Wednesday, January 19, 2022  | 15 Jamadilakhir, 1443

رنی کوٹ:سندھ کی سیاحت کا دروازہ

SAMAA | - Posted: Jan 15, 2019 | Last Updated: 3 years ago
Posted: Jan 15, 2019 | Last Updated: 3 years ago

نئے سال کا آغا ز ہم نے دنیا کے سب سے بڑے قلعے اور سندھ کی تاریخی جگہ رنی کوٹ سے کیا۔ پراسرار رنی کوٹ جو تاریخ کی بہت سی کہانیاں اور راز اپنے اندر دفن کئے ہوئے ہیں ، اس کی خوبصورتی دیکھ کر آنکھیں دنگ رہ گئی۔ اس کی دیوار جو کسی حد تک دیوارِ چین کے مانند ہے اس کو دیوار سند ھ بھی کہا جاتا ہے،اس دیوار کی لمبائی 32 کلومیٹر (20 میل) ہے اور اُنچائی 30 فُٹ ہے ۔

یہ کراچی سے تقریباً 300 کلو میٹر کی دوری پر ضلع دادو اور ضلع جامشورو کے درمیان پہاڑوں میں واقع ہے قلعے کا اندرونی رقبہ تقریباً چھ ہزار ایکڑ(8.9 مربع میل) علاقے پہ پھیلا ہوا ہے۔ قلعے کو کس طرح بنایا گیا ہوگا یہ تو سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ جب یہ قلعہ تعمیر کیا گیا تھا اس زمانے میں کوئی جدید مشینیں نہیں ہوتیں تھی۔ کس طرح پہاڑوں کے درمیان قلعے کواور اتنی لمبی دیوراوں کو تعمیر کیاگیا یہ کارنامہ قابل تعریف ہے۔ قلعے کے اندر داخل ہونے کے لیے چار مرکزی دروازے ہیں،جب کہ قلعے کے اندر بھی ایک چھوٹا قلعہ بنا ہوا ہے۔اس قلعے کی تعمیر کے بارے میں مقامی لوگوں سے بہت سی قیاس آرائیاں ہیں لیکن کوئی بھی یہ بات یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ رنی کوٹ کی بنیاد کس نے اور کب رکھی تھی اور کس دشمن سے بچنے کے لیے رکھی تھی چونکہ یہ معلومات تاریخ کے اوراق میں دفن ہوچکی ہیں، اس قلعے کا ذکر تاریخ میں صرف اس وقت سے ملتا ہے جب میرپورخاص کے میر شیر محمد تالپور نے اٹھارویں صدی میں اس قلعے کی مرمت کروائی اور اس قلعے میں ایک اور چھوٹے قلعے ‘میری’ میں رہائش اختیار کی۔ اس کے بعد آج تک کسی نے اس قلعے کی مرمت نہیں کی۔ افسوس کہ قلعے کی دیواریں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہورہی ہیں۔ رنی کوٹ کی 5 کلو میٹر طویل دیوار کا 50 سے 60 فیصد حصہ گزشتہ ایک سال کے اندر منہدم ہوچکا ہے جس وجہ سے اسی دیوار کے ساتھ نصب قلعے کا اہم ترین دروازہ ’شاہ پر‘ بند ہوچکا ہے۔ اس دیوار کے علاوہ رنی کوٹ کی ایک اور 1500 فٹ طویل دیوار بھی مختلف جگہوں سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے جس وجہ سے اس دیوار میں نصب ’موہن گیٹ‘ بھی بند ہوچکا ہے، اس پر چلنے والا رستہ جتنا دلکش ہے اتنا ہی خطرناک اور یہاں کسی بھی وقت کوئی حادثہ پیش آسکتا ہے ۔

 رنی کوٹ میں موبائل کے سگنلز نہیں آتے،اس لئے وہاں جانے والوں سے رابطہ ختم ہوجاتاہے اور قلعے سے باہر آتے ہی رابطہ بحال ہوجاتاہے۔حکومت کو اس طرف توجہ دینے کی ضروت ہے کیونکہ تاریخی جگہ ہمارے ملک کا اثاثہ ہے،اگر رنی کوٹ کی سڑکیں بن جائیں تو یہاں سیاحوں کو آسانی ہوجائے گی اور پھر رنی کوٹ میں زیادہ سیاح آیا کریں گے اوراس طرح رنی کوٹ کے مقامی لوگوں کوروزگار ملے گا۔ جب ہم وہاں چائے پینے کیلئے ہوٹل نما جگہ پر رکے تو اس ہوٹل کے مالک عبداللہ گبول نے بتایا کہ پہلے یہاں بہت کم لوگ آتے تھے لیکن  اب روز بہت سارے لوگ آتے ہیں جس کی وجہ سے آمدنی میں اضافہ ہورہا ہے جبکہ اکثر و بیشتر میڈیا سے معلوم ہوتا ہے کہ محکمہ آثار قدیمہ و نوادرات کے پاس قلعے کے حفاظتی انتظامات کے لیے فنڈز موجود نہیں۔

متعلقہ افسران کا کہتے نظر آتے ہیں کہ جیسے ہی ان کے پاس فنڈز آجائیں گے، وہ قلعے کے لیے حفاظتی انتظامات شروع کردیں گے۔ پاکستان میں سندھ کی بہت ساری تاریخی جگہیں عدم توجہی کی وجہ سے خستہ حال ہوتی جاری ہیں مگر اس کے باوجود وزارت ثقافت ومحکمہ آثار قدیمہ و نوادرات تاریخی کی حفاظت کے لیے اقدامات اٹھانے سے قاصر ہیں۔ حال ہی میں وزیراعظم پاکستان نے اعلان کیا تھا کہ وہ پاکستان میں سیاحت کو فروغ دیں گے تحریک انصاف کے پاس بہترین موقع ہے سندھ والوں کے دل جیتے۔ اگر وہ سندھ کے تاریخی اور قیمتی اثاثوں کو محفوظ کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں تو سندھ کی تاریخ میں ان کا نام سنہرے الفاظ سے لکھاجائے گا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube