Wednesday, January 19, 2022  | 15 Jamadilakhir, 1443

سوشل میڈیا محلے کی خالہ

SAMAA | - Posted: Nov 13, 2018 | Last Updated: 3 years ago
Posted: Nov 13, 2018 | Last Updated: 3 years ago


ہر محلے میں ایک ایسی خاتون ضرور ہوتی ہیں جو محلے کی خالہ کہلاتی ہیں جن کا کام پورے محلے کی خبریں رکھنا ہوتا ہے، کس کے گھر شادی ہورہی ہے، کس کی طلاق ہوگئی ہے یا پھر کس کی طلاق ہونے والی ہے، سب خبر ہوتی ہے اگر کوئی خبر پھیلانی ہو تو انکو بتا دو اور ساتھ میں یہ کہہ دینا کافی ہوتا ہے کہ کسی کو نہیں بتانا پھر وہ جنگل کی آگ کی طرح پورے محلے میں پھیل جاتی تھی، لڑکے لڑکیوں کے رشتے کروانا ہر محلے کی ہر گھر کی عورتوں کو دکھ بھری کہانی سننا ساتھ میں مفت مشورے دینا بھی اپنا فرض سمجھتی تھی لیکن آج افسوس یہ خالہ ناپید ہوتی جارہی ہے کیونکہ ان کی جگہ سوشل میڈیا نے لے لی ہے، اب کسی کو کوئی مسئلہ درپیش ہو تو وہ بس ایک اسٹیٹس لگا دے، پھر تو لوگ ایسے ایسے مشورے دیتے ہیں کے بس بڑے بڑے دانشوروں کو بھی پیچھے چھوڑ دیتے ہیں اور تو اور سوشل میڈیا رشتے کروانے میں بھی پیش پیش ہے، کئی معتبر لوگوں کو میں نے اپنے دوستوں کے رشتے کرانے کی کہانی سناتے دیکھا، دوسری طرف ہر دوسرے دن سوشل میڈیا میں خبر آرہی ہوتی ہیں کہ پاکستانی لڑکے کی محبت میں گرفتار کوئی لڑکی چین سے شادی کرنے پاکستان آگئی تو کبھی کوئی دوسرے ملک سے۔

آج لوگ سوشل میڈیا پر بغیر تصدیق کے کوئی بھی خبر لگا دیتے ہیں اور وہ جنگل کی آگ کی طر ح پھیل جاتی ہے، جو کبھی کبھی کافی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے، ہم سوشل میڈیا کے ذریعے دوسروں کی ذاتی زندگی میں بڑے آرام سے مداخلت کررہے ہیں، اگر کسی نامور شخصیت نے شادی کرلی یا طلاق دے دی تو ہماری پوری قوم سوشل میڈیا پر اس کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑجاتی ہے، اُس کی ذاتی زندگی کے بارے میں ایسی گفتگوکرتے ہیں جو شاید اس شخصیت کے علم میں بھی نہ ہو، سوشل میڈیا سائٹس پر ایک نہ تھمنے والا قیاس آرائیوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔

معاشرے میں کچھ لوگ دوسروں کو بدنام کرنے کیلئے بے بنیاد خبروں کو پھیلانے، تصاویر اور خاکوں میں رد و بدل جیسے طریقوں کے ذریعے سوشل میڈیا کا غلط استعمال کررہے ہیں، اب ہمارے معاشرے میں اگر کسی لڑکی کے ساتھ کچھ غلط ہوجاتا ہے تو لوگ ہمدردی کرنے کے چکر میں اس لڑکی کو سوشل میڈیا پر اتنا مشہور کردیتے ہیں کہ اس کی زندگی جہنم ہو جاتی ہے۔

سوشل میڈیا پر کسی بھی خبر یا افواہ کی تحقیق سے بھی پہلے وہ پوری دنیا میں نشر کردی جاتی ہے، سوشل میڈیا پر کسی قسم کی کوئی روک تھام کا نظام موجود نہیں، ہر شخص اچھی بری بات کہنے اور لکھنے میں آزاد ہے، کوئی شخص بلا روک ٹوک کسی بھی مذہبی شخصیت اور مذہبی نظریات کو مطعون کرسکتا ہے اور مخالف مذہبی سوچ کی محترم شخصیات پر کیچڑ اچھال سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر مخالفین کیخلاف پروپیگنڈے کی مکمل آزادی کی وجہ سے معاشرے میں انتہاء پسندی میں اضافہ ہورہا ہے، سوشل میڈیا کی وجہ سے معاشرے میں بہت سی اخلاقی و سماجی خرابیوں نے فروغ پایا اور ایسی سرگرمیاں بھی عروج پر ہیں جو معاشرے کے مختلف طبقات اور مکاتب فکر میں ایک دوسرے سے نفرت کو پروان چڑھانے اور باہمی انتشار اور خلفشار کا سبب بن رہی ہیں۔

حال ہی میں حکومت نے سماجی رابطہ کی ویب سائٹس کیلئے قوائد و ضوابط کی بات کی تو ایک مخصوص طبقہ کی جانب سے اس کی پُر زور مخالفت کی  گئی اور اسے آزادی اظہار رائے پر قدغن قرار دیا۔ ماہرین سماجیات کی جانب سے کی جانے والی ایک تحقیق نے انکشاف کیا کہ وہ ازدواجی جوڑے جو اپنی زندگی کے معاملات سوشل میڈیا پر شیئر کرتے تھے، ایک ناخوشگوار زندگی گزار رہے ہیں، آج سوشل میڈیا کی بدولت پوری دنیا ایک گاؤں میں تبدیل ہوگئی ہے، سوشل ویب سائٹس میں زیادہ تر لوگ فیس بک، ٹویٹر، یوٹیوب، گوگل پلس، انسٹا گرام اور واٹس ایپ وغیرہ استعمال کرتے ہیں، یقیناً سوشل میڈیا نے ہماری زندگی کو بہت آسان بنادیا ہے، لیکن ہمیں یہ بات ہرگز نہیں بھولنی چاہئے کہ سوشل میڈیا کے فوائد کم اور نقصانات زیادہ ہیں۔

سوشل میڈیا نے انسانی تعلقات کی نت نئی شکلیں پیدا کرکے ان کے دائرے کو وسیع تر کردیا ہے، اس لئے زندگی کی راہ میں ہر موڑ پر اس سے با خبر رہنا ضروری ہے اور اس کے استعمال کا صرف وہ طریقہ اپنانا لازم ہے، جس کی وجہ سے انسان کی انفرادی، اجتماعی یا خانگی زندگی متاثر نہ ہوتی ہو۔ آج دنیا بھر میں رونما ہونے والے جرائم کی ایک بڑی وجہ سوشل میڈیا کا منفی کردار بھی ہے، آج ہم لوگوں کو اندازہ ہی نہیں ہے کہ ہم سوشل میڈیا کے دلدل میں پھنس کر اپنے اصل اہداف سے دور ہوتے چلے جارہے ہیں۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube