کوئلے کی کان کے گمنام ہیرے

January 23, 2019

ساہیوال واقعے کی خبروں کے دوران ہی بلوچستان سے خبرملی، کوئلے کی کان میں دھماکے دوران چار مزدور جاں بحق ہوگئے، بلوچستان کے ضلع دکی میں کوئلے کی کان میں زہریلی گیس بھرنے سے دھماکا ہوا، جس سے 4 مزدور کان کے اندر پھنس گئے۔ مزدوروں کو نکالنے کیلئے امدادی کارروائیوں میں مصروف 2 کان کن دم گھٹنے سے جاں بحق جب کہ 5 بے ہوش ہوگئے۔ دھماکے کی وجہ سے کان کا ایک حصہ زمین بوس ہوگیا ۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق کان کی گہرائی 1700 فٹ ہے۔ مزدوروں کو نکالنے کیلئے کان کنوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کارروائی کا آغاز کیا، تاہم بعد ازاں ایف سی اہل کار بھی مدد کو پہنچ گئے۔

کوئلے کی کانوں میں کام کرتے ہوئے سنہرے لوگ میری آنکھوں کے گرد گھومنا شروع ہوگئے ہیں، وہی لوگ جن کے چہروں پر کوئلے کے سیاہ دھبے ہوتے ہیں مگر ان کی آنکھیں امید سے روشن ہوتی ہیں، اس دیس کو روشن کرنے کی امید، ارض پاک کی صنعتوں کا پہیہ چلانے کی آس، پاک سرزمین کو ترقی یافتہ اور خوشحال بنانے کے خواب لئے یہ کان کن سینکڑوں فٹ زیر زمین اپنے کام میں مصروف ہوتے ہیں، جو نہ صرف اپنے وطن کی خدمت میں مصروف ہوتے ہیں بلکہ اپنے گھر والوں کی پرورش کی ذمہ داری بھی ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں ان کان کنوں کے لئے حفاظتی تدابیر ہیں اور نہ ہی ان کے مسائل کو حل کرنے کیلئے کوئی روڈ میپ تیار کیا گیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2010 سے 2018 تک بلوچستان کی کوئلے کی کانوں میں 318 کان کن جاں بحق ہوچکے ہیں۔ سنہ 2018 میں بلوچستان میں مجموعی طور پر 93 کان کن ہلاک ہوئے۔ لورالائی کے علاقے دکی میں سب سے زیادہ کوئلہ نکالا جاتا ہے اور سب سے زیادہ ہلاکتیں بھی یہیں ہوتی ہیں۔

1923 میں انگریز سرکار نے مائین ایکٹ بنایا تھا، اس ایکٹ کے تحت ضروری ہے کہ کوئلہ کان کے نزدیک ہر وقت ایمبولینس موجود رہے۔ اس کے علاوہ کوئلہ کان کے نزدیک ایک ڈسپنسری اور کوالیفائیڈ ڈاکٹر کا ہونا بھی ضروری ہے۔ یہ بھی ایکٹ میں کہا گیا ہے کہ کان کنوں کے لئے پینے کا صاف پانی ہونا چاہیے، لیکن ایسا کوئی انتظام کوئلہ کانوں کے قریب نظر نہیں آتا۔ ایکٹ میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ کان کن آٹھ گھنٹے سے زیادہ کام نہیں کر سکتا لیکن اس سے 10 سے 12 گھنٹے تک کام کرایا جاتا ہے اور بے چارے مزدور کو اوور ٹائم کی مزدوری نہیں دی جاتی۔ کوئلہ کان کن کو ہر روز کے ایک ہزار روپے ملتے ہیں اور وہ بارہ گھنٹے کام کرتا ہے۔ اس ملک میں کان کے مالک کی حالت بادشاہوں جیسی ہے۔ وہ اربوں میں کھیلتا ہے اور محلات میں رہتا ہے لیکن کان کن بدنصیب مزدور کی حالت بد ترین ہے اور اس کا مقدر یہی ہے کہ اس نے کان میں خوف ناک صورت احوال میں مرنا ہی ہوتا ہے۔کوئٹہ میں کوئلہ اٹھارویں صدی میں دریافت ہوا تھا، لیکن اس کیلئے قانون سازی 1923ء میں کی گئی اس وقت سے اب تک ان مزدورں کے کیلئے کوئی خاطر خواہ قانون سازی نہیں کی گئی، یہ ایک واقعہ نہیں بلکہ واقعات کا تسلسل ہے جس میں مزدور تلاش معاش کیلئے اپنی جانوں کی باز ہار دیتے ہیں۔ پاکستان میں گذشتہ دس سالوں کے دوران مختلف حادثات میں ایک ہزار سے زائد کان کن جاں بحق ہوچکے ہیں۔

قانونی طور پر کسی بھی کان میں کام شروع کرنے سے پہلے زہریلی گیس کو چیک کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کان کے اندر آکسیجن کی موجودگی کو یقینی بنانا ہوتا ہے جبکہ ایک کان کے اندر متبادل راستہ بنانا بھی ضروری ہوتا ہے تاکہ کسی حادثے کی صورت میں کان کنوں کو نکالنے میں آسانی ہولیکن بلوچستان کی کوئلے کی کانوں میں ان انتظامات کو یقینی نہیں بنایا جاتا، جس کے باعث کانوں میں حادثات ایک معمول بن گئے ہیں۔

بلوچستان میں احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے کی بڑی وجہ ٹھیکیداری نظام بھی ہے۔ لوگ اپنے نام پر مائننگ کے لیے اراضی الاٹ کراتے ہیں لیکن خود اس پر کام کرنے کی بجائے ان کو ٹھیکیداروں کے حوالے کرتے ہیں۔ بڑے ٹھیکیدار پھر ان کو پیٹی ٹھیکیداروں کو دیتے ہیں۔ ٹھیکیدار اور پیٹی ٹھیکیدار انسانوں کو بچانے کے لیے حفاظتی انتظامات کا خیال رکھنے کے بجائے زیادہ تر اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ کوئلہ کیسے نکالیں۔مقامی افراد کے مطابق کوئلے کی کانیں بااثر لوگوں کی ہیں۔ حادثات کی صورت میں نہ صرف ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی بلکہ ان کو سیفٹی کے لوازمات کو یقینی بنانے کا بھی پابند نہیں بنایا جاتا۔بلوچستان میں جدید صنعتیں نہ ہونے کی وجہ سے کوئلے کی کان کنی یہاں کی سب سے بڑی صنعت ہے۔ آئے روز ہونے والے حادثات کی روک تھام کیلئے سرکاری سطح پرکسی بھی قسم کے اقدامات نہیں کئے جاتے، یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا سیاسی اثر و رسوخ کی بنیاد پر انسانی جانوں سے کھیلنے کا یہ کھیل جاری رہے گا، کیا یونہی انسانی جانیں بے وقت ہوتی رہیں گی؟ان سوالات کے جواب تو آنے والا وقت ہی بتا سکے گا۔