نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام، کہیں حمایت اور کہیں مخالفت

October 11, 2018

وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں ان کی حکومت نے50 لاکھ گھروں پر مشتمل نیا ہاؤسنگ پروگرام کا اعلان کردیا، یہ غریبوں اور متوسط طبقے کیلئے ایک عظیم الشان منصوبہ ہے، اسکیم سے متعلق کچھ اعداد و شمار اور دلائل (موافقت اور مخالفت میں) ہم یہاں پیش کررہے ہیں۔


حکومت نے پانچ سال میں 50 لاکھ مکانات تعمیر کرنے کا ہدف طے کیا ہے جس کے مطابق ایک سال میں 10 لاکھ مکانات تعمیر کرائے جائیں گے۔

یہ مکانات ان افراد کےلئے تعمیر کروائے جائیں گے جو ماہانہ 15 سے 20 ہزار روپے کماتے ہیں۔ لیکن ایک لاکھ ماہانہ کمانے والے بھی درخواست دے سکتے ہیں اور جن افراد کے پاس اپنا گھر نہیں ہے ان کو ترجیح دی جائے گی۔

ویسے یہ مکانات حکومت خود تعمیر نہیں کر رہی بلکہ یہ کام پرائیوٹ سیکٹر یعنی بلڈرز کریں گے۔ یہ تمام مکانات صرف شہروں میں تعمیر نہیں کیے جائیں گے بلکہ دیہی علاقوں کو بھی مد ںظر رکھا جائے گا۔ اس وجہ سے حکومت نے عوام سے فارم بھرنے کرنے کےلئے کہا ہے تاکہ سروے کیا جا سکے۔

قیمت

مکمل تخمینہ: 180 ارب ڈالر جو کہ پاکستانی روپے میں 24 ہزار 120 ارب بنتی ہے

فی گھر لاگت: 15 سے 25 لاکھ روپے

ادائیگی

:اپنا گھر خریدنے کےلئے عوام رقم کیسے ادا کریں گے

دس فیصد پیشگی ادائیگی اور 90 فیصد قرض

پندرہ لاکھ کے گھر کے لئے ایک لاکھ 50 ہزار روپے پیشگی ادائیگی کرنا ہوگی اور 13 لاکھ 50 ہزار روپے کا قرض لینا ہوگا۔

رقم کی اقساط بیس سال میں ادا کرکے گھر کے مالک بن سکیں گے۔

لیکن سود شامل ہونے کے بعد رقم کی لاگت 15 لاکھ روپے سے بڑھ جائے گی۔

تنقید

یہاں یہ پیچیدہ ہوجاتا ہے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ یہ منصوبہ کمرشل بنیادوں پر قابل عمل نہیں ہے۔ ان کے نزدیک

پاکستان کو 49 لاکھ گھر بنانے میں 71 سال لگ گئے اور یہ حکومت محض 5 سالوں میں 50 لاکھ گھر بنانا چاہتی ہے۔

نیا ہاؤسنگ پروگرام ہماری جی ڈی پی (معیشت) کا 60 فیصد ہے۔ دنیا کا کوئی ملک اتنے بڑے حجم کا ہاؤسنگ پروجیکٹ تعمیر نہیں کرسکتا۔

ملک کے بینکوں کے پاس مجموعی رقم : 12700 ارب روپے

ہماری معیشت کا حجم: 34000 ارب روپے

ڈیولپرز بینک سے قرضہ لے کر تعمیرات کرتے ہیں۔ لیکن بینکوں کے پاس اتنی رقم نہیں ہے کہ وہ اتنے بڑے لیول کے منصوبے کو فنڈ فراہم کرسکیں۔

تعمیرات کی 90 فیصد لاگت بینک قرضے سے آتی ہے۔ تاہم بینکوں کے پاس موجود رقم اس منصوبے کے لیے ناکافی ہے۔

دنیا بھر میں مکان پر قرضہ 4 فیصد سود پر حاصل کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں یہ شرح سود 10 فیصد ہے۔ پندرہ ہزار ماہانہ کمانے والوں کے لیے کچھ مہنگا ہوجاتا ہے۔

مثال کے طور پر، 15 لاکھ کے گھر پر آپ کو سود کی مد میں 10 ہزار روپے ماہانہ ادا کرنے ہونگے۔

کار فنانسنگ پر شرح سود: 12 فیصد

پاکستان انویسٹمنٹ بانڈ پر حکومت جو شرح سود ادا کرتی ہے: 11 فیصد

پاکستان کا مرکزی بینک بینکوں کو ہدایت کر سکتا ہے کہ نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کو کم تر شرح سود دیں۔

مثال کے طور پر، ایکسپورٹ فنانس اسکیم کے تحت، ایکسپورٹ کی اشیا بنانے والی صنعت سے بینک 3 فیصد وصول کرتے ہیں۔ یہ کمرشل ریٹس سے کافی کم ہیں۔

اس لیے سوال یہ ہے کہ : اس اسکیم کا مقصد کم آمدنی والوں کو فائدہ پہنچانا ہے جو اوسطاً 20 ہزار کماتے ہیں۔ یہ لوگ اگر اپنی ماہانہ کمائی کا 11 فیصد سود کی مد میں دے دیں گے، تو کیسے اصل قرضہ چکا پائیں گے؟

حکومت شرح سود کو کم کرنے کے لیے سبسڈی بھی دے سکتی ہے لیکن اس کے پاس ایسا کرنے کے لیے پیسے ہی نہیں ہیں۔

سالانہ حکومت کا ٹیکس ریونیو: 4400 ارب

پروجیکٹ کی سالانہ لاگت: 7800 ارب

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پروجیکٹ تو اچھا ہے مگر 50 لاکھ کا ہدف کچھ زیادہ ہی ہے۔

وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک اس ماڈل پر کام کر رہے ہیں اس لیے اس کے قابل عمل ہونے کے حوالے سے تجزیہ کرنا مشکل ہے۔ اگر وہ اس حوالے سے ایک اچھا ماڈل بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو اس پروجیکٹ کا 25 فیصد حصہ بھی مکمل کرنا ایک بڑی کامیابی ہوگا۔

حکومت اور بلڈرز کے مطابق یہ منصوبہ قابل عمل ہے

حکومت کا عزم ہے کہ بدعنوانی، ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ پر قابو پائے گی۔ اس سے حکومت کے خزانے میں اضافہ ہوگا اور بینکنگ سسٹم میں بھی پیسہ آئے گا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ مرکزی بینک کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ بینک منصوبے کے لیے قرضہ فراہم کرے۔ ساتھ ہی کمرشل بینکوں کو بھی سہولیات فراہم کی جائیں تا کہ سرمایہ کاروں سے رقم حاصل کرنے کےلیے بانڈز کا اجرا کرسکیں۔

حکومت اس منصوبے کےلئے زمین فراہم کرے گی اور بینک اس زمین کےلئے قرض دیں گے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ صرف ایک ملک نے اس منصوبے میں 20 ارب ڈالر سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

حکومت اس منصوبے میں 10 ہزار ڈویلپرز کو شامل کرنا چاہتی ہے اور انہیں امید ہے کہ اگر ہر کوئی 500 مکانات تعمیر کرتا ہے تو ہدف پورا کر لیا جائے گا۔

بلڈرز کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے فراہم کی جانے والی زمینوں کی وجہ سے منصوبے کی اصل قیمت آدھی ہو جائے گی۔ اس کی اصل قیمت 180 ارب ڈالر بنتی ہے۔

بلڈرز کہتے ہیں کہ منصوبے کے حوالے سے جو تجاویز ہم نے حکومت کو دی ہیں وہ زیر غور ہیں۔ منصوبے کے لیے ایک مفصل فنانس ماڈل پر کام ہورہا ہے جس کا جلد اعلان کردیا جائے گا۔