Tuesday, September 29, 2020  | 10 Safar, 1442
ہوم   > بلاگز

کراچی کو شدید گرمی کا سامنا کیوں؟

SAMAA | - Posted: Dec 18, 2018 | Last Updated: 2 years ago
SAMAA |
Posted: Dec 18, 2018 | Last Updated: 2 years ago

تحریر: منصور رضا

کراچی میں سال 2018 میں ہیٹ ویو سے 60 افراد ہلاک ہوئے جبکہ کچھ سال قبل 2015 میں گرمیوں میں درجہ حرارت 49 ڈگری پر پہنچنے کی وجہ سے 1200 افراد موت کے منہ میں چلے گئے۔ لوگوں کی موت وجہ ہیٹ اسٹروک اور جسم میں پانی کی کمی ہونا تھا۔

ان اموات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف درجہ حرارت میں اضافہ موت کا باعث نہیں بنا۔ دوہزار پندرہ کا مئی اور دوہزار اٹھارہ کا جون مون سون سے قبل سال کا گرم ترین مہینہ سمجھا گیا لیکن یہ دونوں ماہ رمضان کے تھے جس میں لوگوں نے روزے رکھے ہوئے تھے۔

دوہزار پندرہ میں ہیٹ ویو سے متاثر ہونے والے بزرگ تھے جن میں سے مرنے والے بیشتر مزور طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ تعلیمی ماہرین اور عوامی صحت کے پیشہ ور افراد نے ابھی تک 2018 کی موت کا تجزیہ نہیں کیا ہے۔

سن 1931 سے 2015 تک کراچی کے موسم کا ریکارڈ یہ ظاہر کرتا ہے کہ گرمیوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سے اوپر پہلی مرتبہ نہیں گیا بلکہ گزشتہ 94 سال میں درجہ حرارت سات بار اوپر جا چکا ہے۔ پھر 2015 اور 2018 میں ہیٹ ویو میں ایسا نیا کیا تھا جو موت کی وجہ بنا؟

بلند و بالا عمارتیں

شہر کے منصوبہ سازوں کا خیال ہے کہ ہیٹ ویو کی سادہ اور واضح وجوہات ہیں۔ انہوں نے گرم جزائر کی تخلیق کےلئے کراچی میں تعمیراتی ماحول کے منصوبہ ساز اور عمل درآمد کرنے والوں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

گرم جزائر کی سطح جذب کرنے والی اور نم ہوتی تھی لیکن اب یہ غیر جاذب اور خشک بن گئے۔ ان تبدیلیوں کی وجہ سے شہری علاقے، دیہی علاقوں کے مقابلے میں گرم ہو جاتے ہیں۔ اس طرح کرہ ارض پر زیادہ درجہ حرارت والے جزائر کی تخلیق ہوتی ہے۔

کراچی میں اربن ریسورس سینٹر میں منعقد ایک حالیہ مباحثے میں ماہرین کا کہنا تھا کہ عمومی طور پر ساحلی شہروں کی منصوبہ بندی کرتے وقت فلک بوس اور اونچی عمارتوں کے درمیان ہوا کا گزر رکھا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے کراچی اس قواعد سے مُبرّا ہے۔ اس وقت سو سے زائد اونچی عمارتیں تعمیر کی جا رہی ہیں جو کہ کراچی کی اونچائی کی درجہ بندی میں اضافہ کرے گا۔ عمارتوں سے متعلق قوانین کے نتائج نے گھروں اور گلیوں کو مزید گرم کر دیا ہے۔

سبز جگہیں

یہ یقینی طور پر مدد نہیں کرتا کیونکہ کراچی کی سبز جگہیں سکڑ رہی ہیں جو کہ گرمی سے بچنے کےلئے کچھ مدد فراہم کرتی تھیں۔ کِڈنی ہل پارک کا 64 ایکڑ کا نصف حصہ قبضہ مافیا کی نظر ہو چکا ہے، گٹر باغیچہ کی 1017 ایکڑ زمین میں سے صرف 480 کی جگہ رہ گئی ہے جبکہ تجاوزات کی وجہ سے پی ای سی ای ایس کے بلاک 2 اور 6 میں واقع جھیل پارک کی 2۔16 ایکڑ زمین میں سے صرف 5 ایکٹر زمین باقی رہ گئی ہے۔ اس طرح سن 1883 میں خان بہادر بہرام جی جہانگیر راج کوٹ والا کی جانب سے عطیہ کیا گیا جہانگیر پارک تقریبا چھ ایکڑ کے رقبے پر مشتمل تھا لیکن اس کا بھی ایک تہائی حصہ کاٹ دیا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گاڑیوں اور ایئر کنڈیشنر کی فروخت میں اضافہ ماحولیاتی تباہی اور درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ بنتا ہے۔ ماہرین میں سے ایک کے مطابق پچھلے سال کراچی میں ایئر کنڈیشنر کی فروخت میں 17 فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا اور 5 فیصد مزید دیکھنے کی توقع ہے۔

زرعی زمین

کراچی کے دیہی علاقوں کو کاروباری مفادات سے بھی سنگین صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ماہرین کے مطابق گڈاپ اور ملیر ٹاؤن 1980 کے دہائی سے ہی خطرے میں ہیں۔ تعمیراتی کام کےلئے ملیر ندی سے نکالی جانے والی ریت سے اسکی گرفت میں کمی ہوئی ہے۔ اس کے نتیجے میں کنوے خشک ہوئے ہیں اور اردگرد کے کھیتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ کراچی کی زرعی زمین تمعیراتی کام کی وجہ سے سکڑ چکی ہے۔

آرکیٹیکٹس اور منصوبہ سازوں کے پاس انفرادی اور ادارے کی سطح پر تیکنیکی حل ہے۔ لیکن کسی بھی حل کو آگے بڑھانے کی ضرورت سے پہلے، ایک سوال کا جواب دینے کی ضرورت ہے۔

اگر ہیٹ ویو تعمیراتی ماحول اور قدرتی ماحول کے درمیان مستقل تنازعات کا نتیجہ ہے اور اگر شہر کی منصوبہ بندی تجارتی مفادات کے مطابق ہے جو کہ ایک طاقتور اشرافیہ کی طرف سے آ رہا ہے تو پھر موسمیاتی تبدیلی کا علم کیسے ماحول کے ان گمشدہ عوامل کو ازسرنو تسشکیل دے گا؟

ایک اچھا ماہر ماحولیات فطرتی طور پر اینٹی اسٹبلشمنٹ ہوتا ہے کیونکہ کمرشل اسٹیبلشمنٹ اور حکومتیں دنیا بھر میں ماحولیاتی خرابی کی ذمہ دار ہیں۔ اور کیا کراچی میں آنے والی گرمی کی لہر اس بات کا واضح ثبوت نہیں؟

WhatsApp FaceBook

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube