ورلڈ کپ 2019ء ٹرافی ٹور پر پاکستان آئی کيا ہم اسے جيت سکيں گے؟

October 8, 2018

ورلڈ کپ 2019ء کی ٹرافی تو ٹور پر پاکستان پہنچ گئی کیا ہم اسے جیت کر بھی ملک میں لاسکیں گے؟، یہ ایسا سوال ہے جس نے آج کل سب کی نیندیں اڑا رکھیں ہیں، پاکستان کرکٹ میں صرف کپتان سرفراز احمد کی ہی نہیں سلیکٹرز ہوں یا بورڈ آفیشل سب کی نیندیں اڑی ہوئی ہیں، چین کی نیند کوئی سو رہا ہے تو وہ ہیں پاکستان کرکٹ ٹیم کا غیر ملکی اسٹاف جسے وہ درد کبھی محسوس ہو ہی نہیں سکتا جو پاکستان نے ایشیا کپ میں بھارت سے 2 بار شکست کی صورت میں برداشت کیا۔

بات نکلی ہی ہے تو تھوڑی سی ایشیا کپ پر بھی کر لیتے ہیں جہاں پاکستانی ٹیم بے بسی کی تصویر بنی رہی وہ تو بھلا ہو اس ایونٹ میں کمزور حریف بھی تھے ورنہ پاکستان تو شاید فتح کو ترستا ہی رہتا، ہانگ کانگ سے جیتنے والی ٹیم بھارت کے سامنے آئی تو ریت کی دیوار ثابت ہوئی، اس کے بعد افغانستان کو بمشکل ہرانے والی ٹیم پھر کبھی بھارت سے تو کبھی بنگلہ دیش سے شکست کی رسوائی سے دوچار ہوئی۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ اتنے بڑے ایونٹ میں اتنے ہی بڑے فلاپ شو کے بعد پاکستان کرکٹ میں تبدیلی کا نعرہ بلند ہوا اور نہ ہی احتساب کا، جو یقیناً قابل تشویش ہے لیکن اچنبھے کی بات اس لئے نہیں کہ سب کو عیاں ہورہا تھا کہ ہماری اس بدترین پرفارمنس کی وجہ کیا ہے۔

ہم ہاف فٹ کھلاڑٰیوں کے ساتھ کھیلے تو نتیجہ پھر ایسا ہی نکلنا تھا، ہم صرف محمد عامر کی پرفارمنس کو روتے ہیں جو اب اس قدر زنگ آلود ہوچکے ہیں کہ ہانگ کانگ کے ناتجربہ کار بیٹسمینوں کی وکٹ بھی نہیں لے سکتے لیکن ہم بھول رہے ہیں کہ ایشیا کپ میں حسن علی بھی تماشہ ہی بنے رہے، کسی میچ میں بھی 10 اوورز مکمل نہ کراسکے اور ہمارے ٹرمپ کارڈ کے تو کیا ہی کہنے، شاداب نے بھی پٹائی زیادہ کھائی اور وکٹیں کم گراسکے۔ وجہ تھی ان کی مشکوک فٹنس، فخر پاکستان بھی فخر کے بجائے شرمندگی کا باعث بنے، امام الحق چھوٹی ٹیموں کیخلاف گرجے بھی برسے بھی، لیکن بڑی ٹیم کیخلاف حق ادا نہ کرسکے۔

یہ سب ہوا صرف اور صرف ایک شخص کی ضد کی وجہ سے جس کا نام ہے مکی آرتھر، جس نے پاکستان ٹیم کو گھر کی ٹیم بنا رکھا ہے اور نتیجتاً پاکستان کی پرفارمنس بد سے بدترین ہوتی جارہی ہے، ایسا نہیں کہ چیمپئنز ٹرافی کے بعد ہم جیتے نہیں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ چیمپئنز ٹرافی کے بعد ہم صرف چھوٹی یا کمزور ٹیموں کو ہی ہراسکے۔ 5 مرتبہ ہم نیوزی لینڈ سے ٹکرائے تو شکست کا منہ دیکھنا پڑا، 2 مربتہ بھارت سے بھی ہار کی رسوائی گلے پڑی، یہ وہ کڑوا سچ ہے جو ہر پاکستانی کو زہر قاتل کی طرح مار رہا ہے۔

اب اگر ہیڈ کوچ کی من مانیاں چلتی رہیں تو ایسا نہ ہو کہ ایشیا کپ کے بعد ہم ورلڈ کپ میں بھی اسی طرح بے بسی کی تصویر بنے رہیں، اس لئے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی کو چپ کا روزہ توڑنا ہوگا اور اس معاملے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے چیف سلیکٹر کو مضبوط کرنا ہوگا، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہیڈ کوچ ایک مرتبہ پھر چیف سلیکٹر پر اس لئے بھارہ پڑجائیں کہ ان کی نہیں چلے گی تو بھتیجا بھی نہیں کھیلے گا۔

خدارا پاکستان کرکٹ کو تباہی سے بچانے کیلئے سلیکشن کے معیار کے ساتھ ساتھ کھلاڑیوں کے فٹنس کو بھی مدنظر رکھا جائے یوں صرف ہیڈ کوچ کی پسند کی وجہ سے ان فٹ کھلاڑیوں کو ٹیم میں فٹ کرنے کے بجائے فٹ اور کارگر کھلاڑیوں کو موقع دیا جائے جیسا کہ جنید خان کو ایشیا کپ میں دیا لیکن اس وقت جب پانی سر سے گزر چکا تھا۔

ایک بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ جب فخر زمان ، حسن علی، شاداب خان ایشیا کپ میں یو اے ای کی گرمی برداشت نہ کرسکے اور پرفارمنس بھی نہ دے سکے تو انہیں آسٹریلیا کیخلاف ٹیسٹ ٹیم کا حصہ کیوں بنایا گیا، اگر اس سیریز میں بھی وہ پرفارم نہ کرسکے تو ہم صرف 3 اہم کھلاڑیوں سے ہی محروم نہ ہوں گے بلکہ اس دوران انہیں فٹنس مسائل نے پچھاڑ دیا تو ہمیں یہ تینوں اہم کھلاڑی شاید اگلے ورلڈ کپ تک میسر ہی نہ ہوں۔

اسی لئے تحریر کا آغاز اس سوال سے کیا تھا کہ ورلڈ کپ ٹرافی تو ٹور پر پاکستان پہنچ گئی کیا ہم اسے جیت بھی سکیں گے یا پھر ہمیں اب صرف چیمپئنز ٹرافی کی پرانی فتح کا ہی جشن مناتے ہوئے زندگی گزارنی ہے؟۔