Wednesday, January 19, 2022  | 15 Jamadilakhir, 1443

بدترین شہروں میں شامل ہونے کی وجوہات

SAMAA | - Posted: Oct 23, 2018 | Last Updated: 3 years ago
Posted: Oct 23, 2018 | Last Updated: 3 years ago

بس کے انتظار میں سڑک پر کھڑے تھے کہ پاس کھڑے ٹھیلے والے صاحب نے غصے سے کہا کہ یہاں سے ہٹ کر کھڑے ہوں۔ ہم نے ان کی شکل دیکھی اور کہا کہ ہم کیو ں ہٹ کر کھڑے ہوں، آپ غلط جگہ کھڑے ہیں، اپنا ٹھیلا لے کرکہیں اور جائیں، یہ جگہ آپ لوگوں کے کھڑے ہونے کی نہیں۔ اس پر ان صاحب نے فرمایا کہ ہم یہاں کھڑے ہونے کے پیسے دیتے ہیں۔ روزبلدیہ والوں کو 100 یا 200روپے لازمی دیناہوتاہے۔

بات کومزید طول دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ٹریفک پولیس بھی الگ سے فی پتھارا /ٹھیلا 200 سے1000روپے یومیہ بھتہ یا رشوت     وصول کرتی ہے۔ ان کی یہ باتیں سن کر میں سوچ میں پڑگئی کہ یہ صرف ایک جگہ کی بات نہیں۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں تجاوزات، ٹھیلے اور پتھارے بڑھتے جا رہے ہیں۔ لیاقت آباد، نارتھ ناظم آباد ، ناظم آباد، اورنگی ٹاﺅن، کورنگی، نارتھ کراچی، قائد آباد، لانڈھی،       برنس روڈ ، رنچھوڑلائن،کھارادر سمیت اولڈ سٹی ایریا اور شہر کے مختلف تجارتی مراکز کے اطراف اور خاص طور پر صدر میں سینکڑوں نہیں ہزاروں پتھارے لگ گئے۔ صدرکے علاقے کو اگر پتھارہ زون کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ کراچی پتھارا مافیا کا شہربن گیا ہے۔کاروباری علاقوں میں کوئی سڑک ایسی نہیں جہاں فٹ پاتھ اور آدھی سڑک پر ٹھیلے پتھارے نہ لگا دیے گئے ہوں جس کی وجہ سے روز کوئی نہ کوئی حادثہ پیش آتا ہے کیونکہ ان لوگوں کی وجہ سے خریدار، راہ گیر اور عورتیں بچے سڑک پر چلنے پر مجبور ہوتے ہیں کیوں کہ فٹ پاتھ پرتو ان پتھاروں کا قبضہ ہوتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق کراچی کے فٹ پاتھ نیلام ہوتے ہیں مگر اس سے بلدیاتی اداروں کو ریونیو نہیں ملتا البتہ یہاں سے پتھارے ہٹانے کے لے انہیں ریونیو خرچ کرنا پڑتا ہے۔

 بلدیہ کراچی اور پولیس کی ملی بھگت سے کراچی کے کاروباری مراکز میں فٹ پاتھوں کی خرید و فروخت ایک منافع بخش کاروبار کی شکل اختیار کرگئی ہے۔صدر، حیدری، پاپوش نگر، طارق روڈ، لیاقت آباد ، کریم آباد کے علاقوں میں معمولی پتھارہ 5 لاکھ تک فروخت ہوتا ہے جو پولیس اور بلدیاتی افسران میں تقسیم ہوتا ہے۔اس نیلامی سے یومیہ 3 کروڑ کی آمدنی ہوتی ہے۔ کراچی میں  700 سے زائد مارکیٹیں ہے جب کہ چھوٹی بڑی 5 لاکھ دکانیں ہیں۔ پتھارے ، سڑکوں ، فٹ پاتھوں، زمینوں پر غیر قانونی قبضے سے کیے جانے والے کاروبار کی تعداد 10لاکھ سے زیادہ ہے۔ یہ غیر قانونی کاروبار اس قدر مضبوط ہوچکاہے کہ عدالتِ عالیہ کے حکم سے کئی مرتبہ انسدادِ تجاوزات آپریشن بھی کامیاب نہ ہو سکا کیونکہ پولیس ان لوگوں کے خلاف کارروائی کرتی ہے، صرف دکھاوے کے لئے سڑکوں سے ٹھیلے ہٹادیے جاتے ہیں۔مزاحمت کرنے والےافراد کو حراست میں بھی لے لیاجاتا ہے۔ پولیس والے ٹھیلے کی تمام چیزیں نیچے پھینک دیتےہیں۔ بیچارے غریب ٹھیلے والے بے بس کھڑے دیکھتے رہتے ہے۔ ان کا ہزاروں کا مال خراب ہوجاتاہے۔ سڑک بھی کلیئر ہوجاتے ہیں لیکن سب کچھ چند گھنٹوں کے لیے ہو تا ہے اور پھر یہ لوگ دوبارہ  پیسے دے کراپنی جگہ پر آجاتے ہیں۔  اس ڈرامے سے چند گھنٹوں روڈ پر سکون ہوتا ہے اور پھر سب  دوبارہ شروع ہوجاتا ہے۔ وہی رش ، شور اور پیدل چلنے والے راہ گیر سکون سے سڑک پر چلنے کی سہولت سے محروم ہوجاتے ہیں۔

ان لوگوں کی وجہ سے ہر روز ٹریفک جام ہوتا ہے اور ہر دوسرے دن کوئی نہ کوئی حادثہ پیش آتا ہے ۔ حکومت سے سوال ہے، آخران لوگوں کو ٹھیلے لگانے کی اجازت کس نے دی؟ مال بنانے والوں کے خلاف کون ایکشن لے گا؟ ان رشوت خوروں کو پکڑا کیوں نہیں جاتا جو لاکھوں روپے ان پتھاروں سے کما رہے ہیں ۔ حکومت سے گزارش ہے کہ ان ٹھیلے والوں کو صرف اتوار، ہفتہ اور جمعہ بازاروں تک محدود رہنے کو کہے یا پھر ان لوگوں کے لیے کوئی جگہ مخصوص کریں جہا ں وہ اپنی چیزیں آسانی سے فروخت کریں کیونکہ یہ غریب ٹھیلے والے بھی مجبور ہیں، اگر ٹھیلا نہیں لگائیں گے تو اپنے گھر کا چولھا کیسے جلائیں گے۔ یہ لوگ تو اتنے مجبور ہیں ، ان کی روز کمائی ہو نہ ہو لیکن انہیں بھتہ خوروں کو روز پیسے دینے پڑتے ہیں۔ اگر کسی دن پیسے نہیں دے پاتے تو پولیس والے ان غریبوں کا ٹھیلا اُٹھا کرلےجاتےہیں۔ اس بگڑتے نظام کو صحیح کرنے کی اشد ضرورت ہے ورنہ کراچی شہر کو دنیا کے بدترین شہروں میں شامل ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube