ہوم   >  بلاگز

کراچی میں تبدیلی،تحریک انصاف اب کیا کرے؟

11 months ago

عام انتخابات کے بعد ضمنی الیکشن میں بھی کراچی والوں نے تحریک انصاف پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ یہ جتنی بڑی کامیابی ہے، اُتنی ہی بڑی ذمہ داری پی ٹی آئی اراکین کے کاندھوں پر آگئی ہے۔ یقینا ووٹر اب یہ بہانہ نہیں سُنے گا کہ’ جی ہم اپوزیشن میں ہیں، ہمارے پاس اختیار نہیں، جو کرسکتے ہیں کر رہے ہیں، وغیر وغیرہ ‘’، کیوں کہ یہی کچھ ماضی میں ایم کیوایم بھی کرتی رہی ہے، اور اُس کا جو حال ہوا وہ ہمارے سامنے ہے۔ ووٹر کو تبدیلی چاہیے، جس کا اُس سے وعدہ کیا گیا ہے۔ میری نظر میں کچھ ایسی تجاویز ہیں جن پر تحریک انصاف اگر خلوص نیت سے کام کرے تو بڑی تبدیلی آسکتی ہے

کراچی میں نوجوان نسل تیزی سے نشے کی لت میں مبتلا ہوتی جا رہی ہے، سب سے خطرناک چیز گٹکا، مین پوری اور ماوا ہے جو افیون، چرس اور ہیروئن تک پہنچنے کیلئے سیڑھی کا ذریعہ بن رہا ہے۔ گزشتہ دنوں سندھ ہائیکورٹ نے اس لعنت کیخلاف کریک ڈاؤن جاری رکھنے کا حکم دیا، لیکن ایسے کئی کریک ڈاؤن ہوچکے ہیں اور ان اقدامات سے سوائے پولیس کی جیب گرم ہونے کے اور کچھ نہیں ہوتا۔ سندھ سرکار تو ناکام ہوگئی دیکھنا یہ ہے کہ پی ٹی آئی اپوزیشن اس مسئلے پر کتنی توجہ دیتی ہے۔ کراچی کا دوسرا بڑا مسئلہ سیوریج ہے۔ روشنیوں کا شہر اب عمارتوں کا جنگل بن چکا ہے۔ جس کی وجہ سے سیوریج کے مسائل بھی بڑھ گئے ہیں۔ شہر میں شاپنگ بیگ پر فوری پابندی سے بڑی حد تک اس مسئلے سے نمٹا جا سکتا ہے۔ شاپنگ بیگ جہاں انسانی صحت کے لیے مضر ہیں، وہیں یہ گٹر اور نالیوں میں پھنس کر سیوریج کا نظام بھی درہم برہم کر دیتا ہے، جب کہ سمندری آلودگی اس کے علاوہ ہے۔ پی ٹی آئی اراکین اس مسئلے پر فوری قرارداد لائیں۔

تیسری چیز کراچی میں ساحل کی صفائی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں ہم دیکھتے ہیں کہ وہاں صاف ستھرے ساحل پوری دنیا کو اپنی طرف کھینچتے ہیں، لیکن کراچی، جسے اللہ تعالیٰ نے دلکش ساحل اور خوبصورت موسم سے نواز رکھا ہے، وہاں گندگی کے ڈھیر، نوسربازیاں اور پولیس والوں کا لوگوں کو تنگ کرنا معمول ہے۔ گورنر سندھ عمران اسماعیل نے الیکشن سے پہلے ساحل کی صفائی کے حوالے سے بھرپور آواز اُٹھائی تھی، اگر سی ویو سے لے کر ہاکس بے اور دیگر ساحلی پٹی کو صاف کیا جائے، یہاں ناریل کے درخت لگائے جائیں، سڑکیں ٹھیک کی جائیں تو یہاں بھی سیاحوں کی بڑی تعداد آسکتی ہے اور ہم اربوں روپے زرمبادلہ کما سکتے ہیں۔

چوتھی چیز تجاوزات کا خاتمہ ہے۔ ٹریفک جام کراچی کا سنگین مسئلہ ہے اور اس کی بڑی وجہ تجاوزات ہیں۔ ایم اے جناح روڈ، صدر، ایمپریس مارکیٹ کی سڑکوں پر ٹھیلوں اور پتھاروں کی وجہ سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوتی ہے، اپوزیشن زیادہ نہیں تو کم از کم بڑی اور مین شاہراؤں پر تجاوزات کیخلاف آواز اُٹھائے تو اس سے بہت بہتری آسکتی ہے۔ اسی طرح پارکنگ مسائل سے نمٹنے کیلئے بھی آواز اُٹھائی جائے۔ شہر کا ایک مسئلہ صفائی بھی، ہمارے دین میں صفائی کو آدھا ایمان قرار دیا گیا ہے، ہم خود کو مسلمان کہتے ہیں لیکن اگر ہمارے گلی، محلوں کی حالت دیکھی جائے انتہائی ابتر ہے۔ آپ اسپتالوں میں چلے جائیں یا پبلک مقامات پر ، آپ کو دیواروں پر پان کی پینکیں نظر آئیں گی، پبلک ٹوائلٹس نہ ہونے کی وجہ سے سڑک کا ہر کونہ اور دیوار ہی ٹوائلٹ بن گئے ہیں۔ حکومت نے صفائی مہم کا آغاز تو کر دیا ہے، میری یہ تجویز ہے کہ جس طرح پنجاب میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی  پر جرمانے کیے جا رہے ہیں اسی طرح صفائی نہ رکھنے پر بھی سخت جرمانے کیے جائیں، اور اس کی زد میں خواہ اسکول آئے یا اسپتال، دکان آئے یا ہوٹل کسی کو نہ چھوڑا جائے۔ اور اسے سلسلے میں فکس اٹ بھی اب پہلے سے زیادہ متحرک کردار ادا کرے۔

 

آپ کے تبصرے

Your email address will not be published.

 
متعلقہ خبریں
 
 
 
 
 
 
 
 
مقبول خبریں