کیا بلوچستان حکومت گرائی جا رہی ہے؟

January 11, 2019

پچیس جولائی کے عام انتخابات کے بعد بلوچستان میں ایک نوزائیدہ جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کی حکومت وجود میں آئی ،بی اے پی یا باپ کے نام سے بنائی جانے والی اس جماعت کو روز اول سے ہی بلوچستان کی کہنہ مشق جماعتوں کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے ،خاص طور پر بی اے پی پر کی جانے والی ''خاص کرم نوازی"کا طعنہ  سب سے زیادہ  سنا گیا۔

صوبے کے وزیر اعلی جام کمال  کو اپنی حکومت کے چار مہینوں میں اتنا اپوزیشن  نے تنگ نہیں کیا جتنا ان کی اپنی جماعت میں موجود  رہنما ان کی حکومت کے لیے درد سر بنے رہے،خاص طور پر ان کی جماعت کے کچھ سینئر رہنما پہلے تو دی جانے والی وزارتوں سے ناخوش دکھائی دئیے،کچھ اپنے حلقوں میں براہ راست وزیر اعلی کی مداخلت سے ناراض رہے جب کہ کچھ جام کمال کی سخت گیر طبیعت اور غیر لچکدار رویے سے شاکی رہے۔

جام کمال کی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی باتیں یوں تو گاہے بگاہے  آتی ہی رہتی ہیں مگر اب ایک بار پھر سے ان خبروں نے زور پکڑ لیا ہے ،ان تمام خبروں کے اصل محرک سابق وزیر اعلی بلوچستان  اور حالیہ اسپیکر بلوچستان اسمبلی میر قدوس بزنجو ہی ہیں ،جن کی جام کمال سے اختلافات کی خبریں اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ،اس سے قبل بھی وہ ایک آدھ بار ایسی کوشش کر چکے ہیں جس کا  کوئی خاص نتیجہ تو برآمد نہ ہوا مگر اس بار وہ ایک مرتبہ پھر اپنی پوری توانائی کے ساتھ  اپوزیشن کی جماعتوں سے رابطے میں ہیں ،اور ایک بار پھر یہ خبریں گرم ہیں کہ  وزیر اعلی جام کمال کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جا سکتی ہے۔

اس سلسلے میں سب سے اہم کردار بی این پی سربراہ اختر مینگل کا ہو سکتا ہے ،مگر وہ اس وقت" ہاں اور ناں "کی ملی جلی کیفیت میں ہیں ،وہ اس قسم کی کسی بھی" مہم جوئی" کا حصہ بننا بھی نہیں چاہتے جب کہ وہ  اس  کھیل سے خود کو مکمل طور پر باہر بھی رکھنا نہیں چاہتے،انھوں نے ایک اچھے کھلاڑی کی طرح اپنے سارے پتے چھپا رکھے ہیں ،اور ایسا تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جیسے ان کے پاس "حکم کا اکا" ہے،اور وہ جب چاہیں جام حکومت کی بساط لپیٹ سکتے ہیں مگر فی الحال  اس وقت وہ "تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو"کے سب سے اہم سیاسی اصول پر کار بند ہیں۔

دوسری طرف بلوچستان حکومت کی قدوس بزنجو کی جانب سے مسلسل کی جانے والی"سیاسی تبلیغ" پر سخت موقف سامنے آیا ہے کہ بلوچستان حکومت اس قسم کی کسی بھی بلیک میلنگ سے خائف نہیں ہوگی ،اور جام کمال کی حکومت  کو ان "مصنوعی شخصیات" کے کچھ کرنے سے بالکل فرق نہیں پڑتا۔

دوسری طرف کہانی صرف یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ نیشنل پارٹی بھی پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر وفاقی حکومت کے پائے ہلانے کے لیے سرگرم عمل ہے ،نیشنل پارٹی  چاہتی ہے کہ مرکزی حکومت کو دباو میں ڈالنے کے لیے بلوچستان حکومت کا تختہ الٹنا اب ناگزیر ہو گیا ہے ،جس کے لیے پیپلز پارٹی ایک بار پھر اپنا کردار ادا کر سکتی ہے،گزشتہ دنوں سابق صدر آصف زرداری اور نیشنل پارٹی کے میر حاصل بزنجو کی اہم ملاقات کو بھی بلوچستان حکومت کے لیے خطرے سے خالی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

گو کہ میڈیا  کے"کچھ حلقوں "میں یہ خبر گرم ہے کہ  جام کمال کی حکومت گرائی جاسکتی ہے  مگر وہیں یہ حقیقت بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ  جام کمال کی گزشتہ چند دنوں میں ہونے والی "اہم ملاقاتوں"  اور ان ملاقاتوں کے بعد جام کمال کے چہرے کی بشاشت بتا رہی ہے کہ شاید"حکم کا اکا"اب بھی جام کمال کے ہاتھوں میں ہے۔