Friday, January 28, 2022  | 24 Jamadilakhir, 1443

کیویز کے ہاتھوں ٹیسٹ سیریز میں شکست، ذمہ دار کون؟

SAMAA | - Posted: Dec 8, 2018 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Dec 8, 2018 | Last Updated: 3 years ago

جوں جوں کرکٹ میں نئے نئے فارمیٹ متعارف کروائے جا رہے ہیں کھلاڑیوں کا انداز جارحانہ ہوتا جا رہا ہے۔ ٹی ٹوئنٹی کے بعد ٹی ٹین اور ہانگ کانگ میں ہونے والے پانچ اوورز کا کرکٹ ٹورنامنٹ متعارف کروایا گیا تو کھلاڑیوں نے مختصر اوورز والے کرکٹ میچز میں اپنی کارکردگی سے شائقین کرکٹ کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ مختصر اوورز والے کرکٹ میچز کی بڑھتی ہوئی ہوئی مقبولیت کے سبب ٹیسٹ کرکٹ کا مستقبل خطرے میں لگتا ہے کیونکہ اب پاکستان سمیت دنیا بھر میں ٹیسٹ کرکٹرز ناپید ہوگئے ہیں۔ نئے کھلاڑی ٹیسٹ کرکٹ کے بجائے ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے کھیلنے کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ شائقین کرکٹ ٹیسٹ میچز دیکھنے سے کتراتے ہیں۔

آئی سی سی بھی ٹیسٹ میچز کو پانچ کے بجائے چار روز تک محدود کرنے کا سوچ رہی ہے۔ مختصر اوورز والے میچز کی وجہ سے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان کرکٹ ٹیم کا ہوا ہے۔ پاکستان کو پچھلے دس برسوں میں ایک سے بڑھ کر ایک درجنوں ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے پلیئرز ملے ہیں لیکن اگر ٹیسٹ کرکٹ کی بات کی جائے تو سوائے اظہر علی، یاسر شاہ اور محمد عباس کے پاکستان کو کوئی بھی بہترین ٹیسٹ کرکٹر نہیں ملا۔

پاکستان کو کیویز کے ہاتھوں تین ٹیسٹ میچز کی سیریز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے شکست کا ذمے دار بلے بازوں کو قرار دیا ہے۔ یہ درست ہے کہ نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں ناکامی کی وجہ بلے بازوں کی ناقص کارکردگی تھی مگر کپتان سرفراز احمد کو بطور کپتان شکست کی ذمے داری قبول کرنی چاہیے تھی کیونکہ وہ بطور کپتان اور بطور بلے باز خود بھی ناکام ہوئے۔ پاکستان میں ٹیسٹ کرکٹ کا مستقبل بہت زیادہ بھیانک نظر آ رہا ہے اس لئے پاکستان کرکٹ بورڈ کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کے لئے الگ کپتان مقرر کرے تاکہ سرفراز احمد پر دباؤ کم ہو اور وہ ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے پر خصوصی توجہ دے سکیں۔

قومی ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی کے لئے دو نام فیورٹ سمجھے جا رہے تھے جن میں محمد حفیظ اور اظہر علی شامل ہیں لیکن محمد حفیظ کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے اعلان اور اظہر علی کی جانب سے ون ڈے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے اعلان کے بعد قومی ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی کے لئے اظہر علی کا نام سب سے زیادہ فیورٹ ہوگیا ہے۔ اظہر علی ایک بہترین ٹیسٹ پلیئر ہیں اور وہ قومی ٹیسٹ ٹیم کے بہترین کپتان ثابت ہو سکتے ہیں۔ ٹیسٹ ٹیم میں مڈل آرڈر بیٹسمینوں کے لئے یاسر حمید اور کامران اکمل جیسے سینئر پلیئرز کو موقع ملنا چاہیے جو نوجوان پلیئرز کے ساتھ مل کر قومی ٹیسٹ ٹیم کو دنیا کی نمبر ون ٹیسٹ ٹیم بنا سکتے ہیں۔

کیویز کے ہاتھوں شکست کے بعد مصباح الحق، یونس خان اور محمد یوسف کی کمی بہت محسوس ہوئی۔ پاکستان کو ایسے ٹیسٹ پلیئرز کی ضرورت ہے جو مصباح الحق، یونس خان اور محمد یوسف کا متبادل ثابت ہوں اور یہ تبھی ممکن ہے جب ملک کے گلی محلوں میں چھپے ٹیلنٹ کو سامنے لانے کی کوشش کی جائے جوکہ پی سی بی کی ذمے داری ہے، قومی ٹیم کے سابق کپتان اور موجودہ وزیراعظم عمران خان کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے تجربے سے پاکستان ٹیسٹ ٹیم کو دنیا کی نمبر ون ٹیسٹ ٹیم بنائیں کیونکہ آج بھی ان کا شمار دنیا کے مایہ ماز ٹیسٹ پلیئرز میں ہوتا ہے۔ پاکستان میں ٹیلنٹ کی بلکل بھی کمی نہیں مگر ٹیلنٹ کو سامنے لانے کے لئے پی سی بی اور حکومت وقت کو کردار ادا کرنا ہوگا۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube