ہوم   >  بلاگز

کیا کراچی میں تجاوزات کیخلاف یہ آخری آپریشن ہے؟

10 months ago

کیا کراچی کے علاقے صدر کی انجیوپلاسٹی ہوگئی ہے؟ شہرقائد کا دل کہلایا جانے والا یہ علاقہ  واقعی قبضہ مافیا کے چنگل سے آزاد ہوچکا ہے؟ ان سوالوں کے جوابات یقینا قبل از وقت ہوں گے لیکن اس وقت ایمپریس مارکیٹ، اکبر روڈ، پریڈی اسٹریٹ اور زینب مارکیٹ کا علاقہ جو نقشہ پیش کر رہا ہے وہ یقینا شہریوں کیلئے خوشگوار حیرت سے کم نہیں۔

تجاوزات کی بھرمار، ٹھیلے، پتھاروں کے باعث بدترین ٹریفک جام نے کئی دہائیوں سے روشنیوں کے شہر کا حُسن گہنا رکھا تھا۔ پارکنگ پلازہ سے ریگل چوک تک جو حال ہوتا، وہ خدا کی  پناہ ہے۔ یہاں سے گزرنا ایسے تھا جيسے ٹريفک اور انسانوں کا سمندر ہو اور ڈوب کے جانا ہو۔ پيدل ہو يا سوار، یہاں پہنچ کر سب کی ايک ہی رفتار ہوجاتی تھی ۔کئی حکومتیں آئیں،کروڑوں اربوں روپے خرچ ہوئے لیکن مجال ہے کہ کوئی ان پتھاروں کو اپنی جگہ سے ہلا سکے۔ سپریم کورٹ کے احکامات کہیں یا پنجاب میں لینڈمافیا کیخلاف آپریشن کا اثر، بالاخر کے ایم سی کے بلڈوزر کو حرکت میں آنا پڑا۔

اب صورتحال کافی حد تک بدل چکی ہے، پتھاروں کے چنگل میں چھپی سڑکیں نمودار ہونے لگی ہیں،جہاں گھٹن کا ماحول تھا اب وہاں گشادگی ہے۔ پہلے پہل تو شہریوں کو یقین ہی نہیں آیا لیکن جب ایک کے بعد ایک دکان ملیا میٹ ہونے لگی تو تسلی ہوئی کہ ہاں کچھ ہو رہا ہے۔ لیکن یہ سوال اب بھی اپنی جگہ پر قائم ہے کہ کیا صدر میں تجاوزات کیخلاف یہ آخری آپریشن ہے؟

کچھ لوگ تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ کارروائی تجاوزات کیخلاف نہیں بلکہ معلقات کے خلاف ہے، یعنی انتظامیہ سپریم کورٹ کو دکھانے کیلئے دکانوں کے باہر نکلے چھجے اور پتھارے ہی ہٹھا رہی ہے، جنہیں آپریشن کے بعد دوبارہ اُسی حالت میں  واپس لایا جائے گا۔ ایمپریس مارکیٹ کے گرد دکانیں اب بھی قائم ہیں ۔ انتطامیہ کا موقف ہے کہ یہ دکانیں سیکیورٹی وجوہات پر نہیں ہٹائی گئیں، مناسب وقت دیکھ کر کارروائی کی جائے گی۔

ان دکانوں کو گرانا بہت ضروری ہے ورنہ یہی سمجھا جائے گا کہ اب بھی کچھ طاقتیں ہیں جن کے سامنے انتظامیہ بے بس ہے۔آپریشن کیخلاف سیاسی جماعتیں بھی میدان میں آگئی ہیں۔تحریک انصاف کےخرم شیرزمان نے آپریشن پراعتراض اُٹھادیا۔اُنہوں نے سارا ملبہ یہ کہہ کر میئرکراچی پر ڈال دیا کہ وسیم اختر سپریم کورٹ کے احکامات کی آڑ میں اپنا غصہ اُتار رہے ہیں لیکن آپریشن کے انچارج بشير صديقي کا کہنا ہے کہ خرم شيرزمان کا ہوٹل چونکہ زد ميں آچکا ہےاس ليے وہ شور مچا رہے ہيں۔شہرمیں ٹریفک کی بدترین صورتحال پر مسلسل خاموش رہنے والے اے این پی کے شاہی سید بھی اچانک ایمپریس مارکیٹ پر نمودار ہوئے اور انتظامیہ کو کوسنے لگے۔

صدر ہی کیا، شہر کی اہم ترین شاہراؤں پر قبضہ مافیا کا راج ہے۔ کراچی کا برسوں پرانا سنگین مسئلہ ٹریفک جام ہے اور اس کی وجہ ٹھیلے اور پتھارے ہیں۔ تجاوزات سے نہ صرف پولیس مال بناتی ہےبلکہ بااثراورسیاسی شخصیات کی تجوریاں بھی کئی سالوں سے اسی مافیا کی مرہون منت بھر رہی ہیں۔ کراچی والوں نے اس بار تبدیلی کے نام پر ووٹ دیا ہے اور تبدیلی اس مافیا سے ٹکر لیے بغیر ممکن نہیں۔ اسی لیے تبدیلی کی اُمید بھی تب تک کی جاسکتی ہے جب تک کے ایم سی کے بلڈوزر چل رہے ہیں، جوں ہی یہ رُکے شہر کو اپنی اصل حالت میں لانے کا خواب بھی کچلا جائے گا۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں