کیا عمران خان فلاحی اسلامی ریاست کااپنےنزدیک مطلب بتاسکتےہیں؟

September 10, 2018

 

جب اسلامی فلاحی ریاست کی بات ہوتی ہے تو ہمیں پہلی چیز یہ سمجھنا ہوگی کہ یہ ایک اصلاح ہے، جس کو نیولوگوازم کہا جاتا ہے، جو اظہار کا ایک نیا لفظ ہے۔ اس لفظ کو استعمال کرنا درست نہیں ہے۔ نبی کریم ﷺ نے کبھی اس طرح کا کوئی لفظ استعمال نہیں کیا۔ نہ صرف فلاحی کا لفظ اس میں نیا ہے بلکہ ریاست کا لفظ بھی نیا ہے۔

 

اسلامی فلاحی ریاست میں تین مرکزی جزُ شامل ہوتے ہیں، جن میں اسلام، فلاح اور ریاست شامل ہیں۔ یہ بحث متنازع ہوسکتی ہے کہ پاکستان باحیثیت ریاست کسی بھی طور پر مدینہ کی ریاست کے قریب ہوسکتا ہے۔ اگر آپ ریاستوں اور سیاست کی تاریخ کامطالعہ کریں تو مدینہ کا شمار بہترین شہری ریاست میں ہوتا ہے، جو اس جیسی قطعی نہیں جیسا ابھی پاکستان ہے۔یہ اب دنیا کی بڑی ریاستوں میں سے ہے۔ اس کے پیمانےمیں بڑا فرق ہے۔ پھر جب آپ ریاست کی بات کرتے ہیں تو اس کی باقاعدہ شریعت میں کوئی حیثیت نہیں۔ شریعت دینے والا خود مدینہ میں موجود تھا۔ یہ بہت بڑا فرق ہے۔ پھر ہم اس پر بات کریں گے کہ ان کی میراث کیسی تھی۔ اس وقت اس نوعیت کے تنازعات نہیں جنم لیتے تھے، جو آج کے دور، میں ہیں۔ جو تنازعات جنم لیتے وہ حکمت عملی یا تیکنیکی نوعیت کے ہوتے مگر اللہ کے قانون سے اختلاف نہیں ہوتا۔ تاہم جیسا سب جانتے ہیں اور میں تفصیلات میں نہیں جانا چاہتا، آج کل اس کے برعکس ہوتاہےاور اس پر بحث بھی کی جا تی ہے۔

 میرے خیال میں تصور فلاح و بہبود اور اس کا اسلامی تصور سب سے اہم بات ہے۔  فلاح و بہبود کے بارے میں جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہ تصور دوسری جنگ عظیم کے بعد معرض وجود میں آیا۔ یہ تصور مغرب میں کمیونزم کے دعووں کے رد عمل کے طور پر سامنے آیا۔ مغربی یورپ میں، یہ تصور اس طرح روبہ عمل آیا کہ ایک ایسی ریاست کی ضرورت محسوس کی گئی جو نہ صرف سرحدوں کی حفاظت کرے اور معیشت کی دیکھ بھال کرے بلکہ پسماندہ معاشرتی طبقات کی فلاح وبہبود اور حفاظت کا بندوبست کرے۔ امریکا کی مثال لیجیے، جہاں معاشرتی تحفظ کے تصور کو پروان چڑھایا گیا اور معمر حضرات اور غریب طبقات کے لیے مختلف قسم کے ہیلتھ انشورنس پروگرامز ترتیب دیئے گئے۔

لیکن فلاحی ریاست کا اصل ہدف کون لوگ ہوتے ہیں؟

مثال کے طور پر، کیا فلاحی ریاست میں آفاقی تعلیم شامل ہے؟ کیا اس میں اس کو شامل کیا جانا چاہیے؟ دنیا کی مختلف فلاحی ریاستیں اس حوالے سے مختلف رائے رکھتی ہیں۔ اگر ان پیچیدہ ابحاث کو پاکستان کے معاملے پر لاگو کیا جائے تو بات یہ بنے گی کہ وزیراعظم عمران خان یا ان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف فلاحی ریاست کے کس تصور پاکستان میں نافذ کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ فلاحی ریاست کا کیا تصور ان کے ذہن میں ہے؟۔

غریب طبقات پر مدار بہبود کے عام تصور کے برعکس، اسلامی فلاحی ریاست کا سن کر فی الفور کوئی بھی کہ سکتا ہے کہ یہاں مسلمانوں کی بہبود کو اولیت حاصل ہوگی۔ عام فہم بات یہ ہے کہ رفاہ عامہ کا مقصد مراد معاشی مفادات ہوتے ہیں۔ لیکن اس زبان کو وسیع کیا جاسکتا ہے اور ہم اپنے حس مزاح کو بھی اس میں شامل کرسکتے ہیں۔ کچھ لوگ اس تصور کو اسلامی اقدار کے محافظ کے طور پر بھی سمجھتے ہیں۔ اسلامی فلاحی ریاست کے بارے میں عمران خان کا بیانیہ پاکستان میں معاشی حقوق کے حوالے سے نئے تصورات کو جنم دے رہا ہے۔ بلکہ یہ اچھے یا برے پرانے خدشات کا بھی احاطہ کرتا ہے، تاکہ ان کو نئے پیرائے میں پیش کیا جائے۔ اس لیے، وزیراعظم کو فلاحی ریاست کے بارے میں  اپنے تصور پر بالکل واضح ہونا پڑے گا۔

قوم کو چاہیے کہ عمران خان کو اس وضاحت کا مستقل طور پر کہے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ ان مسائل پر وزیراعظم کا واضح نہ ہونے کا بھی ایک مقصد ہے۔ یہ طرز عمل متعدد مقاصد پورے کرتا ہے۔ عوام میں شامل جماعت اسلامی طرز کے لوگ اور وہ جن کو انہوں نے اپنی جماعت میں لیا ہے، وہ ان کی اس بات کو ضرور پسند کریں گے۔ فلاحی ریاست پر ان کے اس بیانیے سے ان کے دماغ میں گھنٹیاں بجتی ہیں اور ان کو مودودیت کی یاد آتی ہے۔ لیکن دوسری طرف وہ شہری آبادی میں بسنے والی تعلیم یافتہ آبادی کو بھی متوجہ کرسکتے ہیں، جو شاید جماعت اسلامی والے اسلام میں دلچسپی نہ رکھتے ہوں، لیکن ان کی دلچسپی کا محور یہ بات ہو کہ اسلام اور اس کے بیانیے کو کیسے فروغ دیا جارہا ہے۔ اور یہ اسلامی بیانیہ معاشرے کے پسماندہ افراد کو تحفظ  فراہم لینے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔

اس سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ فلاحی ریاست لوگوں کی معاشی حالت کو بہتر کرنے کے لیے کیا کرسکتی ہے۔ کیونکہ پاکستان میں ابھی بھی ٹیکس کی ادائیگی کے حوالے سے مسائل ہیں۔ ملک کے پاس اتنا سرپلس سرمایہ نہیں ہے کہ واجب الادا قرضہ لوٹایا جا سکے۔ میں کہوں گا کہ یہ وہ زاویہ ہے جس پر سب سے زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔ آئیں عالمی صورت حال پر نظر ڈالیں جہاں دوسری ریاستیں یہ زبان استعمال کرتی ہیں۔ سب سے قریب ترکی ہے جہاں جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (ایرادوان) نے عوام میں مقبول یہ بیانیہ اختیار کیا ہے۔ یہی کام پاکستان میں عمران خان بھی کررہے ہیں۔

لیکن اگر آپ ترکی کو دیکھیں تو وہاں اردوان کو بھاری اکثریت کی حمایت حاصل ہے اور آہستہ آہستہ ان کے مغرب مخالف موقف بھی واضح ہوگئے کیونکہ وہ دنیا کے دیگر مسلمانوں کے مسائل کے بارے میں بات کرتے ہیں ،بعض مبصرین کے مطابق وہ اپنے ذاتی فائدہ  اور طاقت کے استحکام کے لئے اس لہر پر چل رہے ہیں، لہذا اگر میں عمران خان کے بیانات پر غور کروں تو نظر آتا ہے کہ ان کے بیانات بہت سے مختلف سطح پر مسلمانوں میں  مقبول بنائے گا ۔

عمر شوکت ساؤتھ افریقہ کی جوہانسبرگ یونیورسٹی سے مذہبی علوم میں پی ایچ ڈی کررہے ہیں، اس سے قبل انہوں نے یونیورسٹی آف ورجینیا سے ایم اے کی ڈگری حاصل کی، حال ہی میں انہوں نے آئی بی اے کراچی میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ،  وہ جوہانسبرگ میں افرو-میڈل  ایسٹ میں بھی کام کرچکے ہیں، جہاں ان کی توجہ آئی ایس آئی ایس، شامی بحران اور اسلامی سیاست پر مرکوز تھی۔ عمر شوکت اسلامی دنیا کے سماجی تحریکوں میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔