Tuesday, October 19, 2021  | 12 Rabiulawal, 1443

نواز شریف اور آصف زرداری ملاقات میں حائل رکاوٹیں؟

SAMAA | - Posted: Dec 19, 2018 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Dec 19, 2018 | Last Updated: 3 years ago

 

مختلف ٹی وی چینلوں پر چلنے والی ایک خبر کے مطابق سابق صدر آصف ​زرداری اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے اور دونوں رہنماؤں کی اگلے ماہ جنوری میں ایک ملاقات بھی متوقع ہے، حالانکہ اس خبر کی تردید پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) دونوں کی جانب سے آچکی ہے، لیکن تردید کا مطلب یہ بالکل نہیں کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ملاقات نہیں ہوسکتی، سابق صدر اور سابق وزیراعظم دونوں کے ہی ستارے پچھلے کافی عرصے سے گردش میں ہیں۔

سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز اڈیالہ جیل سے ستمبر میں رہا ہوئے جب اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ کرپشن ریفرنس میں ان کی سزائیں معطل کیں، لیکن خطرہ پھر بھی نہیں ٹلا، نواز شریف کیخلاف 2 مزید کرپشن ریفرنس احتساب عدالت میں زیر سماعت تھے اور دونوں ریفرنسز کا فیصلہ 24 دسمبر کو سنانے کا فیصلہ دیا گیا ہے۔

سیاسی پنڈتوں کا کہنا ہے کہ نواز شریف دوبارہ جیل جاسکتے ہیں، تاہم ان کی بیٹی مریم نواز ان دونوں کرپشن ریفرنسز میں محفوظ رہیں گی۔

دوسری جانب سابق صدر اور پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زردای بھی اس وقت مصیبت میں مبتلا ہیں کیونکہ انہیں جعلی اکاؤنٹس کیس میں جے آئی ٹی کی تحقیقات کا سامنا ہے، اس حوالے سے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم نے آج اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی، اس رپورٹ کی روشنی میں سابق صدر جیل بھی جاسکتے ہیں۔

اس صورتحال میں نواز شریف اور آصف علی زردای ہاتھ ملا سکتے ہیں اور تجزیہ کاروں کا بھی یہی کہنا ہے کہ حکومت کو ٹف ٹائم دینے کیلئے پیپلز پارٹی اور ن لیگ کا اتحاد اپوزیشن کیلئے سودمند ثابت ہوگا۔

کچھ روز قبل ایک صحافی نے آصف زرداری سے سوال کیا کہ کیا ان کی نواز شریف سے کوئی ملاقات متوقع ہے؟  جس پر زرداری صاحب نے مذاقاً جواب دیا کہ آپ ’’صحافی‘‘میاں صاحب سے ملاقات طے کروادیں وہ ملنے کو تیار ہیں۔

زرداری صاحب کے پچھلے دنوں کچھ بیانات دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ اداروں سے مفاہمت کے موڈ میں نہیں کیونکہ ان کے گرد گھیرا تنگ کیا جارہا ہے۔ ایک بیان میں سابق صدر نے کہا تھا کہ وہ لوگ جو صرف 3 سال کیلئے آتے ہیں وہ کیسے پالیسیاں بناسکتے ہیں؟۔ یہاں یقیناً ان کا اشارہ دو اداروں کے سربراہوں کی طرف تھا۔

دوسری جانب نواز شریف اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد سے خاموش ہیں اور ایسا لگ رہا ہے جیسے عام انتخابات سے پہلے والے نواز شریف کہیں کھو گئے ہیں، خاموشی کی ایک وجہ بیگم کلثوم نواز کی موت کا صدمہ بھی ہے اور شاید وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی خاموشی ان کیلئے حالات بہتر کردے۔

نواز شریف کے کچھ قریبی ساتھیوں سے پچھلے ماہ میں ملاقاتیں ہوئیں اور وہاں زرداری صاحب بھی موضوع گفتگو رہے۔ ان تمام افراد کا کہنا ہے کہ فی الحال آصف زرداری پر بھروسہ کرنا نواز شریف کیلئے مشکل ہے، میاں صاحب سمجھتے ہیں کہ پیپلزپارٹی نے تحریک انصاف اور ان کے دیگر دشمنوں کے ہاتھ مضبوط کئے اور پانامہ کیس کو اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا۔

ن لیگی رہنماؤں کے مطابق میاں صاحب سینیٹ چیئرمین کا انتخاب بھی ابھی تک بھولے نہیں ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ زرداری صاحب نے اپنی مشکلات کم کرنے کیلئے تحریک انصاف کے ساتھ مل کر غیر معروف صادق سنجرانی کو سینیٹ کا چیئرمین بنادیا۔

دوسری جانب زرداری صاحب کا شکوہ یہ ہے کہ میاں صاحب نے ایسے وقت جب انہیں سہارے کی ضرورت تھی ان سے ملاقات سے انکار کردیا تھا، یہ ملاقات زرداری صاحب کے اینٹ سے اینٹ بجا دینے والے بیان کے بعد منسوخ کی گئی تھی۔

پیپلزپارٹی اور ن لیگ کا اتحاد تب ہی ممکن ہے جب دونوں جماعتوں کے سربراہ ایک دوسرے پر بھروسہ کرنے لگیں گے۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف پہلے ہی لاک اپ میں ہیں اور اگر نواز شریف اور زرداری صاحب بھی جیل چلے جاتے ہیں تو حکومت کو مکمل طور پر فری ہینڈ مل جائے گا۔ عام رائے یہ ہی ہے کہ شاید طاقتور حلقے یہی چاہتے ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube