بلوچستان کے جنگلی حیات خطرے سے دوچار ہیں

October 9, 2018

بلوچستان میں سردیوں کے آتے ہی سائیبریا کے مہمان پرندوں نے بلوچستان کا رخ کیا ہے تو ہر سال کی طرح اس سال بھی غیر ملکی شکاری بھی بلوچستان میں شکار کرنے کیلئے تیار بیٹھے ہیں ۔ پاکستان کی سپریم کورٹ نے بلوچستان میں شکار پر مکمل پابندی عائد کررکھی ہوئی ہے ۔ سپریم کورٹ نے بھی بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا ہوا ہے۔ بلوچستان کے سفر پر آنے والے مہمان پرندوں کا شکار کرنا عام سی بات ہے۔ ہر سال ہم ان پرندوں کی خوب مہمان نوازی کرتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ سائبیریا سے آنے والے مہمان پرندے ہمارے مہمانوں کی خوراک بن جاتے ہیں۔ سخت سردی میں اپنا دیس چھوڑ کر ہمارے دیس بلوچستان میں پناہ لینے والے پرندوں کا یہ حشر ہر سال ہوتا ہے ۔

ہرسال پرندے سردی سے بچنے کے لیے وسطی ایشیاء سے ہجرت کرکے پاکستان اور عراق کے صحرائی ریتلے علاقوں کا رخ کرتے ہیں لیکن یہ معصوم پرندے ان ریتلے علاقوں میں عرب یا قطری شیوخ کے شوق کے بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ تلور پرندہ زیادہ تر سردیوں میں پاکستان، ہندوستان، بنگلادیش اور عرب ممالک میں پایا جاتا ہے۔ پاکستان کے مقامی افراد بھی اس نایاب پرندے کا شکار کرتے ہیں۔ بلوچستان میں سردیوں میں آنے والے نایاب پرندوں کی نسل کو اک بار پھر  ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انسان آج بھی پرندوں کا بھوکا ہے۔سچ تو یہ ہے کہ میزبان کے لئے مہمان کا دل جیتنے کے لئے اسے ان پرندوں کا لذیذ گوشت نہ صرف کھلانا ہوتا ہے بلکہ اس کو پرندوں کے شکار پر اکسانا بھی ہوتا ہے۔اس کو غیر ملکی شکاری تفریح بھی کہتے ہیں حالانکہ جن پرندوں کی بدولت بلوچستان میں تفریح اور رنگارنگی پیدا ہوتی ہے وہ اپنی موت سے بے خبر ہوتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ پاکستان نے ناصرف ان نایاب پرندوں کے شکار کی پابندی کے حوالے سے مختلف بین الاقوامی نوعیت کے تحفظ کے کنونشنز پر دستخط کررکھے ہیں بلکہ ملک میں جنگلی حیات کے تحفظ کا قانون بھی ان پرندوں کے شکار کو ممنوع قرار دیتا ہے۔

میرے ذہن میں ایک سوال کلبلاتا ہے کہ آخر تلور کا شکار قطری یا عرب شہزادوں کے لئے اتنا اہم کیوں ہے۔ مغربی لوگ بھی تلور میں بڑی دلچسپی رکھتے ہیں، یہ لوگ اس مقصد سے پاکستان کیوں نہیں آتے؟ دراصل مسئلہ یہ ہے کہ قطری شہزادوں کے لئے تلور کا گوشت کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا کہ وہ اتنا پیسہ خرچ کرکے اس کا شکار کریں۔وہ کروڑوں روپے کیوں تلور کے شکار پر خرچ کرتے ہیں،اس کے درپردہ کوئی اور وجوہات بھی ہوسکتی ہیں جن پر قومی مفاد کی  پرانی چادر چڑھا کر اسے ڈھانپ دیا جاتا ہے۔

اس حوالےسے کچھ شکاری  دوست کہتے ہیں کہ تلور کا گوشت جنسی خواہشات کو بڑھانے کی دوا کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ عمل صرف تلور کی اس نسل میں ہے جو خود خطرے کا سامنا کر رہی ہے۔ تلور کا سائنسی نام " ہوبارابسٹرڈ " ہے اور" انٹرنیشنل فار کنزوریشن آف نیچر 'نے تلور کو سرخ پرندوں کی فہرست میں جاری کیا ہے۔ اس فہرست میں موجود پرندے ختم ہونے کے خطرہ سے دوچار ہیں۔ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ ان مہمان پرندوں کی نسل کشی روکنے کی ہر ممکن کوشش کرے تاکہ خوبصورت بلوچستان کی خوبصورتی ان پرندوں کی وجہ سے برقرار رہے۔ سچ تو یہ ہے کہ جن پرندوں کی بدولت آج بلوچستان میں تفریح اور رنگارنگی ہوتی ہے وہ اپنی موت سے بے خبر ہوتے ہیں۔حکومت بلوچستان کو چاہیئے کہ وہ ان جنگلی حیات کے تحفظ کی کوشش ممکن بنائے  ۔