ہوم   >  بلاگز

بلوچستان بازی لے گیا

1 year ago

عالمی بینک کی جاری نئی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت کی شرح کم ہوئی ہے مگر پھر بھی پاکستان کا صوبہ بلوچستان غریب ترین صوبہ قرار دیا گیا ہے۔  واشک ملک کا غریب ترین جبکہ ایبٹ آباد امیر ترین ضلع قرار ديا گيا ۔

بلوچستان کے ضلع واشک کی 72 فیصد آبادی  انتہائی غربت کا شکار ہے۔ اب سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس صوبے سے اربوں روپے کے ذخائر نکل رہے ہیں اس صوبے کی یہ حالت کس وجہ سے ہوئی اور کس کو قصور وار ٹہرائیں ، کیا وفاق قصور وار ہے یا پھر صوبائی حکومت، جس شہر سے سونے کی کانیں دریافت ہوں اس کے لوگ آج بھی زندگی کی بنیادی چیزوں سے محروم ہیں ۔

سوال بہت سے دماغ میں اٹھتے ہیں، جب بلوچستان کی اس حالت کے بارے میں پتہ چلتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ آخر قصور وار ہے کون ؟ جس سے سوال کیا جائے وہ بلوچستان کے سرداروں کو اس کا ذمہ دار ٹھراتا ہے ۔ جو کہ کافی حد تک درست بھی ہوگا مگر جناب واشک جو پاکستان کا غریب ترین علاقہ ہے وہ تو مکران میں آتا ہے جہاں کسی سردار کی کوئی خاص اجارہ داری نہیں ۔ پھر بات ہوتی ہے حکومت کی، جی بلکل ٹھیک کہ ان ہی سرداروں نے ہمیشہ حکومت سنبھالی اور بلوچستان اسمبلی کو رونق بخشی مگر کچھ سال قبل مکران کے ایک مڈل کلاس ڈاکٹر مالک صاحب نے حکومت سنبھالی اور واشک ان کے گھر سے زیادہ دور نہیں ۔ جناب پھر اس حالت کا قصور وار کون ؟ کیا ان سیاست دانوں کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اگر واقعی یہ بلوچستان کے سیاست دان اتنے مجبور ہیں تو انہوں نے سیاست کی نوکری کیوں اپنائی ہوئی ہے ؟

بلوچستان کے ایک اسکول کی تصویر کون بھول سکتا ہے جو پچھلے دنوں پورے سوشل میڈیا کی زینت بنی تھی ۔ ہمارے حکمران ہر دفعہ ایک نیا لولی پوپ بلوچستان کے لوگوں کے لئے لے کر آجاتے ہیں جیسے کہ ’’ آغاز حقوق بلوچستان ‘‘مگر دکھ کا مقام کہ حالات وہی کے وہی ہیں ۔ خان صاحب نے پورے ملک میں درخت لگانے کی کوشش کی مگر بلوچستان اس سے بھی محروم رہا ۔

کیا سونے اور چاندی سے بھری اس زمین کے عوام کا کبھی کوئی فائدہ ہوگا بھی یا نہیں۔ این ڈی ایم اے کی رپورٹ میں سندھ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں کے خشک سالی سے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کردیا ۔ اس کے ساتھ خبردار کیا ہے کہ آنے والے وقت میں صورتحال مزید سنگین نوعیت اختیار کرسکتی ہے کیوں کہ ملک کے کئی حصوں میں خشک سالی کا اندیشہ ہےاور سونے پر سہاگہ کہ صوبہ بلوچستان میں قحط سالی کے سبب غذائی قلت خطرناک شکل اختیار کر گئی ہے اور صوبے میں 52فیصد بچوں کی صحیح نشوونما نہیں ہو سکی جبکہ بچوں کی اموات کی شرح بھی باقی صوبوں کے مقابلے میں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے ۔

اس صوبہ کے حالات کی بہتری وہاں کے سردار یا سیاست دانوں سے ضرور مشروط ہے مگر جناب اگر یہ اپنے علاقوں سے اس قدر سنجیدہ نہیں تو سیاست کے میدان چھوڑ کیوں نہیں دیتے ؟ سوال تھوڑا مشکل ہے مگر اسکا جواب تلاش کرنا ضروری ہے۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں