عوام کو ریلیف دو

Umair Solangi
September 8, 2018

الیکشن سے قبل سیاسی جماعتوں نے بے شمار وعدے کئے اور الگ الگ  نعرے لگائے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کا نعرہ تھا 'ووٹ کو عزت دو'، پاکستان تحریک انصاف کا نعرہ تھا 'دو نہیں ایک پاکستان' اور پاکستان پیپلز پارٹی کا نعرہ تھا 'بی بی کا وعدہ نبھانا ہے، پاکستان بچانا ہے'۔ عوام نے پیپلز پارٹی کو سندھ میں اور تحریک انصاف کو وفاق سمیت پنجاب اور خیبر پختونخوا میں بھی خدمت کا موقع دیا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ دونوں جماعتیں عوام کی خدمت کریں اور عوام کو ریلیف فراہم کریں کیونکہ اب نعروں کا وقت چلا گیا ہے اور عوام سے کئے گئے وعدے نبھانے کا وقت آ پہنچا ہے۔

اگر تمام صوبوں کا موازنہ کیا جائے تو صحت و تعلیم کے میدان میں بلوچستان سب سے پیچھے ہے۔ ایسا نہیں کہ وہاں کے نوجوان تعلیم حاصل کرنا نہیں چاہتے، بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کے نوجوان تعلیم کے حصول کے لئے صرف کوئٹہ ہی نہیں بلکہ ملک کے مختلف شہروں کا رخ بھی کرتے ہیں تاکہ اعلی تعلیم حاصل کرسکیں ۔ ماضی کی حکومتوں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے بلوچستان کے حالات دیگر صوبوں سے کہیں زیادہ خراب ہیں۔

صوبہ سندھ کی بات کی جائے تو یہاں حالات بلوچستان سے بہتر ہیں مگر صحت و تعلیم کے میدان میں سندھ پنجاب سے بہت پیچھے ہے۔ سندھ اور بلوچستان کے دیہی علاقوں میں آج بھی ایسے اسکولوں کی کثیر تعداد موجود ہے جہاں وڈیروں اور زمینداروں کے جانور بندھے رہتے ہیں یا وہ اسکول نشہ کرنے والوں کی آماجگاہ بن چکے ہیں۔ سندھ اور بلوچستان میں سب سے بڑا مسئلہ گھوسٹ ملازمین کا ہے جہاں ہزاروں سرکاری ملازمین سرکار سے تنخواہ تو باقاعدگی سے وصول کرتے ہیں مگر اپنا فرض نہیں نبھاتے۔ ہزاروں ٹیچرز ایسے ہیں جنہیں خود تعلیم حاصل کرنے کی ضرورت ہے مگر بدقسمتی سے وہ بچوں کو پڑھا رہے ہیں۔ جن سرکاری اسکولوں پر تالا لگا ہوا ہے، وڈیروں کے جانور بندھے ہوئے ہیں یا جہاں اسکول ویران ہیں وہاں کے اساتذہ گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کرتے ہیں جنہیں گھوسٹ اسکول ٹیچرز کہا جاتا ہے۔

خیبر پختونخوا کے حالات بھی بے حد خراب ہیں جہاں عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ سرکاری اسپتالوں کی حالت انتہائی خراب ہے اور سرکاری اسکولوں بالخصوص بچیوں کے اسکولوں کی حالت بھی بدترین ہے۔ پنجاب کے حالات کافی بہتر ہیں۔ صوبہ پنجاب صحت و تعلیم کے میدان میں دیگر تمام صوبوں سے بہتر ہے مگر جنوبی پنجاب کے لوگوں کو انہی مشکلات کا سامنا ہے جس کا سامنا سندھ اور بلوچستان کی عوام کرتی ہے۔ اس ترقی یافتہ دور میں بھی پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے سینکڑوں دیہات پانی، بجلی اور گیس کی سہولیات سے محروم ہیں۔ الیکشن سے پہلے سیاسی جماعتوں نے جو وعدے کئے اب ان وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کی ضرورت ہے۔ عوام سے ووٹ کو عزت دو کا مطالبہ کرنے والوں سے میری گزارش ہے کہ اب عوام کو ریلیف دو کیونکہ پاکستان کی عوام شدید مشکلات اور پریشانی کا سامنا کر رہی ہے۔ سب سے پہلے ہر صوبے کے تمام دیہاتوں میں بجلی، گیس اور فراہمی کے لئے صوبائی حکومتوں کو فوری عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ وفاقی حکومت کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ صوبائی حکومتوں کا ساتھ دیں تاکہ عوام کو کچھ ریلیف مل سکے۔ ملک کے تمام صوبوں کے چھوٹے بڑے شہروں میں صحت و تعلیم کی جدید سہولیات فراہم کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ عوام کو صحت و تعلیم کی مفت فراہمی وفاقی و صوبائی حکومتوں کی ترجیحات میں شامل ہونی چاہیے   کیونکہ یہ حکومتوں کی اولین ذمہ داری بھی ہے۔