ہوم   > بلاگز

وائٹ واش نے پاکستان ٹیسٹ کرکٹ کی زبوں حالی عیاں کردی

SAMAA | - Posted: Jan 14, 2019 | Last Updated: 1 year ago
SAMAA |
Posted: Jan 14, 2019 | Last Updated: 1 year ago

جنوبی افریقا کیخلاف تیسرے ٹیسٹ کے دوران پہلی اننگز میں اظہر علی اور بابر اعظم نے سنچریاں اسکور کیں جبکہ دوسری اننگز میں حارث سہیل اور امام الحق نے متاثرکن کھیل پیش کیا۔

جنوبی افریقا کیخلاف ٹیسٹ سیریز شروع ہونے سے قبل وارم اپ میچ کھیلا گیا جس میں پاکستانی بلے بازوں نے بہترین کارکردگی سے شائقین کے دلوں میں امیدیں فروزاں کردی تھیں لیکن شاید ایسی کوئی امید کبھی تھی ہی نہیں، ہر شخص کو پتا تھا کہ ایسا کچھ نہیں ہونے والا ہے۔

پتا تھا کہ سامنے آنے والے کھلاڑی بھی مختلف ہوں گے اور پچز بھی، ہم میں سے ہر کسی کو پتا تھا کہ کیا ہونے والا ہے اور ہم نے اپنے کھلاڑیوں کو صرف شکست کی ذلت سے دوچار ہونے کیلئے ہی بھیجا ہے۔

کچھ لوگوں نے کہا کہ ٹیم اچھا پرفارم کرے گی، لیکن ایسا کہنے والے لوگوں کے یہ الفاظ خود ان کو ہی قائل نہ کرپارہے تھے چہ جائیکہ دوسروں کو متاثر کرپاتے۔

ناگزیر صورتحال جو وقوع پذیر ہونا تھی، ہوئی۔ یہ کوئی جنگ نہیں تھی بلکہ یکطرفہ قتل عام تھا، ہم نے کچھ زیادہ کی توقعات بھی نہیں کی تھیں لیکن خوب زیادہ مایوس ہوئے۔ کرکٹ کی تباہی دیکھنا ہو تو ٹیسٹ فارمیٹ میں پاکستان کی کارکردگی دیکھ لی جائے۔ یعنی بلے بازوں نے بالکل مزاحیہ انداز میں اپنی وکٹیں گنوائیں اور دوسری طرف بولرز نے اتنی سست گیندیں کیں کہ شاید انہوں نے اس سے پہلے کبھی ایسا نہ کیا ہو یا اس سے سست گیندیں پھینکی ہی نہ جاسکتی ہوں۔

فیلڈرز نے ایسے کیچز لیے جن سے کھیل کی مکمل صورتحال بدل سکتی تھی لیکن کچھ نہ ہوسکا، وکٹ کیپر اور کپتان سرفراز احمد نے 10 کیچز پکڑ کر ریکارڈ قائم کیا لیکن ناکام ٹیسٹ کپتان ہونے کی پرچھائی سے پیچھا نہ چھڑاسکے۔

اسد شفیق نے 74.4 کے اسٹرائیک ریٹ سے اسکور بنایا، حسن علی نے اپنے کیریئر کی بہترین بلے بازی کی اور ایک اچھا اسٹرائیک ریٹ حاصل کیا۔ دوسری طرف شان مسعود نے بہترین بولنگ اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ بہترین بولنگ اوسط حاصل کی، شان نے یاسر شاہ سے زیادہ وکٹیں حاصل کیں۔

لیفٹ ہینڈڈ اوپنر نے پوری سیریز میں اچھی کارکردگی دکھائی لیکن اگر حارث سہیل زخمی نہ ہوتے تو شاید ان کو ٹیم میں شامل ہی نہ کیا جاتا۔

مختصر لمحات کیلئے ایسا لگتا کہ میچ جیتنے کیلئے کشمکش عروج پر پہنچ گئی ہے مگر زیادہ تر تو ایک ہی مرد میدان ہاری ہوئی جنگ جیتنے کیلئے کوشش کرتا نظر آتا، ہم بس اگر مگر کی شش و پنج میں رہ گئے۔ کیا ہوتا اگر وہ دونوں کیچز پکڑ لئے جاتے، کیا ہوجاتا اگر ہماری بیٹنگ لائن پچھلے دو ٹیسٹ میچز کی طرح فلاپ نہ ہوتی۔ کیا ہوتا اگر۔۔۔ کیا ہوتا اگر۔۔

لیکن اندر سے ہم سب کو پتا تھا کہ کچھ ایسا ہی ہونا تھا، کوئی ایک بھی میچ چوتھے دن کے پہلے سیشن سے آگے نہیں بڑھ پایا اور یہ بات شائقین کرکٹ کیلیے کافی تکلیف دہ ہے، لوگ دل کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ ایسا ہی ہے، کبھی بہت اچھے اور کبھی بالکل گئے گذرے۔ لیکن درحقیقت صورتحال اس سے کہیں زیادہ خراب ہے۔

پاکستانی بولرز اسی طرح اپنی لائن اور لینتھ کے مسائل سے دوچار رہے، وہی ٹیم کے انتخاب کے مسائل، ماضی کی طرح ڈرامائی طور پر فیل ہونے والی وہی بیٹنگ لائن تھی جو کبھی بھی دھوکا دے جاتی ہے۔ اس طرح کیچز چھوڑنے کی روایت، ڈریسنگ روم کی وہی ناخوشگوار کہانیاں آج بھی ماضی کی طرح گردش میں ہیں۔ کیا تبدیل ہوا ہے، اسی طرح انگلیاں آج بھی اٹھ رہی ہیں۔

یہ دراڑیں کافی عرصے سے پڑے جارہی ہیں، اس طرح جنوبی افریقا کے بے رحمانہ مقابلے میں اس ناتواں گھر کیلئے گرنا ہی مقدر ٹھہر چکا تھا لیکن پاکستانی شائقین کرکٹ بس یہ چاہتے تھے کہ ان کی تھوڑی سی عزت رکھ لی جاتی اور اس طرح ذلت آمیز شکست سے دوچار نہ ہوا جاتا لیکن بے وقوفوں کی جنت تھی جس میں پاکستانی شائقین رہ رہے تھے۔

اس سیریز میں کیا ہوا اس کے حوالے سے تحقیق اب شروع ہوگی، بہت سے لوگوں کو ٹیم میں اپنی جگہ چھوڑنا ہوگی اور تینوں بڑے یعنی سرفراز، اظہر اور شفیق کی جگہوں پر بھی سوال اٹھائے جائیں گے۔

مصباح الحق اور یونس خان کی ریٹائرمنٹ کے بعد سے ان تینوں کی کارکردگی میں کافی گراوٹ آچکی ہے، مصباح اور یونس کی روایت کو آگے بڑھانا تو دور کی بات ہے وہ اپنی خاطر کچھ نہیں کر پارہے ہیں۔

مسئلے کے کئی پہلو ہیں، جن میں سب سے پہلے سلیکٹرز ہیں اور سب سے آخر میں کھلاڑی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کو اس مسئلے کے حل کیلئے کچھ کرنا ہوگا اور بہت تیزی سے کرنا ہوگا۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube