Sunday, August 9, 2020  | 18 Zilhaj, 1441
ہوم   > بلاگز

پانی کا مسئلہ اور ہمارا فرض

SAMAA | - Posted: Dec 31, 2018 | Last Updated: 2 years ago
Posted: Dec 31, 2018 | Last Updated: 2 years ago

پاکستان نے اپنے قیام سے آج تک جتنے مسائل کا سامنا کیا اگر ان کی گنتی کرنے بیٹھ جائیں تو فہرست بہت طویل ہو جائے گی، وطن عزیز کو اب بھی کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، ان سے عملی طور پر نبرد آزما ہونے کیلئے ملک میں کوئی اقدامات نہیں کئے گئے۔

حالیہ مردم شماری کے اعداد و شمار کافی خطرناک ہیں کیونکہ ہمیں یہ تو پتہ چل گیا کہ آبادی کتنی ہے مگر آبادی کو درپیش مسائل سے شاید ہم پوری طرح واقف نہیں یا ہونا نہیں چاہتے، اس وقت سب سے بڑا مسئلہ جو قوم کو لاحق ہے وہ پانی کا ہے، کوئی ایسا شہر یا علاقہ نہیں جو پانی کے مسئلے سے دوچار نہ ہو، ملک میں بارشوں سے ہر سال تقریباً 145ملین ایکڑ فِٹ پانی آتا ہے لیکن ذخیرہ کرنے کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے صرف 13.7ملین ایکڑ فِٹ پانی بچایا جاسکتا ہے۔

پاکستان میں سب سے زیادہ خشک سالی کا شکار صوبہ بلوچستان ہے جس کا دار و مدار بارشوں پر ہے مگر گزشتہ کئی سالوں سے موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بارشیں متاثر ہیں اور نہ ہونے کے برابر ہیں، صرف بلوچستان ہی نہیں پورے ملک میں بارشوں کا یہی حال ہے جبکہ زیر زمین پانی مزید نیچے سے نیچے ہوتا جارہا ہے، کئی مقامات پر تو 200 فٹ پر بھی پانی دستیاب نہیں، مگر استعمال میں کوئی احتیاط نہیں کررہا۔

ملک میں اونچے ڈیموں کی تعداد 150 کے قریب ہے، مگر پاکستان ملک سے گزرنے والے پانی کا صرف 10 فیصد ہی ذخیرہ کرپاتا ہے، ارسا پہلے ہی خبردار کرچکا ہے کہ اگر ملک میں مون سون کی بارشیں نہیں ہوتیں تو پانی کا بحران مزید بڑھ جائے گا جبکہ آئی ایم ایف، یو این ڈی پی اور دیگر اداروں کی مختلف رپورٹس میں بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان میں پانی کا بحران تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے اور 2040ء تک پاکستان خطے کا سب سے کم پانی والا ملک بن سکتا ہے۔

پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ پانی استعمال کرنیوالے ممالک کی فہرست میں چوتھے نمبر پر ہے اور پورے ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کے صرف 2 بڑے ذرائع ہیں جن کی مدد سے محض 30 دن کا پانی جمع کیا جاسکتا ہے، تو کیا 20 کروڑ آبادی والے زرعی ملک کیلئے ایک ماہ کا پانی کافی ہے؟، گزشتہ سال ارسا نے سینیٹ میں بتایا تھا کہ پانی کے ذخائر نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان میں ہر سال 21 ارب روپے مالیت کا پانی ضائع ہوجاتا ہے اور جتنا پانی سمندر میں جاتا ہے اسے بچانے کیلئے منگلا ڈیم کے حجم جتنے 3 مزید ڈیموں کی ضرورت ہوگی لیکن کیا ڈیم بنانا ہی مسئلے کا حل ہے۔

پاکستان میں پانی کی کمی کی چند بڑی وجوہات ہیں جن میں موسمیاتی تبدیلی، بارشوں کی کمی، تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور پانی بچانے کے انتہائی ناقص ذرائع ہیں، اس کے علاوہ سب سے اہم ملک بھر میں پانی کے غیر ذمہ دارانہ استعمال سے بھی پانی کی بڑی مقدار ضائع ہوجاتی ہے، پاکستان کو پانی کے شدید بحران سے بچانے کیلئے ضروری ہے کہ ڈیم بنانے کے ساتھ ساتھ پانی کے ضیاع کو روکنے کے اقدامات کئے جائیں۔

ہمیں ذاتی طور پر آنکھیں کھولنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ مسئلہ کسی ایک جگہ کا نہیں بلکہ ملک بھر کا ہے، آنے والی نسلوں کا ہے، ہمیں روز خبریں دیکھ کر ڈیم نہ ہونے کا شکوہ کرنے کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کا احساس بھی کرنا ہوگا، بچپن سے ہم سب یہ سنتے ہوئے آئے ہیں کہ کسی کو پانی پلانا ثواب کا کام ہے، اب ہمیں عملی طور پر اس پر عمل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ پانی جو ہم ضائع کررہے ہیں، کسی کی پیاس بھی بجھا سکتا ہے۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube