Saturday, November 28, 2020  | 11 Rabiulakhir, 1442
ہوم   > بلاگز

شام میں امریکہ کی شکست یا واپسی کا بہانہ

SAMAA | - Posted: Dec 21, 2018 | Last Updated: 2 years ago
Posted: Dec 21, 2018 | Last Updated: 2 years ago

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام سے فوجوں کی واپسی کا اعلان کیا تو پوری دنیا میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں۔ امریکہ کے سب سے بڑے حریف روس کے صدر نے اسے ایک خوش آئند فیصلہ قرار دیا تو امریکہ کہ کی بعض اہم سیاسی و سرکاری شخصیات نے اسے روس اور ایران کی فتح قرار دیا ۔
لگ بھگ ساڑھے سات سال قبل شام کے شہروں میں بشار الاسد کے خلاف احتجاج شروع ہوا جس میں شامل افراد بے روزگاری ، بدعنوانی اور سرکاری پابندیوں کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پرآگئے۔ مظاہرین کے خلاف ریاستی طاقت کا استعمال ہوا تو انہوں نے بھی حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھا لیے اور یہ جنگ داخلی جنگ کے بجائے بین الاقوامی دھڑوں اور نظریات کی جنگ میں تبدیل ہو گئی جس کی ایک طرف روس اور ایران اور دوسری طرف امریکہ،سعودی عرب اور ترکی کا اثر و رسوخ صاف دکھائی دینے لگا ۔

صرف یہی نہیں بلکہ کسی نہ کسی حوالے سے برطانیہ، جرمنی اور فرانس بھی اس کا حصہ بن گئے۔ اس دوران بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹانے کے ساتھ ملک میں جاری خانہ جنگی کو ختم کرنے کے لیے بیرونی طاقتوں کی حمایت سے کئی دھڑے آمنے سامنے آئے اور شام کے شہروں کی اینٹ سے اینٹ بجنے لگی۔ ان میں شام کے اندر صدیوں سے رہائش پذیر شیعہ اور سنی مسلک سے تعلق رکھنے والے دھڑے بھی موجود تھے۔ کردوں کی تحریک بھی شامل تھی اور حزب اللہ بھی اپنے مخالفین سے برسرپیکار تھی ۔ مخالف دھڑے حکومت کے خلاف نبرد آزما ہوئے تو شام کے کئی شہر فضائی حملوں کی شدت کو برداشت نہ کرتے ہوئے ملبے کا ڈھیر بن گئے۔ خواتین اور بچے محفوظ پناہ گاہوں کی تلاش میں نکلے مگر زندگی نے زیادہ تر کا ساتھ راستے میں ہی چھوڑ دیا۔ایک اندازے کے مطابق اس خانہ جنگی اور غیر ملکی تسلط کی وجہ سے لگ بھگ چار لاکھ شہری ہلاک ہوئے اور ایک لاکھ ایسے بدنصیب بھی تھے جن کے بارے میں کوئی یہ نہیں بتا سکتا کہ وہ زندہ ہیں یا مر چکے ہیں۔


اس سال کے نویں مہینے کے دوران شام میں روس کے ایک جاسوسی طیارے کو نشانہ بنایا گیا جس میں 14 افراد سوار تھے ۔اس سے قبل بھی شام کی حدود میں روس کے دو طیارے تباہ کیے گئے تھے، مگر اس طیارے کی تباہی کا الزام اسرائیل پر عائد کیا گیا ۔اس سے قبل بھی اسرائیل شام کے فوجی اڈوں کو میزائلوں کا نشانہ بنانےکے بعد یہ ثابت کرچکا تھا کہ اسے نہ صرف امریکہ کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے بلکہ وہ بھی اس جنگ میں برا بر کا شریک ہے ۔ صورت حال اس وقت زیادہ خراب ہوئی جب دولت اسلامیہ اور القاعدہ جیسی تنظیموں نے بھی اس ملک میں اپنی کارروائیاں کا آغاز کیا جنہیں ختم کرنے کے بہانے غیر ملکی جنگی کارروائیاں شروع ہوئیں تو شام کے شہری مولی گاجر کی طرح کٹنے لگے۔ شام میں جاری جنگ اور اس میں غیر ملکی تسلط نے اس وقت ایک نیا موڑ لیا جب 2 دن قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے دولت اسلامیہ کی تباہی کی خوش خبری سناتے ہوئے امریکی فوج کو شام سے نکالنے کا اعلان کیاجس سے یہ بات ثابت کرنے کی بھی ناکام کوشش کی گئی کہ شام میں دولت اسلامیہ کی موجودگی کے سوا اور کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا۔
بدلتی ہوئی بین الاقوامی صورت حال میں شاید امریکہ کے لیے یہ ممکن نہیں رہا کہ وہ ماضی کی طرح ساری دنیا کے مسائل حل کرنے کے بہانے اپنے فوجیوں کو راتوں رات دوسرے ممالک روانہ کردے اور تب تک وہاں جما رہے جب تک انسانوں کے ساتھ وہاں کے وسائل بھی تباہ و برباد نہ ہو جائیں یا ان پر قبضہ نہ کر لیا جائے ۔ جس طرح افغانستان میں طویل عرصہ تک قیام اور اپنے ہزاروں فوجیوں کی قربانی کے بعد امریکہ کو وہاں سے نکلنے کے لیے پڑوسی ممالک کی امداد کی ضرورت ہے بالکل اسی طرح وہ شام سے بھی نکلنے کے بہانے تلاش کر رہا ہے، جس کی ایک وجہ شاید یہ بھی ہو سکتی ہے کہ مشرق وسطیٰ کے علاقائی حالات انتہائی تیزی کے ساتھ اس کے ہاتھوں سے نکلتے چلے جا رہے ہیں اور سرد جنگ کے دوران اس کی مخالفت کرنے والا روس چاہے اس کے لیے زیادہ خطرناک ثابت نہ رہا ہو مگر چین کی صورت میں بہرحال اسے ایک ایسے حریف کا سامنا ضرور ہے جو نہ صرف میدان جنگ بلکہ معاشی میدان میں بھی اس کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتا ہے ۔

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے :

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube