ریس کے سلطان

October 10, 2018

پاکستان میں جیپ ریلی کا نام آتے ہی صاحبزادہ سلطان کا نام سامنے آجاتا ہے اور کیوں نہ آئے بلآخر 20 سالہ سحر جو دنوں میں توڑ دیا۔ 90ء کی دہائی میں جب پاکستان میں جیپ ریلی کا باقاعدہ آغاز ہوا تو اس کھیل سے تعلق رکھنے والوں کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا کہ پاکستان میں آف روڈ جیپ ریلی بھی ہوتی ہے مگر جوں جوں وقت گزرا لوگوں کو ایک نام یاد ہونا شروع ہوگیا اور وہ تھا میر نادر مگسی، جس کو ہرانا مشکل ہی نہیں ناممکن بن گیا تھا، نادر مگسی نے 20 سال تک موٹر اسپورٹس جیپ ریلی کی دنیا پر راج کیا۔

سینکڑوں کی تعداد میں ماہر ڈرائیورز آئے مگر میر صاحب کو کوئی نہیں ہرا سکا، 2015ء میں ایک شخص نے اس کھیل میں انٹری دی اور 2016ء کا چیمپئن بن گیا، دیکھتے ہی دیکھتے تینوں بڑے ٹائٹل جھل مگسی، چولستان اور گوادر جیپ ریلی جیت کر ریکارڈ قائم کردیا۔

اتنے کم وقت میں تو ڈرائیورز صرف سی سے بی کیٹیگری میں آنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن صاحبزادہ سلطان محمد علی نے وہ کر دکھایا جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، ایک سال میں ہی اے کیٹیگری کے تمام ٹائٹلز اپنے نام کرلئے، صاحبزادہ سلطان کی فتوحات کا سلسلہ جاری ہے، لگتا یوں ہے کہ دور مگسی اختتام پذیر ہوا اور اب دور سلطانی ہے۔

ریس کے سلطان کا بڑا امتحان آنے والا ہے 21 اکتوبر کو، جب گوادر جیپ ریلی ہونے جارہی ہے، دو بار گوادر کے کنگ رہنے والے صاحبزادہ سلطان کو اپنے ٹائٹل کا دفاع کرنا ہے، اگر اس میں وہ کامیاب ہوجاتے ہیں تو لگاتار تیسری بار ٹائٹل اپنے نام کرنے کا اعزاز حاصل کرلیں گے۔ جب سے صاحبزادہ سلطان نے اس میدان میں قدم رکھا ہے، مسلسل نئے ریکارڈز بنارہے ہیں، گزشتہ سال تھل جیپ ریلی میں ٹائٹل کا دفاع کرتے ہوئے وکٹری لائن سے تقریباً 40 کلو میٹر دور صاحبزادہ سلطان کی گاڑی کا ٹائر برسٹ ہوگیا لیکن انہوں نے گاڑی نہ روکی اور 3 ٹائروں پر ریس مکمل کی، ایسا پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ کسی ریسر نے 3 ٹائروں پر گاڑی دوڑائی اور دوسری پوزیشن بھی حاصل کی۔

صاحبزادہ سلطان اپنے متعدد انٹرویوز میں اس کھیل میں حصہ لینے کی وجہ پاکستان کی کنٹری سائڈ کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنا اور دیگر صوفیا کی طرح مختلف طریقوں سے اصلاحی کام جاری رکھنا بتاتے ہیں، صاحبزادہ سلطان کے جیپ ریلیز میں شرکت کرنے سے اس کھیل کو چار چاند لگ گئے اور مین اسٹریم میڈیا نے اس کو ایئر ٹائم دینا شروع کردیا، لیکن اب بھی ضرورت ہے کہ دیگر اسپورٹس کی طرح جیپ ریلی کو براہ راست نشر کیا جائے۔

صاحبزادہ سلطان کی ٹیم نے کھیل کی دنیا میں انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے پاکستان کا پہلا آف روڈ ریسنگ گیم بھی متعارف کروایا ہے۔

ٹیم سلطان نے اس گیم میں پاکستان کے تمام آف روڈ ٹریکس شامل کئے ہیں جس میں ملک کے تمام بڑے ریسرز کی اینی میٹڈ گاڑیوں کو سلیکٹ کرکے ریس لگائی جاسکتی ہے، صاحبزادہ سلطان پاکستان میں اسپورٹس کے فروغ کیلئے عملی طور پر اقدامات کررہے ہیں جو قابل ستائش ہے۔

جیپ ریلی کے بڑے اور خطرناک ٹریکس:۔

گوادر، جھل مگسی، چولستان

آف روڈ جیپ ریلی کا طریقہ کار:۔

جیپ ریلی میں 2 کیٹیگریز ہوتی ہیں، پری پیئرڈ اور اسٹاک، پری پیئرڈ گاڑی میں انجن میں تبدیلی کرکے ہیوی گاڑی بنائی جاتی ہے  جبکہ اسٹاک میں گاڑی اپنی اصل حالت میں ہوتی ہے۔

ریس کا آغاز کوالیفائنگ راؤنڈ سے ہوتا ہے، اس کا فاصلہ طے ہوتا ہے اور جو ریسر سب سے کم وقت میں فاصلہ طے کرتا ہے وہ فائنل والے دن اسی پوزیشن کے اعتبار سے میدان میں اترتا ہے۔

ہر ڈرائیور کے ساتھ ایک معاون بھی ہوتا ہے جو نیوی گیٹر کی ذمہ داری ادا کرتا ہے، ریسرز جی پی ایس، گوگل میپ اور سیٹلائٹ سے بھی مدد لیتا ہے، ٹریک پر قائم چیک ان اینڈ چیک آؤٹ پر ٹائم درج کیا جاتا ہے جس سے 2 نمبری کا راستہ باقی نہیں رہتا۔

ریس کو محفوظ بنانے کیلئے گاڑی کے اندر رول کیج کیا جاتا ہے تاکہ گاڑی الٹنے کی صورت میں ڈرائیور کو چوٹ نہ آئے، ڈرائیور کو فائر پروف لباس بھی پہننا ہوتا ہے، جدید وائی فائی اور بلیو ٹوتھ ہیلمٹ بھی پہنا جاتا ہے تاکہ معاون کے ساتھ کمیونی کیشن میں آسانی ہو۔