ہیلمٹ مہم، قانون سازی سے قانون شکنی تک

October 8, 2018

ایکسپو سینٹر کے پاس ٹریفک سگنل پر معمول سے زیادہ رش تھا، رنگ برنگے ہیلمنٹ پہنے موٹر سائیکل سوار سگنل کھلنے کا انتظار کر رہے تھے، یہ رویہ میرے لئے حیران کن نہیں تھا ، شاید کچھ عرصہ لاہور سے باہر رہنے والے فرد کیلئے موٹر سائیکل سواروں کا یہ انداز قابل حیرت ہوتا ، مگر میں اس سے واقف تھا۔ عدالتی حکم پر بغیر ہیلمنٹ کے موٹر سائیکل سواروں کے خلاف کارروائی کی جارہی تھی۔ رہی سہی کسر ای  چالان نے پوری کردی تھی۔ لاہوری ہمیشہ جلدی میں ہوتے ہیں،  ہاں خواہ مخواہ کی جلدی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ ہمارا ایک المیہ ہے مداری کا کرتب دیکھنے گھنٹوں کھڑے رہتے ہیں، مگر ٹریفک سگنل پر رکنا، ہمارے لئے اذیت کا سبب ہوتا ہے۔ ہم ہزاروں روپے لگا کر موٹر سائیکل تو خرید لیتے ہیں مگر مجال ہے کہ ہم چند سو کا ہیلمنٹ اپنی جان بچانے کے لئے خرید لیں ۔

موٹر سائیکل سواروں کے خلاف اس مہم کو جہاں ملک بھر میں سراہا گیا، وہیں چند افراد اس پر تنقید بھی کر رہے ہیں۔ مانا کہ جرمانے کی یہ رقم مزدور اور عام آدمی کیلئے ناقابل برداشت ہے۔ یہ بھی تسلیم کرتا ہوں کہ عام افراد جو پیٹ کا ایندھن بجھانے اور سر پر چھت کے خواب میں مگن رہتے ہیں۔ ان کیلئے اپنے سر کی حفاطت نہ کرنے کے جرم میں یہ رقم دینا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے، لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کہ سزا اور جزا کے تصور کے بغیر کسی بھی قانون پر عملدرآمد کرانا ناممکن ہے۔ چند سوشل میڈیا اکاونٹس ٹریفک پولیس کے حوالے سے مسلسل ویڈیوز اور تصاویر بھی اپ لوڈ کر رہے ہیں، لیکن خود قانون شکنی کرنا اپنا فرض اولین سمجھتے ہیں۔ ٹریفک  پولیس شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے سرگرم ہے۔ لاہور میں رواں سال کے ابتدائی چار ماہ کے دوران ٹریفک حادثات  کی رپورٹ بھی چونکا دینے والی ہیں۔ ریسکیو 1122 کے اعداد و شمار کے مطابق یکم جنوری سے 30 جون تک صوبہ پنجاب میں ایک لاکھ 63ہزار 284 ٹریفک حادثات ہوئے، جن میں 1790 کے قریب مرد و خواتین اور بچے موت کی وادی میں چلے گئے۔ حادثات کے سب سے زیادہ واقعات لاہور میں پیش آئے، جہاں 39ہزار 908 حادثات میں 154 شہری موت کی وادیوں میں چلے گئے، جب کہ گزشتہ برس شہر میں  51 ہزار ٹریفک حادثات رپورٹ ہوئے، جس میں 51 ہزار افراد زخمی ہوئے، جب کہ 426 افراد لقمہ اجل بن گئے۔31 ہزار ٹریفک حادثات کم عمر ڈرائیورز اور  موٹرسائیکل سواروں کی غفلت کے باعث پیش آئے۔10  ہزار ٹریفک حادثات رکشا ڈرائیورز کی وجہ سے پیش آئے۔ لاہور میں سب سے زیادہ حادثات موٹرسائیکل سوا ر افراد کی وجہ سے ۔ ریسکیو 1122 کے اعداد و شمار کے مطابق موٹرسائیکل حادثات کی تعداد گذشتہ اکیس ہزار تک پہنچ گئی تھی۔

جہاں حادثات کے اعداد و شمار جہاں چونکا دینے والے ہیں، وہیں ہمارے لئے بھی کئی سوالات چھوڑ رہے ہیں، کیا ہم ہر کام میں محض تنقیدی پہلو تلاش کرتے رہیں گے، یا تعمیر کے مواقع تلاش کرنے کی جستجو بھی کریں گے۔ ہر شہری اس سے باخبر ہے کہ ٹریفک قوانین کی پاسداری جہاں اس کی جان کے تحفظ کی یقین دہانی ہے، وہیں دیگر افراد کی جانوں کے تحفظ کی یقین دہانی بھی ہے۔ ایک لمحے کو غور کریں کہ ایک ہیلمنٹ جو آپ کی جان کو بچا سکتا ہے۔ اس کے خریدنے میں بہانوں سے کام کیوں لے رہے ہیں۔ اس سے بحث سے قطع نظر کہ لاہور میں عدالتی حکم پر چالان کے رقم شہریوں کی جیب پر بوجھ ہے۔ اس بات کو بھی رد کردیتے ہیں کہ شہریوں کے ساتھ ٹریفک وارڈنز کا رویہ انتہائی تحقیر آمیز تھا۔ اس کو بھی نہیں دیکھتے کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے دوران شہریوں اور وارڈنز کے درمیان تلخ کلامی کے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں۔ لیکن حضور جان کی امان ماوں تو عرض ہے کہ نفرتوں کی بیج بونے کی بجائے۔ پیار و محبت کی کاشت کریں۔  اس سارے معاملے کو احساس ذمہ داری سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ شہریوں پر چالان کرنے کی بجائے مختلف سگنلز پر مناسب قیمت پر ہیلمنٹ رکھے جائیں اور ہر شہری کو ہیلمنٹ پہننے کا پابند بنایا جائے۔ ٹریفک وارڈنز کے لئے اخلاقیات پر مبنی کلاسز کا اہتمام کیا جائے، کیوں کہ اس کا قیام بھی اخلاقیات کے پیغام کیساتھ کیا گیا تھا۔ ٹریفک پولیس کا سلوگن پہلے سلام پھر کلام تھا۔ جب تک وارڈنز اپنے سلوگن پر قائم رہے، ہر شہری کے دل میں ان کی عزت تھی، مگر رفتہ رفتہ سلوگن سے دوری ہوتی گئی اور وارڈنز کی بے توقیری میں اضافہ ہوتا گیا۔