ نہ جانے کب کہاں سے کوئی درندہ آئے اور سیکنڈوں میں اجڑی بستی کو مزید ویران کر جائے۔

قومی اور بین الاقوامی میڈیا پر زیادہ سے زیادہ  دو منٹ کی خبر چلائی جائے گی کہ مقبوضہ کشمیر میں فوجیوں کے ہاتھوں ایک مظلوم کشمیری جان سے گیا، مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے  اظہارِ افسوس کے جملے ضرور بولیں گے، مخالفین اس پر بھی سیاست چمکانے سے باز نہیں آئیں گے جبکہ اصل میں ساتھ دینے والے وہیں کے آبائی لوگ ہوں گے جو  باوجود رکاوٹوں، گولیوں کی ترتراہٹ اور مار دھاڑ کے اس مظلوم، بے قصور کا جنازہ لے کر اپنی آواز بلند کریں گے، اس آس پہ کہ ” شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات”۔

ملک کے اندرنی حالات نے لوگوں کے معمولاتِ زندگی پر ایسا اثر ڈالا کہ عوام اپنے معاملات کا ہی رونا پیٹنا مچارہے ہیں اور کشمیر کا نعرہ “کشمیر بنے گا پاکستان” صرف 5 فروری تک ہی محدود رہ گیا ہے، فروری کا مہینہ یوں بھی کشمیر کی تاریخ میں اہمیت کا حامل ہے، جب 11 فروری 1984ء  کو تحریکِ آزادی کشمیر لبریشن فرنٹ کے بانی مقبول بٹ کو  تہاڑ جیل دہلی میں پھانسی دے دی گئی اور میّت بھی ان کے اہلِ خانہ کے حوالے نہیں کی گئی، جس کے باعث پوری کشمیری عوام میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی۔

مقبول بٹ کو کشمیری عوام اپنا ہیرو تصور کرنے  لگی تھی، انہوں نے کشمیری قوم کو دفاعی مسلح جدوجہد کیلئے تیار کیا تھا، ان کی تحریک تیزی سے مقبولیت حاصل کرنے لگی جو بھارت کیلئے خطرے کی گھنٹی تھی اور اس کے پیشِ نظر بھارت نے مقبول بٹ پر ایک بھارتی خفیہ ایجنسی کے افسر کے قتل کا الزام لگا کر گرفتار کیا، کئی سال گزرنے کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں کشمیری عوام نہایت جذبے کے ساتھ مقبول بٹ کی برسی مناتے آئے ہیں۔

فروری کے مہینے کے زخم ایک بار پھر تازہ ہوجاتے ہیں جب 9 فروری 2013ء کو افضل گرو جن کا تعلق مقبوضہ کشمیر سے تھا، کو بھی اسی خونی تہاڑ جیل میں پھانسی دیدی جاتی ہے اور انہیں بھی وہیں دفن کردیا جاتا ہے اور لاش اہلِ خانہ کے حوالے نہیں کی جاتی۔ ان پر الزام تھا کہ وہ بھارتی پارلیمنٹ پر حملے میں ملوث ہیں اور دہشت گردوں کو اسلحہ فراہم کرتے تھے، ان کی پھانسی کے ساتھ ہی پورے مقبوضہ کشمیر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا، کشمیر میں بھارتی فوج نے کرفیو نافذ کردیا جو ان کی بے بسی کا ثبوت تھا کہ کچھ بھی ہوجائے کشمیری عوام بھارت کے ظلم اور غلامی کو برداشت نہیں کریں گے۔

آزاد کشمیر حکومت نے 3 روزہ سوگ کا اعلان کیا، اب ہر سال 9 فروری سے 11 فروری تک پورے کشمیر میں مظاہرے کئے جاتے ہیں اور مطالبہ کیا جاتا ہے کہ دونوں شہداء مقبول بٹ اور افضل گرو کے جسدِ خاکی تہاڑ جیل سے نکال کر ان کی سرزمین میں دفن کئے جائیں، کشمیریوں کے غم اور شدتِ جذبات کے خوف سے پورے کشمیر میں اس دوران کرفیو نافذ کر دیا جاتا ہے، وادی کو عملاً جیل بنا دیا جاتا ہے، جبکہ ہم پاکستانی عوام صرف کشمیر کی خبریں چلتے ہوئے دیکھ کر سوائے دعا کے کچھ نہیں کرسکتے اور یہ حقیقت بھی ہے کیونکہ اصل کام ہماری حکومت کا ہے جو اس مسئلہ کے حل کیلئے سنجیدہ ہوتی نظر نہیں آتی، اتنا ضرور ہوتا ہے کہ 1990ء سے ہر سال 5 فروری کا دن کشمیریوں سے یکجہتی کیلئے منایا جانے لگا ہے، جس سے کم از کم ہماری نئی نسل کو چھٹی منانے کے ساتھ ساتھ کشمیر کی تاریخ سے تھوڑی سی واقفیت ضرور ہوجاتی ہے۔

اس وادی پر خوں سے اٹھے گا دھواں کب تک

محکومیٔ گلشن پر روئے گا سماں کب تک

محروم نوا ہوگی غنچوں کی زباں کب تک

ہر پھول ہے فریادی آنکھوں میں لیے شبنم

کشمیر کی وادی میں لہرا کے رہو پرچم

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube