Wednesday, July 8, 2020  | 16 ZUL-QAADAH, 1441
ہوم   > بلاگز

ایسے شاہکار’’اعلیٰ معیار‘‘ کے کس خانے میں فٹ ہوتے ہیں؟

SAMAA | - Posted: Jan 7, 2019 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Jan 7, 2019 | Last Updated: 2 years ago

مصنوعات یا کسی بھی قسم کی فراہم کی جانے والی خدمات کی تفصیلات عوام تک پہنچانے کو عرف عام میں تشہیر کہا جاتا ہے، انگریزی میں بولیں تو ’’ایڈورٹائزمنٹ ‘‘۔ اس کیٹگری میں گلی محلے کے پھیری والے سے لے کرملٹی نیشنل کمپنیوں تک سب شامل کیے جاسکتے ہیں۔’’انداز اپنا اپنا‘‘ ہوگا لیکن کرنی سب نے اپنی کمپنی کی مشہوری ہے۔

اسی تشہیرکی بدولت ایک سبزی والا قریب سے گزرتی آنٹی کودیکھ کر ’’ہو گئی شام ، گرگئے دام ‘‘ کا نعرہ لگا کرجیب میں نوٹ کا اضافہ کرسکتا ہے۔۔۔۔۔ بس میں بیٹھے حضرات 5 روپے کے منجن کے فوائد سن کر جائیداد لٹانے کے بدلے بھی اس سودے کو سستا سمجھتے ہوئے جھٹ سے ڈبیہ جیب کے اندر اور پیسے باہر نکالتے ہیں۔۔۔۔ کلو قصائی کے پاس جاتے جاتے اچھو کے بورڈ پرگوشت کی فی کلو قیمت میں 10 روپے کمی کا بورڈ دیکھ کر قدم وہیں رک جاتے ہیں (گوشت بھلے سے مشکوک ہو) ۔۔۔۔ سرف خریدتے ہوئے میاں جی بیگم کی ہدایت بھول بھال کر ساتھ میں صابن کی ٹکیہ مفت دینے والی کمپنی کو فوقیت دیتے ہیں تو ٹی وی اسکرین کے آگے بیٹھے صاحب کو اشتہارمیں دکھائے جانے والے کوکنگ آئل کے بیش بہا فوائد سن کر گھرمیں استعمال کیے جانے والی برانڈ سے دل کا ممکنہ دورہ سامنے دکھائی دیتا ہے اور سپر مارکیٹ کے اگلے وزٹ پر ’’ یقین دہانیوں ‘‘ کے علاوہ کمرشل میں آنے والی باجی کی خوبصورتی کو بھی یاد کرتے ہوئے ’’برانڈ‘‘ تبدیل کرلی جاتی ہے۔

روزمرہ زندگی پر اس تشہیرکے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں اسی لیے ملٹی نیشنل کمپنیاں اپنی مہنگی مصنوعات کے ’’ بیش بہا ثمرات ‘‘ حاصل کرنے کے لیے جس میڈیم کا سب سے زیادہ سہارا لیتی ہیں وہ ہے ٹیلی ویژن ۔۔۔ کیونکہ ٹی وی اسکرین کے آگے بیٹھے افراد بڑی حد تک اس پر دکھائی جانے والی چیزوں کا اثر قبول کرتے ہیں۔ یہا ں تک تو ٹھیک تھا لیکن اب اس ’’ایڈورٹائزمنٹ‘‘ کو نہ جانے کیوں ’’بڑا پردہ‘‘ سمجھتے ہوئے بغیرٹکٹ کے گھرمیں ہی تفریح مہیا کرنے کا ذریعہ سمجھ لیا گیا ہے۔ کوئی بھی پراڈکٹ ہو بات ناچ گانے کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ شیونگ کریم کا اشتہار بھی ’’صنف نازک‘‘ کے بغیر نہ دکھانے والے اب دس قدم آگے بڑھ کر ناظرین کو متوجہ کرنے کا واحد ذریعہ ڈانس اور ولگیریٹی کو سمجھ بیٹھے ہیں۔

اس تحریرکا موجب بھی دو ایسے ہی ٹی وی کمرشل بنے جب ایک ڈرامہ دیکھنے کے دوران بیٹھے بٹھائے ٹی وی لاؤنج پر ’’سینما ہال‘‘ کا گمان ہونے لگا۔ چائے کی پتی کا یہ اشتہار ناچ گانے کے کسی رئیلٹی شو کا منظر پیش کررہا تھا جہاں ملک کی نامور اداکارائیں صبا قمر،حریم فاروق اورسجل علی اس جذب کے عالم میں فن کی خدمت سرانجام دے رہی تھیں کہ الامان الحفیظ ۔۔ اشتہار کی کاپی لکھنے والے کو بھی سات سلام جس نے ’’دل ڈانس مارے رے ‘‘ کی ٹیگ لائن کا استعمال کرتے ہوئے سمندر کوزے میں بند کیا اور ثابت کیا کہ یہ ہوتی ہے ’’کری ایٹی وٹی ‘‘ ۔ ( سچی بات ہے اگریہی معیار ہے تو پھراس کیلئے کسی ڈگری کی بھی ضرورت نہیں، پارٹ ٹائم کاپی رائٹنگ سے لاکھوں کمائے جاسکتے ہیں )  بالی ووڈ والوں کو بھی مات دیتے ہوئے رقص کا سارا ہنر آزمانے اورچند جادوئی ٹرکس کے بعد عقدہ کھلا کہ مدعا صرف اتنا ہے کہ توانائی کے اس بیش بہا سمندر میں کسی معجون، کشتے یا بادام پستے سے نہیں بلکہ ’’یہی والی‘‘ چائے پینے سے غوطے کھانا ممکن ہے۔ آفرین ہے یہ اشتہار بنانے والوں پر۔

اگلا دھچکا پہلے والے سے بھی بڑھ کرلگا، جب میرا سیٹھی جیسی ذہین فطین اورسنجیدہ اداکارہ کو گالم گلوچ کرتے دیکھا۔ یقین کرلیں کیونکہ اشتہار یقیننا آپ کی نظر سے بھی گزرا ہوگا ، میرا سیٹھی ایک لڑکے اور ایک لڑکی ( کامن فارمولا) کے ساتھ ٹام بوائے بنی کسی ہائی وے ٹائپ ڈھابے پر آکر بدیسی لہجے میں دیسی تعریفیں کر رہی ہوتی ہیں تو لڑکی انہیں مرچیں کھلانے کا چیلنج دیکر چاچا سے اسپیشل کڑاہی بنواتی ہے۔ یہاں تک تو ٹھیک تھا لیکن مرچیں کھا کر مغلظات بکنا کہاں کی ’’اشتہاری تعلیمات‘‘ میں شامل ہے؟۔ پڑھنے والوں کو علم ہو تو ہمیں بھی بتائیے گا۔ میرا سیٹھی نے کڑاہی کھا کرانگریزی لہجہ بھول بھال باقاعدہ گلی محلے میں بیٹھے فارغ لونڈوں (ویسے بہت سے سوٹڈ بوٹڈ دفتری بابو بھی اسی فہرست میں آتے ہیں) کی طرح گالی بکی اور بیہودہ جملہ کہا۔ صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں کہ مصداق اسے ’’ میوٹ‘‘ کردیا گیا لیکن مدعا خوب واضح تھا کہ محترمہ نے کیا کہا ہے۔ سب شاک اور میرا باجی راک ۔۔۔ اس کے بعد ہنسی خوشی ایک اور کڑاہی آرڈر کردی گئی۔ یاد رہے یہاں مدعا کولڈرنک کی تشہیر تھا۔

زیادہ تفصیل میں جائے بغیر ان دومثالوں سے ہی واضح ہے کہ ’’معیار‘‘ کیا تھا اور کیا کردیا گیا ہے۔ دیکھنے والوں کو تو ’’اک چٹکی ڈنٹونک‘‘ اور’’اے خدا میرے ابوسلامت رہیں ‘‘ سے لیکر پان مصالحے کے اشتہار کے لیے ’’دادی جان کے پاندان سے کھاتے تھے ہم پان‘‘ والے اشتہارات بھی آج تک یاد ہیں، بغیر کسی ’’ششکے‘‘ کے ایسے اشتہارات آج تک زبان زدعام کیوں ہیں؟ کیونکہ بات کہنے کا سلیقہ ہو تو ایسے کھوکھلے سہاروں کی ضرورت نہیں پڑتی۔ کیوں ہم چکاچوند سے اتنے متاثرہیں کہ ہرچیزکی کامیابی کی اولین شرط صرف خواتین کی موجودگی اور ناچ گانے کے تڑکے کے علاوہ اب ’’ٹپوری پن ‘‘ کو بھی سمجھ لیا گیا ہے۔ اگر کوالٹی بہترہوگی تو یقین کرلیں کہ چائے اور بوتل پینے والے اس ’’ محفل رقص اور بدتہذیبی ‘‘ کو دیکھے بغیربھی پئیں گے۔

ایسے نادر نمونے تخلیق کرنے والے صاحبان وقت نکال کر ذرا عہد رفتہ کو آوازدیں تو ان پریہ عقدہ کھلے گا کہ ’’ تخلیقی صلاحیتیں‘‘ بھی کوئی وجود رکھتی تھیں جہاں دل سے نکلے الفاظ بغیر ’’بالی ووڈ سے مستعار لیے گئے تڑکوں ‘‘ کے بغیرہی اثررکھتے تھے۔ کری ایٹو رائٹنگ کو گوگل میں سرچ کرلیں کیونکہ اب ویسے ہی قوم کو سب سے آسان کام یہی لگتا ہے اور سوچیں کہ ایسے شاہکار ’’اعلیٰ معیار’’ کے کس خانے میں فٹ ہوتے ہیں؟۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube