ایم کیو ایم اورکراچی کا سیاسی مستقبل

November 5, 2018

ایم کیو ایم کا سیاسی مستقبل خطرے میں ہے۔ ایک مرتبہ پھر فاروق ستار نے اپنی توپوں کا رخ ایم کیو ایم بہادر آباد کی طرف کردیا . ایم کیو ایم پاکستان کے سابق سربراہ نے ایم کیو ایم نظریاتی گروپ بنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے کراچی، حیدرآباد، میرپورخاص اور سکھر سمیت سندھ بھر میں ایم کیو ایم کے نظریاتی کارکنان سے رابطہ شروع کردیا ہے.

ایم کیو ایم کے موجودہ سربراہ خالد مقبول صدیقی نے تحریک انصاف کی وفاقی حکومت میں شامل ہوکر ایم کیو ایم کو تنظیمی طور پر جتنا نقصان پہنچایا ہے اس کا اندازہ ایم کیو ایم کے ہر کارکن کو تو ہے ہی مگر خود خالد مقبول صدیقی بھی ایم کیو ایم کے اندرونی حالات سے بے خبر نہیں۔ اس وقت شہر کراچی کے باسی خود کو سیاسی طور پر لاوارث سمجھتے ہیں کیونکہ اس وقت کراچی کی سب سے بڑی جماعت تحریک انصاف ہے جو کراچی کے مسائل حل کرنے میں بلکل بھی سنجیدہ نظر نہیں آتی۔ ایک وقت تھا جب ایم کیو ایم کے منتخب اراکین اسمبلی روزانہ کی بنیاد پر اپنے اپنے حلقوں میں ایم کیو ایم کے یونٹ اور سیکٹردفاتر میں بیٹھ کر عوامی مسائل سنتے تھے اور عوامی مسائل حل کرنے کی کوشش کرتے تھے، مسائل حل نہ ہوں تب بھی مسائل سننے والے موجود تھے مگر آج کراچی کے باسیوں کے مسائل سننے کو بھی کوئی تیار نہیں. تحریک انصاف کے منتخب اراکین اسمبلی تک عوام کی رسائی ممکن نہیں کیونکہ پی ٹی آٗئی کراچی کے زیادہ تراراکین اسمبلی اپنے حلقوں میں نظر بھی نہیں آتے.

پی ایس پی بھی الیکشن سے پہلے بڑے بڑے دعوے کرتی رہی مگر الیکشن میں تاریخی اور بدترین شکست کے بعد سے پی ایس پی کے رہنما کراچی کے سیاسی منظر نامے سے غائب ہیں۔ کہا جاسکتا ہے کہ پاک سرزمین پارٹی کے غبارے سے ہوا نکل چکی ہے۔ میری اطلاعات کے مطابق پی ایس پی کے متعدد رہنما پارٹی چھوڑنے پر غور کررہے ہیں۔ حال ہی میں پی ایس پی کے کچھ اہم رہنما سندھ کے سابق گورنر ڈاکٹر عشرت العباد سے دبئی میں خفیہ طور پر ملاقات کرچکے ہیں اور خبر یہ ہے کہ ایک نئی سیاسی جماعت بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ ایم کیو ایم کے سینئر رہنما فاروق ستار بھی ایک نئی سیاسی جماعت بنانے پر غور کر رہے ہیں اور انکی جماعت کا ممکنہ نام ایم کیو ایم (ن) ہوسکتا ہے. فاروق ستار کے قریبی ساتھی علی رضا عابدی بھی کئی اہم سیاسی شخصیات سے رابطے میں ہیں اور جلد ایک نئی سیاسی قوت ابھر کر سامنے آسکتی ہے جو ایم کیو ایم پاکستان کا متبادل ثابت ہوسکتی ہے. فاروق ستار گروپ لندن سے بھی رابطے میں ہے، اگر فاروق ستار نے نئی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کیا تو انہیں ایم کیو ایم لندن کی بھی سیاسی حمایت حاصل ہوگی.

صوبہ سندھ کی حکمران جماعت ہونے کے باوجود شہر کراچی کی سیاست میں پاکستان پیپلز پارٹی کی گرفت مسلسل کمزور ہوتی جارہی ہے جس کی وجہ پیپلز پارٹی کراچی کا کمزور تنظیمی ڈھانچہ ہے. پیپلز پارٹی نے دو سال قبل تنظیم نو کا اعلان کیا مگر دو سال گزر جانے کے باوجود پیپلز پارٹی کراچی کے چھ اضلاع، سٹی ایریاز اور یونین کونسل کی تنظیمیں مکمل نہیں کرسکی. پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی الیکشن سے پہلے کراچی کی سیاست میں متحرک نظر آرہے تھے مگر اب وہ بھی خاموش نظر آرہے ہیں.

تحریک انصاف، ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی تینوں جماعتوں کی کراچی کی سیاست میں عدم دلچسپی اور غیر سنجیدگی کا فائدہ کوئی نئی سیاسی قوت اٹھا سکتی ہے. اگر ڈاکٹر فاروق ستار نے بروقت اپنی سیاسی جماعت بنا کر شہر کراچی میں تنظیمی ڈھانچے کو مننظم کیا تو نئی جماعت شہر قائد کے باسیوں کی نمائندہ جماعت بن کر سامنے آسکتی ہے۔