گوادر میں ایشیائی پارلیمانی اسمبلی کا اجلاس

November 5, 2018

گوادر کے گہرے پانی کی بندرگاہ کی شہرت و چرچا دنیا بھر میں ہے، یہ بندرگاہ تاحال پوری طرح فعال نہیں ہوئی، آمر پرویز مشرف کے دور اقتدار میں کوسٹل ہائی وے کی تعمیر مکمل ہوئی، یہ منصوبہ ان سے قبل میاں نواز شریف کی حکومت کے پیش نظر تھا، چنانچہ پرویز مشرف کے دور میں چند دیگر شاہراہیں جو گوادر کو ملک کے دوسرے علاقوں سے منسلک کرتی ہیں ان پر پیشرفت ہوئی، کوسٹل ہائی وے کی تکمیل بلاشبہ ایک بڑا اقدام تھا۔

گوادر پورٹ کی تعمیر، انتظام و انصرام پورٹ آف سنگاپور کو ایک معاہدے کے تحت 40 سال کیلئے دیا گیا تھا، سست روی اور صوبے کے مفاد کی خاطر نواب اسلم رئیسانی کی حکومت نے پورٹ آف سنگاپور سے معاہدہ کی تنسیخ کردی، الغرض چین سینڈک کے سونے اور کاپر منصوبے پر پہلے ہی کام کررہا تھا، ہوا یہ کہ حکومت پاکستان نے گوادر کے حوالے سے چین سے مربوط معاہدہ کرلیا، چنانچہ چینی شراکت سے کافی حد تک کام آگے بڑھایا گیا، چین پاکستان اقتصاری راہداری کے تحت طویل مدتی منصوبوں اور شراکت داریوں پر باہمی معاہدے ہوئے، گویا یہ چھوٹا و پسماندہ شہر یا یوں کہیے کہ مچھیروں کی یہ بستی، سی پیک اور اپنے گہرے پانیوں کی بندرگاہ کے باعث دنیا بھر کیلئے اجنبی نہ ر ہی۔

پچھلے دنوں یعنی 29 سے 31 اکتوبر تک گوادر میں زبردست ہلچل رہی، جہاں ایشیائی پارلیمنٹرین اسمبلی کی کمیٹی برائے سیاسی امور اور ایشیائی پارلیمان کے قیام کے حوالے سے خصوصی کمیٹی کا 3 روزہ اجلاس ہوا، اس اہم اجلاس کی خاطر بڑے پیمانے پر انتظامات کئے گئے تھے، 28 اکتوبر کو بین الاقوامی مندوبین کی گوادر آمد شروع ہوئی، شہر بھر کو استقبالی جھنڈیوں اور خوش آمدیدی کلمات سے آراستہ و مزین کیا گیا تھا، مہمانوں کیلئے جگہ جگہ خوبصورت اور روایتی و ثقافتی پروگراموں کا بندوبست کیا گیا تھا، بین الپارلیمانی یونین کے سیکریٹری جنرل ”مارٹن چو گانگ“ اور ایشیائی پارلیمانی اسمبلی کے سیکریٹری جنرل محمد رضا ماجدی، بین الا قوامی پارلیمانی یونین اور ایشیائی پارلیمانی سیکریٹریٹ کے نمائندوں سمیت 26 ممالک کے 100 سے زائد مندوبین گوادر کی اس کانفرنس میں شریک ہوئے، جن میں ترکی، شام، قطر، بحرین، انڈونیشیا، چین، اردن اور دوسرے ملکوں کے نمائندے شامل تھے۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی، اراکین سینیٹ، گورنر بلوچستان امان اللہ خان یاسین زئی اور وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان عالیانی مہمانوں کے استقبال کیلئے موجود تھے، گویا یہ اہم نشست تھی جو گوادر کی نئی اور بدلتی صورتحال میں رکھی گئی۔ حکومت پاکستان کی طرف سے ایشیائی ممالک کے مابین ویزے کی پابندیوں کے ختم ہونے کی صائب تجویز اور توجہ دلائی گئی، اب یہ پاکستان اور بلوچستان کی حکومتوں پر منحصر ہے کہ وہ اپنی اس بندرگاہ کو کس طرح ملک اور صوبے کی معیشت کی ترقی کیلئے استعمال کرتی ہیں اور یہاں حالات ایسے سازگار بنائے جاتے ہیں کہ دنیا بھر کے سرمایہ کار کسی ہچکچاہٹ و تحفظات کے بغیر بلوچستان کا رخ کریں۔

گوادر میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے وسیع مواقع پائے جاتے ہیں، چناں چہ ایشیائی پارلیمانی اسمبلی اور بین الپارلیمانی یونین کے مابین تعاون کو مزید فروغ دینے میں دلچسپی لینے کی ضرورت ہے تاکہ ایشیائی پارلیمانی اسمبلی کے مقاصد کو یکسوئی سے آگے بڑھایا جا سکے، ضروری ہے کہ سیاسی استحکام پر ہمہ پہلو توجہ دی جائے تاکہ گوادر یا بلوچستان کے حوالے سے کسی طرح کا تذبذب نہ رہے۔ اس امر میں دو رائے نہیں کہ گوادر ملک کی معیشت کے شاندار و پائیدار مستقبل کا مرکز ہے، یہ بندرگاہ مشرق وسطیٰ اور یورپ تک تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوگی، گوادر کو جنگی بنیادوں پر کشادہ سڑکوں کے ساتھ منسلک کرنے کی ضرورت ہے، صوبے کے جن علاقوں میں اقتصادی زونز بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی ان پر جلد سے جلد کام اور اس کی تکمیل یقینی بنائی جائے، گوادر کو سڑکوں کے ساتھ ریل کے ذریعے بھی ملک کے دوسرے حصوں سے جوڑا جائے، افغانستان اور ایران کی سرحد تک ریلوے لائنیں بچھائی جائیں اور بلا تاخیر صوبے میں فنی ادارے قائم کئے جائیں۔

ایسے اقدامات کئے جائیں جن سے صوبے کے اندر سی پیک کے ثمرات بر سر زمین دکھائی دینے چاہئیں، یہاں روزگار، صحت، تعلیم، پینے کے صاف پانی اور دوسری بنیادی معاشرتی ضروریات بہم پہنچائی جائیں گی تو ہمہ پہلو مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ یہ بات یاد رہنی چاہئے کہ صوبے اور یہاں کے عوام کا مفاد نظر انداز ہوگا تو اس سے لامحالہ مشکلات پیدا ہوں گی، صوبے اور مرکز کے درمیان اعتماد کی فضاء اس بڑے تجارتی، اقتصادی اور معاشی منصوبے پر اثرانداز ہوگی۔

یقیناً بین الاقوامی حالات کے تناظر میں ایشیائی مملکتی ہم آہنگی اور اقتصادی یکجہتی وقت کی اہم ضرورت ہے، اچھا ہوتا کہ اگر اجلاس میں بلوچستان اسمبلی کے اراکین کی شرکت بھی ہوتی، جس کا اسمبلی کے فلور پر حزب اختلاف کی جانب سے شکوہ بھی ہوا۔