Monday, January 24, 2022  | 20 Jamadilakhir, 1443

ٹيسٹ کرکٹ کا مستقبل خطرے میں

SAMAA | - Posted: Oct 12, 2018 | Last Updated: 3 years ago
SAMAA |
Posted: Oct 12, 2018 | Last Updated: 3 years ago

دنيائے کرکٹ کی 2 عظيم ٹيميں يو اے ای ميں مد مقابل ہيں، پر انہيں ديکھنے والا کوئی نہيں، آسٹريليا اور پاکستان کے درميان 2 ٹيسٹ اور 3 ٹی 20 میچز سيريز کھیلی جارہی ہے، پہلے ٹيسٹ ميں دونوں ٹيميں دبئی ميں مد قابل آئيں يہ وہی اسٹيڈئم ہے جہاں اب سے چند دن قبل ايشياء کپ کا  فائنل کھيلا گيا اور اسٹيڈیم ميں تل دھرنے کو جگہ نہيں تھی، مگر آسٹريليا اور پاکستان کے درميان پہلے ٹيسٹ ميں اسٹيڈیم اور ٹيميں شائقين کرکٹ کی منتظر ہی رہيں ليکن 5 روزہ مقابلہ دیکھنے کیلئے بہت کم شائقین نے اسٹیڈیم کا رخ کیا۔

ٹیسٹ کرکٹ کی غیر اہم ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اب تو اسپانسرز بھی ٹيسٹ ميچز کو ديکھ بھال کر اسپانسرز کرتے ہيں، ایک ايسے وقت ميں جب ٹيسٹ ميچ ديکھنے کیلئے شائقين کی اشد ضرورت ہے، سابق ٹسيٹ کرکٹرز ميں بحث چھڑ گئی ہے کہ اس طرز کی کرکٹ کو ختم کردیا جائے يا ٹی 20 کو۔

سابق ٹيسٹ کرکٹر عاقب جاويد نے  5 روزہ ميچ ختم کرنے کی تجويز دے دی۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹيسٹ کرکٹ کا کوئی مستقبل نہيں جلد ختم ہوجائے گی، پاکستان ٹيم بھی نہ کھيلے۔ عاقب جاويد کی بات میں وزن ہے کہ ٹيسٹ کرکٹ ميں زيادہ تر کرسياں خالی ہوتی ہیں، نہ نعرے لگتے ہيں نہ جوش و خروش ہوتا ہے لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ ٹیسٹ کرکٹ ختم کرنے کے بجائے اسے پُرکشش بنانے پر توجہ دی جائے، انسان مصروف ہوگيا ہے کہ صبح سے شام تک 5 دن مسلسل ٹيسٹ کرکٹ ديکھنے کیئے اسٹيڈیم میں نہیں بیٹھ سکتا لیکن پہلے دن یا تیسرے دن یا پھر کسی بھی دن کھیل کے دوران تماشائیوں کے کیچ پکڑنے پر انعام رکھا جائے یا قرعہ اندازی کے ذریعے کرکٹ بیٹ یا بال انعام میں دی جائے یا کوئی اور ایسی دلچسپی شائقین کو دوبارہ گراؤنڈ میں لاسکتی ہے۔

یہ درست ہے کہ ساڑھے 3 گھنٹے کا ٹی 20 ميچ ديکھنے ميں يا پھر چھٹی والے دن فيملی کے ساتھ صبح سے شام يا دوپہر سے رات تک ون ڈے ميچ ديکھنے ميں شائقین زیادہ دلچسپی لیتے ہیں لیکن اسٹائلش کرکٹ کے دیوانے اب بھی موجود ہیں، بس ان کیلئے دلچسپیاں بڑھانے کی ضرورت ہے اور یہ زیادہ مشکل نہیں، اسپانسرز کو بھی ٹیسٹ کرکٹ کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے اور ٹیسٹ کرکٹ کی اسپانسر شپ کو ون ڈے اور ٹی 20 میچز کی اسپانسرز شپ سے جوڑا جائے تو ہم سجھتے ہیں کہ شائقین کی تعداد بھی بڑھے گی اور اسپانسرز کی بھی۔

اسی لئے قومی کرکٹ ٹيم کے سابق کپتان جاويد ميانداد سابق بولر عاقب جاويد کی تجويز سے اتفاق نہيں کرتے، لیجنڈ بلے باز کا کہنا ہے کہ جنٹلمين گيم سے ٹيسٹ کرکٹ ختم نہيں ہونی چاہئے، لوگوں کی ون ڈے اور ٹی 20 سے بھی دلچسپی ختم ہوجائے گی۔

جاويد ميانداد نے مزيد کہا کہ ٹيميں اپنے عمدہ کھيل سے ٹيسٹ کرکٹ کو دلچسپ بناسکتی ہيں، ٹيسٹ کرکٹ کو برقرار رکھنے اور لوگوں کی ٹيسٹ ميچز ميں دلچسپی بڑھانے کیلئے ٹيموں کو ٹيسٹ کرکٹ کو تيز بنانا ہوگا اور زيادہ سے زيادہ ٹيسٹ نتيجہ خيز بنانا ہوں گے، جب ٹيسٹ کا نتيجہ برآمد ہوگا تبھی لوگوں کی ٹيسٹ ميں دلچسپی برقرار رہے گی۔

سابق ٹيسٹ کرکٹر شعيب اختر ٹی 20 کو کرکٹ کی تباہی سمجھتے ہيں، شعيب کا کہنا ہے کہ ٹی 20 ميں بلا گھماؤ چھکا لگ گيا تو ٹھيک نہيں لگا تو کوئی بات نہيں، جيسے دل چاہے بيٹنگ کرو نا شاٹس ميں خوبصورتی نہ اسٹائل اور نہ تيکنيک، بس بلا گھماتے جاؤ، ٹيسٹ ميچز ميں چھکے چوکے کم لگتے ہيں پر بيٹسمين کے کھيلنے کا انداز اہميت رکھتا ہے۔ شعيب کو لگتا ہے بولرز  ٹی 20 ميں 4 اوورز تک محدود رہ گئے ہيں، 4 اوورز پھينکو گھر جاؤ نہ بيٹسمين کو پريشان کرنے کی کوئی حکمت عملی نہ رنز روکنے کی کوشش، بس صرف اور صرف وکٹ لینی ہے۔ شعيب ٹھيک کہتے ہيں ٹی 20 صرف پيسےکی کرکٹ بن کر رہ گئی ہے جس سے ٹيسٹ کرکٹ کا مستقبل خطرے ميں ہے۔

ادھر انضمام الحق ٹی20 کو ٹيسٹ کیلئے خطرہ نہيں سمجھتے، چيف سليکٹر کہتے ہيں ٹيم ميں ان لڑکوں کو چنا جاتا ہے جو فرسٹ کلاس کرکٹ کھيل کر آتے ہيں، اس کے بعد کرکٹرز کی پرفارمنس ٹی 20 اور ون ڈے ميں آپ کے سامنے ہے، فرسٹ کلاس کرکٹر ہی قومی ٹيم ميں سليکشن کے بعد تينوں فارميٹ کی کرکٹ کھيلتا ہے اور پرفارم کرتا ہے، کرکٹرز صرف ٹی 20 تک محدود نہيں رہتے۔

WhatsApp FaceBook
تازہ ترین
 
 
 
مقبول خبریں
مقبول خبریں
 
 
 
 
 
Facebook Twitter Youtube