Sunday, August 9, 2020  | 18 Zilhaj, 1441
ہوم   > بلاگز

کیا واقعی کراچی بدل رہا ہے؟

SAMAA | - Posted: Dec 8, 2018 | Last Updated: 2 years ago
Posted: Dec 8, 2018 | Last Updated: 2 years ago

کراچی کی ایمپریس مارکیٹ میں بےہنگم تجاوزات کے خلاف آپریشن شروع ہوا تو کئی روز تک سڑکوں پر بکھرا ملبہ روشنیوں کے شہر کراچی کی بجائے شام کے کسی ایسے شہر کا منظر پیش کر رہا تھا جسے بمباری کا نشانہ بنایا گیا  ہو۔

 پھر یہ منظر رفتہ رفتہ کراچی کے اکثر مقامات  پر دیکھنے کو ملا ۔ کہنے کو تو کراچی بدل رہا ہے لیکن اس بدلاؤ کے پیچھے ہزاروں لوگ اور ان سے جڑے لاکھوں لوگوں کا اجڑنا شامل ہے۔ یوں تو آج ہم بڑی شان و شوکت سے ایمپریس مارکیٹ کو دیکھتے ہیں، اس کے تصاویر بناتے ہیں لیکن کیا آس پاس دفن لاکھوں خوابوں پر کسی نے غور کیا؟

صدر کراچی کی شاید واحد مارکیٹ ہے جہاں کسی طرح کی تفریق کے بغیر ہر طبقے کے لوگ خریداری کیلئے آتے ہیں، وجہ صرف ایک ہی ہے کہ ضرورت کی ہر چیز سستی اور ایک جگہ پر مل جاتی ہے مگر اب شاید ایسا نہ ہو۔ یوں تو ہم سب اور اس شہر کے ادارے بھی جانتے ہیں کہ اصل تجاوزات کہاں اور کیا ہیں مگر شاید وہ جرات نہ ہو کہ وہاں کاروائی کی جائے۔ چلیں ایک مثال کراچی میں چائنہ کٹنگ کو ہی دیکھ لیں، یاد تو ہوگا ہی کہ یہ سب کب اور کس کے کہنے پر شہر بھر میں بنائی گئیں، اور ڈھڑلے سے قبضہ کیا گیا۔ نہ صرف قبضہ کیا بلکہ آبادیاں بسائی گئیں۔ اب تو وہاں جا کر اندازہ کرنا بھی  مشکل ہے کہ آیا یہ کبھی کوئی میدان تھا یا نہیں ۔

آج کراچی کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک تجاوزات کے نام پر آپریشن جاری ہے مگر کیا صرف تجاوزات وہیں ہیں جو فٹ پاتھ پر قائم ہیں، کیا ایمپریس مارکیٹ ہی کراچی کی واحد تجاوزات تھی، تجاوزات کے نام پر کیا صرف لوگوں کو بےروزگار کرنا ہی مقصد ہے، کیا ان سب کی بنیاد تک بھی جایا جائے گا کہ آیا یہ سب کیسے شروع ہوا اور یہاں تک کیسے پہنچا۔کراچی میں اس سے پہلے بھی بڑے بڑے آپریشن ہوئے لیکن ان کے نتائج اس لئے کسی کو یاد نہ ہوں کیونکہ مقاصد حاصل نہ ہوسکے۔ گزشتہ 11برس کے سندھ پر پیپلزپارٹی کی حکمرانی ہے کیا وہ ان سب سے لاعلم ہے۔ ویسے تو پیپلزپارٹی کا نعرہ روٹی، کپڑا اور مکان ہے لیکن وہی اپنے اس نعرے کے خلاف کام میں پیش پیش ہے۔

روزگار چھین کر بےروزگار کرنا اور پھر اس کے بعد شاید ان لوگوں کے پاس کپڑا بھی نا بچے کیونکہ مکان تو ویسے بھی اکثر لوگ نہیں رکھتے۔ کراچی کے نام پر سیاست کرنے والی جماعت ایم کیو ایم کی بات کریں تو وہ فی الحال حکومت میں مزے کرنے اور سیاست کرنے میں لگی ہے۔ کہنے کو سب عدالت کے حکم پر ہورہا ہے مگر کیا عدالت نے لوگوں کے نقصان کے ازالے سے بھی روکا ہے۔ لوگوں کی تباہی کیلئے تو کراچی کے ادارے ہمہ وقت تیار رہتے ہی ہیں مگر اس شہر کی ترقی کے نام پر ووٹ لیکر آنے والے کیا لوگوں کو اس طرح روزگار دے پائیں گے۔ صرف اولڈ سٹی ایریا میں ساڑھے 5 ہزار سے زائد دکانیں توڑیں گئیں جبکہ پورے شہر میں یہ تعداد کہیں زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ ٹوٹنے والے گھروں کی بھی اچھی خاصی تعداد ہے۔ کیا اعلان سے بڑھ کر ان افراد کے لئے کچھ ہوگا ۔

خیر ان سب سے ہمیں کیا، اپنا سب صحیح چل رہا ہے نا تو کس بات کی پریشانی؟ جہاں تک بات ہے حکومتی اداروں کی تو ان کے بارے میں لکھنے کیلئے الفاظ بہت کم ہیں ۔

WhatsApp FaceBook

2 Comments

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

  1. Console game  September 24, 2019 5:11 pm/ Reply

    Why visitors still use to read news papers when in this technological globe all is accessible
    on net?

  2. interieuradvies vtwonen  October 26, 2019 11:46 pm/ Reply

    Hello, I think your site might be having browser
    compatibility issues. When I look at your blog site in Safari,
    it looks fine but when opening in Internet Explorer,
    it has some overlapping. I just wanted to give you a quick heads up!
    Other then that, very good blog!

متعلقہ خبریں
WhatsApp FaceBook
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube