قائداعظم، نیا پاکستان اور فلاحی ریاست

September 11, 2018

آج قائداعظم محمد علی جناح کا سترھواں یوم وفات ہے۔ قائداعظم محمد علی جناج 25 دسمبر 1876ء کو کراچی میں پید اہوئے تھے۔ آپ قیام پاکستان کے ایک سال بعد 11ستمبر 1948ء کو 72برس کی عمر میں انتقال کرگئے تھے۔ ہر سال بانی پاکستان کے یوم وفات پر سیمیناروں اور مختلف تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے جن میں مقررین قائداعظم محمد علی جناح کی ملی و قومی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے مگر وہ پاکستان کے قیام کے ایک سال بعد ہی اس دنیا فانی سے کوچ کر گئے اور پھر پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم لیاقت علی خان کو شہید کر دیا گیا۔ قائداعظم محمد علی جناح نے جس پاکستان کا خواب دیکھا تھا وہ خواب آزادی کے 71 سال بعد بھی پورا نہیں ہوسکا۔ بانی پاکستان کو ہم سے بچھڑے ستر سال بیت گئے مگر ہم آج بھی ان کے ادھورے خواب کو مکمل نہیں کرسکے۔ آج بھی ہم تقریبات اور سیمیناروں میں یہی گفتگو کرتے نظر آتے ہیں کہ قائداعظم محمد علی جناح کیسا پاکستان چاہتے تھے اور پھر وہی روایتی تقریریں کرکے ہم بانی پاکستان کے یوم پیدائش، یوم وفات یا پھر 14 اگست کو یوم آزادی پر یہ عہد کرلیتے ہیں کہ ہم پاکستان کو جناح کا پاکستان بنائیں گے مگر جونہی وہ دن گزرتا ہے ہم سب کچھ بھول جاتے ہیں اور اپنے کاموں اور اپنی زندگی میں مصروف ہوجاتے ہیں۔

آج کے نوجوان کا خواب صرف ایک اچھی نوکری، عالی شان گھر اور مہنگی گاڑی ہے۔ آج کے نوجوان کو ملک سے زیادہ اپنے کیریئر کی فکر ہے۔ ایسا نہیں کہ اس دور کے نوجوانوں کے دلوں میں وطن کے لئے محبت نہیں، آج کے نوجوان حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہیں مگر نوجوانوں کو کوئی صحیح راہ دکھانے والا ہی نہیں۔ اس لالچ کے زمانے میں ہر شخص پیسوں کے پیچھے بھاگ رہا ہے یہاں تک کہ والدین بھی صرف یہی چاہتے ہیں کہ انکی نوجوان اولاد پیسہ کمائے اور وہ آرام سے اپنی زندگی گزر بسر کریں مگر وہ بھول جاتے ہیں کہ نوجوان بھٹک بھی سکتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ بہت سے نوجوان ملک دشمن قوتوں کے ہاتھوں استعمال ہوتے رہے، آج بھی ہزاروں نوجوان ایسے ہیں جو غلط راستے پر چل رہے ہیں۔

نوجوان کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں اس لئے حکومت کو چاہیے کہ وہ ملک و قوم کے بہتر مستقبل کے لئے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کریں تاکہ وہ نوجوان کسی غلط راستے پر چلنے کے بجائے ملک و قوم کی ترقی کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔ قائداعظم محمد علی جناح کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل کرکے آج کے نوجوان کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ قائداعظم پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے اور ملک کے موجودہ وزیراعظم عمران خان بھی ملک کو فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیں۔ فلاحی ریاست کی مختصر تعریف یہ ہے کہ جہاں کوئی بے روزگار نہ ہو اور بے روزگار ہو تو روزگار ملنے تک حکومت اسکی کفالت کرے اور اس وقت تک اسے وظیفہ دے۔ ایران حقیقی طور پر ایک فلاحی ریاست ہے۔ ایرانی حکومت کی طرح حکومت پاکستان کو بھی اپنے شہریوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنی چاہیے۔ امن و انصاف، معاشرتی عدل، معاشی ذمے داریاں نبھانے اور وسائل مہیا کرنے کا طریقہ آسان تر بنایا جائے تو فلاحی ریاست کا خواب پورا ہوسکتا ہے۔ نیا پاکستان تو بن چکا ہے اب نئے پاکستان کی نئی حکومت شہریوں کو تمام بنیادی سہولیات فراہم کرے، یہ حکومت وقت کی بنیادی ذمے داری اور شہریوں کا حق ہے۔