نسوار،لونگ،سونف اورتمباکو؟

September 10, 2018

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان بوم بوم آفریدی بلاشبہ پوری قوم کے پسندیدہ سپر اسٹار ہیں،ایسے اسٹار جو خبروں کی زینت بنے رہتے ہیں۔ جی ایچ کیو میں یوم دفاع کی تقریب میں جب کیمرہ مین تقریب میں موجود مہمانوں کی وڈیو بنا رہا تھا تو شاہد خان آفریدی کو کوئی چیز منہ میں رکھتے ہوئے دیکھا گیا۔ بس شاہد آفریدی کو منہ میں کچھ رکھتے ہوئے دیکھنا تھا کہ نسوار خبر کی زینت بن گئی۔ میڈیا پر خبریں چل پڑیں کہ شاہد آفریدی نے منہ میں نسوار رکھی ہے سوشل میڈیا تو آج کل کے دور میں اتنا فاسٹ ہے کہ کرنٹ بھی بلب تک پہنچنے میں وقت لیتا ہے، پر سوشل میڈیا پر خبر کو دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچنے میں ذرا ٹائم بھی درکار نہیں ہوتا۔ ویسے شاہد آفریدی نے جس انداز میں کوئی چیز منہ رکھی تھی وہ نسوار کاہی انداز تھا۔ لوگ نسوار اسی انداز میں رکھتے ہیں۔ رپورٹرز نے بھی شاہد آفریدی کے نسوار استعمال کرنے کو خوب محسوس کیا اور کراچی کی ایک محفل میں سابق کپتان وسیم اکرم سے ملاقات ہوئی تو وہاں شاہد آفریدی کے بارے میں سوال کر بیٹھے وسیم اکرم نے کہا کہ شاہد آفریدی اسٹار ہے اور کسی بھی تقریب میں کیمرہ اس پر بھی جاتا ہے ویسے بھی نسوار والی بات چھوٹی سی بات ہے، نظر انداز کر دیں۔ اگلے ہی دن کراچی میں ایک تقریب کے دوران شاہد آفریدی سے صحافیوں کا سامنا ہوگیا۔ صحافیوں نے شاہد آفریدی سے نسوار رکھنے کا سوال کر ڈالا۔ شاہد بھی کھلے دل کا بندہ ہے، صحافیوں کو بتا دیا کہ میں نسوار استعمال نہیں کرتا اور جو چیز میں نے منہ میں رکھی تھی وہ سونف اور لونگ کا امتزاج ہے۔ لالہ نے جو چیز منہ رکھی تھی وہ صحافیوں کو دکھا بھی دی اور سنگھا بھی دی۔

میں گھر پر دفتر جانے کی تیاری کر رہا تھا کہ آفس سے فون آگیا کہ شاہد آفریدی نے جی ایچ کیو کی تقریب میں جو چیز استعمال کی تھی وہ اس نے صحافیوں کو دکھا دی ہے۔ وہ نسوار نہیں تھی۔ پھر آفس سے مجھے واٹس ایپ پر چند تصاویریں بھیجی گئیں۔ تصاویر دیکھ کر میں پہچان گیا کہ یہ ہے کیا۔ شاہد آفریدی نے جو چیز میڈیاکو دکھائی وہ تارا (کھینی ) ہے یہ بھارتی پروڈکٹ ہے اور اس میں  تمباکو ہوتا ہے اور اس کو خوشنما بنانے کے لئے اس میں منٹ بھی شامل ہے۔ لونگ اور سونف کا دور دور تک اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ پہلے (کھینی ) کی پیکنگ اور طر ح کی تھی۔ اس میں ایک تمباکو کا پتا ہوتا تھا اور لوگ اس پتے کو توڑ کر منہ رکھتے تھے اور یہ صرف کھینی کہلاتی تھی، اس کے بعد اس کی چھوٹی چھوٹی پڑیا (فلٹر) کی طرح پیکنگ آگئی، یعنی اب پتا توڑنے کی ضرورت نہیں ایک پڑیا ( فلٹر) لو اور منہ میں رکھ لو۔ یہ تمباکو ہے اسے استعمال کرنے والے کہتے ہیں کہ اس میں نسوار جیسا مزا ہے۔ نسوار میں بھی تمباکو ملا ہوتا ہے۔ اپنی بات کی تصدیق کرنے کے لئے میں پان کی دکان پر پہنچ گیا اور تارا(کھینی ) کے بارے میں مزید معلومات حاصل کیں۔

 

صحافی ہوں تو بات کی تصدیق بھی ضروری سمجھتا ہوں۔ پان والے نے پیکٹ دیکھتے ہی کہا اس میں سونف اور لونگ نہیں، تمباکو ہوتا ہے اور اس نے ایک پیکٹ کھول کر بھی دکھایا اور پیکٹ کے پیچھے بھی لکھا ہے کہ یہ تمباکو ہے اسے چبائیےگا نہیں۔ اب بات صرف اتنی سی ہے۔ ملک کا اسٹار عوام کا آئیڈیل ہوتا ہے لوگ اسے فالو کرتے ہیں یقینا تمباکو استعمال کرنا صحت کے لئے مضر ہے چاہے تمباکو کسی بھی شکل میں ہو۔ عوام کے پسندیدہ اسٹار کو چاہیے کہ وہ نوجوان نسل کو تمباکو استعمال کرنے سے منع کرے نہ کی خود بھی تمباکو استعمال کرے اور اس کا اعتراف بھی کرے۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ شاہد آفریدی فوری تردید کر کے نوجوانوں کو تمباکو سے دور رہنے کی تاکید کریں گے۔