تیرھواں، نواں یا پھر آٹھواں صدر

September 9, 2018

بیرسٹر چوہدری اعتزاز احسن کا شمار سیاستدانوں کی اس کمیاب قبیل سے ہے جو بیک وقت قانون، تاریخ اور ادب پر ید طولیٰ رکھتے ہیں، اس سے بڑھ کر یہ کہ اپنی بات کہنے کا جو ہنر انہیں خدا نے ودیعت کر رکھا ہے، اس کی شاید ہی کوئی دوسری مثال موجودہ سیاسی شخصیات میں تلاش کی جا سکے، دشت سیاست میں ان کی سیاحی کا عرصہ نصف صدی کو چھوتا دکھائی دیتا ہے، اس سے بڑھ کر یہ کہ ان کا تعلق قدیم سیاسی گھرانے سے ہے۔ یہ پس منظر جناب اعتزاز احسن کی سیاسی قدآوری کے اسباب کا پتہ دیتا ہے، اسی لئے ان کی کہی ہوئی ہر بات کو بڑی توجہ اور پذیرائی ملتی ہے لیکن بطور صدارتی امیدوار، صدارتی انتخاب والے دن ان کی میڈیا سے گفتگو میں شامل یہ جملہ  کئی سوالات کھڑے کر گیا کہ یہ 13ویں نہیں نویں صدر کا انتخاب ہے، ان کا اصرار تھا کہ ہم (یقیناً اس سے مراد ان کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی ہے) ان چار صدور کو نہیں مانتے جو مارشل لاء کے ذریعے عہدہ صدارت پر قابض ہوئے۔

ایک ڈیمو کریٹ کے کانوں کو یہ جملہ بہت بھلا لگتا ہے اور آئین و قانون کے عین مطابق بھی لیکن اس کا کیا کیجئے کہ پیپلز پارٹی کا ماضی ان صدور کی ذات کی کہیں نفی کرتا دکھائی نہیں دیتا بلکہ اس کے بانی تو کسی حد تک عہدہ صدارت غصب کرنے والوں کے تسلط میں فعال مددگار نظر آتے ہیں۔

ملک میں 1958ء میں مارشل لاء نافذ کرنے کے 20 دن بعد جنرل ایوب خان نے اسکندر مرزا کو چلتا کرکے صدارتی منصب خود سنبھالا تو ذوالفقار علی بھٹو ان کی کابینہ میں موجود تھے، بعد میں یہ قربت اتنی بڑھی کہ بھٹو خود کو ایوب خان کے سیاسی جانشین کے منصب پر فائز کر بیٹھے، ایوب کی ساختہ کنونشن لیگ کا دوسرا بڑا عہدہ سیکریٹری جنرل شپ بھٹو صاحب کو سونپا گیا، اسی حیثیت میں وہ 2 جنوری 1965ء کو ہونیوالے صدارتی انتخاب کیلئے ایوب خان کے چیف الیکشن ایجنٹ مقرر ہوئے جس میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کو دھاندلی سے ہرائے جانے کا تاثر آج بھی موجود ہے،  بھلا اس سے بڑھ کر پہلے مارشل لائی صدر کی اور تائید کیا ہو سکتی تھی، جس سے اب اعتزاز احسن اعلان لاتعلقی فرما رہے ہیں۔

ایوب خان کو برا بھلا کہنے اور آمر قرار دینے کا سلسلہ تو بھٹو صاحب نے کابینہ سے نکالے جانے کے کافی دن بعد شروع کیا، جس میں مبالغے کی رنگ آمیزی سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے گویا بھٹو کا کبھی ایوب سے کوئی تعلق رہا ہی نہیں۔ لطیفہ یہ کہ بھٹو کی صاحبزادی محترمہ بے نظیر زرداری بھٹو نے اپنی پہلی حکومت کی برطرفی کے بعد 1991ء کے وسط میں لندن اسکول آف اکنامکس کے میگزین کو ایک انٹرویو میں اپنی برطرفی کی ایک وجہ پاکستان میں مردوں کے تسلط والے تنگ نظر معاشرتی کلچر کو قرار دیا، جہاں ایک عورت کا اقتدار برداشت ہی نہیں ہوسکتا اور اپنی بات میں زور پیدا کرنے کیلئے فرمایا کہ قائد اعظم کی بہن کو اسی سوچ کے تحت دھاندلی کرکے ہرا دیا گیا، کسی نے ان سے پوچھا تک نہیں کہ اس دھاندلی میں ایوب کے چیف الیکشن ایجنٹ بھٹو صاحب کا کتنا حصہ تھا؟۔

اب آتے ہیں دوسرے مارشل لائی صدر جنرل یحییٰ خان سے بھٹو صاحب کی یگانگت کی طرف، 1970ء کے انتخابات اور اس کے بعد بھٹو اور یحییٰ کے غیر اعلانیہ مراسم کا تذکرہ یہاں مطلوب نہیں (جس میں بھٹو کی دعوت پر یحییٰ کا شکار کھیلنے کیلئے لاڑکانہ جانا بھی شامل ہے)۔ کیا بھٹو صاحب کے سیاسی وارث اس بات سے انکار کرسکتے ہیں کہ پاکستان کے دو لخت ہونے سے چند دن پہلے بھٹو کو یحییٰ خان نے اپنی کابینہ میں نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ مقرر کیا، اگر بھٹو انہیں ناجائز صدر مانتے تھے تو اس کی کابینہ کا اہم حصہ کیوں بنے؟۔

مارشل لاء کے ذریعے اقتدار پانے والے تیسرے صدر جنرل ضیاء الحق سے بلاشبہ پیپلز پارٹی کا رشتہ دشمنی کا ہے لیکن یہ تلخ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ پیپلز پارٹی کے اپنے صدر چوہدری فضل الٰہی سال بھر منصب صدارت سے چمٹے رہ کر ضیاء کے اقتدار کا حصہ بنے رہے اور یوں عالمی سطح پر ڈکٹیٹر کے ساتھیوں کو اس پراپیگنڈہ کا موقع ملتا رہا کہ ملک کا آئینی سربراہ تو ہمارے ساتھ کھڑا ہے۔ پھر ضیاء الحق کو تو تقدیر نے پیپلز پارٹی کے ہاتھوں یوں بھی صدر منوایا کہ بے نظیر بھٹو نے 2 مرتبہ جس آئین کے تحت وزارت عظمٰی کا حلف لیا، اس کے آرٹیکل 41 کی شق 7 میں جنرل محمد ضیاء الحق کا نام لکھا ہوا تھا۔ ظاہر ہے عہدے کا حلف کسی ایک شق کو بالائے طاق رکھ کر تو نہیں اٹھایا جاسکتا۔

یاد آیا کہ اعتزاز صاحب تو ضیاء کے مارشل لاء کے وقت پیپلز پارٹی سے خارج کئے جاچکے تھے اور اس وقت وہ تحریک استقلال کا حصہ تھے جس کے سربراہ ایئرمارشل اصغر خان پر پیپلز پارٹی کھلا الزام عائد کرتی تھی کہ انہوں نے فوج کے افسروں اور جوانوں کے نام ایک کھلا خط لکھ کر انہیں منتخب آئینی حکومت کیخلاف بغاوت پر اکسایا اور اسی کا منطقی نتیجہ ملک میں مارشل لاء کا نفاذ تھا۔ اعتزاز صاحب کے اس وقت کے سیاسی قائد اصغر خان تو ابتدائی دنوں میں جنرل ضیاء کے اس قدر قریب سمجھے جاتے تھا کہ لوگ انہیں فوج کی تائید سے نیا وزیراعظم بنتا دیکھ رہے تھے۔

چوتھے فوجی صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو ابتدا میں پیپلز پارٹی کی خاموش حمایت حاصل رہی لیکن ہم اسے پرویز مشرف کا اقتدار تسلیم کرنا نہیں کہتے۔ البتہ 2008ء میں پیپلز پارٹی کے وزیراعظم اور وزراء نے اسی پرویز مشرف سے حلف لیا جسے اب اعتزاز صاحب صدر ماننے کو تیار نہیں، اگر مشرف صدر نہیں تھے تو وزیراعظم گیلانی اور ان کے وزراء کے حلف ناموں پر توثیقی دستخط کس کے ہیں؟، پیپلز پارٹی والوں نے شریک اقتدار نون لیگ کے وزراء کی طرح سیاہ پٹیاں باندھنے کا تکلف بھی روا نہیں رکھا تھا۔

اگر ان چاروں فوجی صدور کو گنتی سے خارج کرنے کی وجہ اعتزاز صاحب کے نزدیک یہ ہے کہ یہ نہ تو کسی مجاز الیکٹورل کالج سے منتخب تھے اور ان کے اقتدار کا سرچشمہ فوجی طاقت تھا تو 20 دسمبر 1971ء کو بھٹو صاحب بھی اسی راستے سے منصب صدارت پر فائز ہوئے۔ فرق صرف یہ تھا کہ انہیں عالمی تاریخ کا اولین چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بنانے کیلئے یحییٰ خان کیخلاف بندوق یا طاقت کا استعمال لیفٹننٹ جنرل گل حسن اور ایئر مارشل رحیم نے کیا۔ سقوط پاکستان کے باعث بیک فٹ پر ہونے کے سبب فوج نے زمام اقتدار خود سنبھالنے سے گریز کیا اور مارشل لاء کا کوڑا ایک سویلین کو تھما دیا، بھٹو بھی اتنے ہی غیر منتخب، مسلط شدہ اور خود ساختہ صدر تھے جتنے کہ 4 فوجی صدور!!!!!!

اعتزاز صاحب صدر کے منتخب ہونے کا اپنا ہی فارمولا برقرار رکھیں لیکن گنتی درست کرلیں، غیر منتخب صدور کی تعداد 4 نہیں 5 ہے۔ یوں وہ کہہ سکتے ہیں کہ عارف علوی کا انتخاب آٹھویں صدر کے طور پر ہوا۔