ون ڈے اور ٹیسٹ کارکردگی بھی توجہ چاہتی ہے

November 5, 2018

ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی مختصر تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو ابتداء سے بھی پاکستان کی کارکردگی شاندار رہی ہے۔ پاکستان ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی بہترین ٹیم ہونے کے ساتھ ساتھ آئی سی سی کی ٹی ٹوئنٹی رینکنگ میں پہلی پوزیشن پر براجمان ہے۔ حال ہی میں آسٹریلیا جیسی مظبوط ٹیم کو تین میچز کی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں تین صفر سے شکست دے کر پاکستان نے اپنی پہلی پوزیشن کو برقرار رکھا۔ نیوزی لینڈ کے خلاف بھی ٹی ٹوئنٹی سیریز کا آغاز شاندار فتح سے کیا۔

ٹی ٹوئنٹی کرکٹ پر پاکستان کا راج برقرار ہے مگر پاکستان کرکٹ بورڈ کو چاہئے کہ ٹیسٹ کرکٹ اور ون ڈے کرکٹ پر بھی خاص توجہ دے، جس طرح کرکٹ بورڈ نے پاکستان سپر لیگ کے زریعے نئے ٹیلنٹ اور نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دیا اسی طرح پاکستانی ٹیم کو ایسے ٹورنامنٹ بھی منعقد کروانے کی ضرورت ہے جہاں ون ڈے اور ٹیسٹ کرکٹ کھیلنے والے نوجوان کھلاڑی اپنی صلاحیتوں کے جوہر دنیا کو دکھا سکیں۔ پاکستان کے پاس ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کی کرکٹ کھیلنے والے بے شمار کھلاڑی موجود ہیں، جو مسلسل بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور سلیکٹرز، کوچ اور کپتان کے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوگیا ہے کہ کسی ٹیم میں شامل کریں اور کسے آرام کا موقع دیں۔ اسی طرح قومی کرکٹ ٹیم کو ایسے نوجوان کھلاڑیوں کی بھی ضرورت ہے جو ٹیسٹ کرکٹ اور ون ڈے کرکٹ بھی کھیل سکیں یا تینوں فارمیٹ میں کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں۔

ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں پاکستان کی حالیہ شاندار کارکردگی کا سہرا کپتان سرفراز احمد کے ساتھ ساتھ کرکٹ بورڈ کے سابق سربراہ اور پاکستان سپر لیگ کے بانی نجم سیٹھی کے سر بھی جاتا ہے جنہوں نے پی ایس ایل کا کامیاب انعقاد کروا کر نا صرف نئے لڑکوں کو کارکردگی دکھانے کا موقع دیا بلکہ ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے لئے بھی کردار ادا کیا۔ پی ایس ایل کے ذریعے پاکستان کو شاداب خان، فخر زمان، حسن علی جیسے اسٹار پلیئرز ملے ہیں. صاحبزادہ فرحان، آصف علی اور فہیم اشرف جیسے نوجوان بھی پی ایس ایل کی بدولت ہی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے میں کامیاب ہوئے اور ٹیم میں جگہ بنائی۔ سابق چیف سلیکٹر محسن حسن خان نے بھی کرکٹ بورڈ سے مطالبہ کیا ہے کہ سرفراز احمد کو ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی سے الگ کیا جائے تاکہ وہ ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے کرکٹ پر فوکس کرسکیں جس کے ردعمل میں بورڈ نے کپتان سرفراز پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ فی الحال سرفراز ہی تینوں فارمیٹ میں کپتانی کے فرائض سرانجام دیں گے۔ محسن حسن خان کی تجویز کی حمایت نہیں کرتا مگر ان کی تشویش جائز ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ میرے خیال میں قومی ٹیسٹ ٹیم کا کپتان بدلنا مسئلے کا حل نہیں بلکہ بورڈ کو چاہیے کہ ٹی ٹوئنٹی ٹیم، ون ڈے ٹیم اور ٹیسٹ ٹیم کے اسکواڈ کا انتخاب کرتے ہوئے کھلاڑیوں کی کارکردگی جانچ کر انہیں اسکواڈ میں شامل کیا جائے کیونکہ نوجوان پلیئرز عماد وسیم، فہیم اشرف اور آصف علی اچھے ٹی ٹوئنٹی پلیئرز تو ہیں مگر ان کی جگہ ٹیسٹ ٹیم میں نہیں بنتی. پاکستان کے پاس کپتان سرفراز احمد، محمد حفیظ، شعیب ملک، بابر اعظم، شاداب خان اور حسن علی جیسے پلیئرز بھی موجود ہیں جو تمام فارمیٹ میں کھیلنے کے لئے مکمل فٹ ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کو چاہیے کہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ پر راج کرنے والی قومی ٹیم کے اسکواڈ کو اگلے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ تک برقرار رکھے مگر ٹیسٹ ٹیم میں وکٹیں اڑانے والے محمد عباس اور یاسر شاہ کے ساتھ ساتھ ایسے بلے باز بھی تلاش کرے جو طویل اننگ کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔