خواتین بس سروس آغاز کی منتظر

January 9, 2019

جنر ل بس اسٹینڈ پشاور میں گلابی رنگ کی 14بسیں گزشتہ 7ماہ سے کھڑی ہیں  اور ان پر جمی گرد اور دھول اس بات کی شاہد ہے کہ انہیں عرصہ دراز سے استعمال ہی نہیں کیا جا سکا ہے ۔

جاپان حکومت کی جانب سے امسال خیبر پختونخوا حکومت کو 14 گاڑیاں عطیہ کی گئیں تھیں جو مردان اور ایبٹ آباد میں خواتین کیلئے خصوصی طور پر چلائی جانی تھی ۔ ان گلابی بسوں کو پنک بس سروس کا نام دیا گیا اور ہر ضلع میں 7،7بسیں چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ بسوں کا افتتاح ساڑے 7ماہ قبل 11مئی کو اس وقت کے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے کردیا تاہم بسیں سڑکوں پر نہیں چلائی جا سکیں۔

بس سروس کے تحت دونوں اضلاع میں خواتین کیلئے پنک بس اسٹاپ بھی تعمیر کئے گئے ہیں جو اب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئے ہیں۔ محکمہ ٹرانسپورٹ ذرائع کے مطابق کابینہ کے ایک رکن ان بسوں کو اپنے ضلع میں چلانا چاہتے تھے تاہم الیکشن میں وقت کم رہ جانے کی وجہ سے بس سروس نہ تو ان کے ضلع منتقل کی جاسکی اور نہ ہی ان دو ضلعوں میں اسے شروع کرنےکا فیصلہ کیا گیا لیکن وہ فیصلہ بھی ایفا نہ       ہوسکا ۔ ہر ایک بس کی قیمت 73لاکھ روپے سے زائد ہے اور مجموعی طور پر ان 14بسوں کی قیمت 10کروڑ سے تجاوز کرتی ہے۔

گلابی بسوں کو شروع کرنے کا وعدہ تو گزشتہ حکومت نے ہی کردیا تھا تاہم موجودہ حکومت کو آئے چار ماہ سے زائد کا عرصہ گزرجانے کے بعد بھی یہ وعدہ ایفا نہ کیا جا سکا اور یہ بسیں اب ناکارہ ہوتی جا رہی ہیں ۔ خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے مسلسل پیشکش کے باوجود کوئی بھی نجی کمپنی ایبٹ آباد اور مردان میں خواتین کی خصوصی بسیں چلانے کیلئے آمادہ نہ ہوسکی ۔ حکومت نے ان بسوں کو چلانے کیلئے نجی کمپنیوں کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم جون سے اب تک چار مرتبہ اس ضمن میں ٹینڈر جاری کر دیا گیا ہے لیکن نجی کمپنیوں کی جانب سے بس سروس چلانے میں دلچسپی ظاہر نہیں کی جارہی جو حکومت کیلئے درد سر بنا ہوا ہے۔

پنک بس سروس کے تحت مردان میں بغدادہ چوک سے عبدالولی خان یونیورسٹی مردان گارڈن کیمپس تک بس چلائی جائیگی اور بس سروس کیلئے 16اسٹاپ مختص کئے گئے ہیں۔ اس ہی  طرح ایبٹ آباد میں بس سروس مانسہرہ بس اسٹاپ سے شروع ہوتے ہوئے فرنٹیئر میڈیکل کالج تک جائیگی اور اس کیلئے 20اسٹاپ مختص کئے گئے ہیں۔ مذکورہ بس سٹاپ بھی صرف خواتین کیلئے ہی مختص ہوں گے۔ یہ لیڈیز بس اسٹاپ تو کئی ماہ قبل ہی تعمیر کرلئے گئے تھے لیکن ان کے استعمال کا دور دور تک کوئی امکان نظر نہیں آ رہا۔

پنک بسوں کو چلانے کی ذمہ داری محکمہ ٹرانسپورٹ کی ہے تاہم محکمہ مسلسل انہیں چلانے کی کوشش میں ناکامی کا شکار رہا۔ اس پروجیکٹ کو بعد میں ماس ٹرانس پشاور کے حوالے کیا جاچکا ہے اور اب انہیں چلانے کیلئے ما س ٹرانس پشاورکو ہی ٹھیکہ جاری کرنا ہوگا۔ ماس ٹرانس پشاور کے ذمہ پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے کا کام بھی ہے اور یہ کمپنی دراصل بی آر ٹی پشاورکیلئے ہی قائم کی گئی تھی لیکن پنک بسوں کا معاملہ بھی اب انہی کے سپرد کر دیا گیا ہے۔

 ماس ٹرانس پشاور ان بسوں کو جلد از جلد چلانے کی کوشش کر رہی ہے تاہم کمپنی کی ترجیح اربوں روپے کے منصوبے یعنی بی آر ٹی پشاور ہے جس کے باعث یہ بسیں آج بھی پشاور میں کھڑی ہیں۔ اس ہی طرح ماس ٹرانس ان بسوں کا ڈیزائن ، اسٹکچر اور مردان و ایبٹ آباد کی سڑکوں کے ساتھ ان کی مطابقت کا اندازہ نہیں لگایا گیا تھا، اس لئے ان بسوں کو چلانے کیلئے ازسرنو فیصلہ کرنا پڑےگا۔ اب یہ فیصلہ کب اور کون کرےگا۔اس سے متعلق کوئی بھی محکمہ سامنے آنے کو تیار نہیں ہے۔