ریکارڈ توڑ مہنگائی اور پاکستانی عوام

November 6, 2018

جب بھی پاکستان میں گیس و بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمیتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو مہنگائی کا ایک طوفان برپا ہو جاتا ہے، جب سے پاکستان میں پی ٹی آئی کی حکومت آئی ہے دن بدن ضرورت زندگی کی اشیاء عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جارہی ہیں، پچھلے 4 سالوں کی نسبت افراط زر میں دگنا اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے مہنگائی بھی قابو سے باہر ہوگئی ہے،  افراط زر کو کنٹرول کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، ایسی پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے جس سے افراط زر میں اضافے کو روکا جاسکے، کیونکہ اگر پاکستان کا پسا ہوا غریب طبقہ مزید پسے گا تو ایک اور بحران جنم لے سکتا ہے، جسے حکومت کیلئے قابو کرنا مشکل ہو جائے گا۔

حکومتوں کا فرض ہوتا ہے کہ اپنی عوام کو ضرورت زندگی کی اشیاء سستے داموں مہیا کریں لیکن ایسا نہیں ہورہا ہے، کھانے پینے کی اشیاء سے لے کر الیکٹرونکس و الیکڑیکل مصنوعات تک مہنگی ہوگئی ہیں، آئندہ سال پی ٹی آئی نے اپنا پہلا مکمل بجٹ بھی پیش کرنا ہے، اگر بڑھتی قیمتوں کو کنٹرول نہ کیا گیا تو بجٹ میں مزید مہنگائی ہوسکتی ہے، اس لئے ابھی سے کام شروع کرنے کی ضرورت ہے، قیمتوں پر قابو پانے کیلئے ذخیرہ اندوزوں کیخلاف کارروائی بھی کرناہوگی، ان کے گوداموں پر چھاپے مارے جائیں جن کی وجہ سے مصنوعی قلت پیدا کی جاتی ہے، ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ مہنگائی کے ساتھ ساتھ عام عوام کی آمدن میں بھی اضافہ کیا جائے تاکہ اس پر مہنگائی کا بوجھ نہ پڑے لیکن فی الحال حکومت کیلئے ایسا کرنا ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ اگر آمدن سے زیادہ اخراجات ہوں گے تو مزید مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

عام آدمی کے مسائل کا حل صرف حکومت کے پاس ہی ہے، آج کے دور میں دو دو نوکریاں کرکے بھی لوگوں کا گزارہ مشکل ہوگیا ہے، پاکستانی کرنسی کی قدر میں گراوٹ بھی مہنگائی کا سبب بنتی ہے، اس لئے ایسے معاشی اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے جن سے روپے کی ساکھ مضبوط ہو سکے، اس کے علاوہ ملک میں کرپشن بھی اقتصادی مسائل میں اہم کردار ادا کرتی ہے، حکومت اسے کنٹرول کرنے کی ہر ممکن کوشش میں لگی ہوئی ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ اس پر جلد قابو پالیا جائے گا کیونکہ جب تک معاشرہ کرپشن فری نہیں ہوتا، تب تک کوئی قوم ترقی نہیں کرسکتی۔

پاکستان ایک زرعی ملک ہے، ہمیں اس کی زراعت پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ملک خوراک میں خود کفیل ہوسکے، غذائی قلت اور ضروری اشیاء کی برآمدات سے بھی معیشت پر بوجھ پڑتا ہے، آئندہ آنے والے سالوں میں ہماری آبادی جس تیزی سے بڑھ رہی ہے اس سے یہ بوجھ دوگنا ہو جائے گی جس کیلئے ہمیں ابھی سے آبادی کو کنٹرول کرنے کے پروگرام شروع کرنے ہوں گے، ہمیں بڑھتی آبادی کی ضروریات کو بھی مد نظر رکھنا چاہئے، دولت کی غیر مساوی تقسیم پر قابو پانے کیلئے حکومت کو کوئی لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا، ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر عوامی اور اجتماعی مفادات کے حل کیلئے کوشش کرنا ہوگی، اگر پی ٹی آئی اپنے دور اقتدار میں عام آدمی کیلئے سہولیات پیدا کرنے اور خوشحالی لانے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو اگلے انتخابات میں بھی پاکستان تحریک انصاف کو کامیابی مل سکتی ہے، ورنہ اس کا انجام بھی دوسری جماعتوں جیسا ہی ہوگا۔

اس لئے ضروری ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور وزیراعظم عمران خان نے نے انتخابات سے قبل جو وعدے عوام سے کئے تھے، انہیں اپنے دور اقتدار میں پورا کیا جائے اور خاص طور پر مہنگائی کو کیا جائے۔