بلوچستان کے علاقے گلستان میں امن جرگہ

September 7, 2018

جلال نُورزئی

برادرم لالہ محمد یوسف خلجی سیاسی و سماجی حوالے سے متحرک شخص ہیں۔ ایک لمبے عرصے سے معاشرے کے اندر قبائلی و خاندانی دشمنیوں ، جھگڑے اور تنازعات کو ختم کرنے کی دوڑ دھوپ میں لگے ہیں۔ اس ذیل میں کئی سنگین اور خونی دشمنیاں صلح سے ختم کرانے میں سرخرو ہوچکے ہیں۔ اس مقصدکیلئے بلوچستان امن جرگہ کے پلیٹ فارم سے سرگرم ہیں۔

 مجھے یہ سن کر دلی خوشی ہوئی کہ لالہ یوسف خلجی ضلع قلعہ عبداللہ کے اندر قبائل کے درمیان امن و آشتی اور صلح کیلئے بھی اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں ۔ اس سلسلے میں قبائلی معتبرین، علماءاور سادات کا تعاون شاملِ کار ہے ۔ یادش بخیر قلعہ عبداللہ میں غبیزئی، حمیدزئی، سیگئی و شمشوزئی اور قرب و جوار کے علاقوں میں موجود دوسرے قبائل و خاندانوں کے درمیان سالہا سال سے جاری دشمنیوں کے نتیجے میں سینکڑوں افراد موت کا لقمہ بن چکے ہیں۔ بڑے بڑے قبائلی معتبرین، تعلیم یافتہ و ذہین افراد اور حسین وگبھرو نوجوان جاہلیت کے اس آگ  کی نذر ہو چکے ہیں۔ خاندان تو چھوڑئیے قبیلوں کے قبیلوں کا آپس میں قطع تعلق ہے ، آمدروفت مشکل ، نہ کسی کی خوشی میں جاسکتے ہیں نہ غمی میں شامل ہونا ممکن ہے،جگہ جگہ نجی مورچے بنے ہوئے ہیں،ہر لمحہ مخالف کے حملے کا دھڑکا لگا رہتا ہے،گویا جیتے جاگتے ، سمجھ بوجھ، اسلامی و قبائلی روایات کے حامل انسان قبائلی رنجشوں و تنازعات کے عذاب میں مبتلا ہیں۔

 لالہ یوسف خلجی پانچ سالوں سے ان بڑی دشمنیوں کو صلح میں بدلنے کی مساعی میں لگے ہوئے ہیں۔ چنانچہ اب انہوں نے 10ستمبر سے قلعہ عبداللہ کے علاقے گلستان میں صوبے کے دوسرے خیر خواہ معتبرین کے ہمراہ قناتیں لگا کر بیٹھنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ بقول ان کے وہ چالیس روز تک وہاں بیٹھیں گے نہ کسی کا کھائیں گے نہ پئیں گے۔فقط التجا امن ، خونی تنازعات کے رفع اور صلح و آشتی کی کریں گے۔لالہ یوسف نے مجھے بتایا کہ ان منطقوں میں ستائیس چھوٹی بڑی دشمنیاں اب تک چھ سو سے زائد زندگیاں نگل چکی ہیں،کہتے ہیں کہ اس قیام و پڑاﺅ کا مقصد وہاں کے عوام کو شعور اور تحریک دینا بھی ہے کہ وہ اپنی اپنی حیثیت کے مطابق جنگ و جدل اور کشت و خون رکوانے میں اپنا کردار نبھائیں ۔

 میں سمجھتا ہوں یہ لازمی و اہم فریضہ ہے۔ علماءو مشائخ، قبائلی عمائدین اسی طرح سیاسی جماعتیں و شخصیات کو اس فریضے کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے اور اپنی ذمہ داریاں کما حقہ ادا کریں۔ ایک عام مشاہدہ یہ بھی ہے کہ سیاسی جماعتیں اور اس سے وابستہ سرکردہ افراد دشمنیوں کی ان چنگاریوں کو اپنی سیاسی گروہی و شخصی مفادات کیلئے بھڑکاتے رہتے ہیں ۔اور یہ بھول جاتے ہیں کہ کبھی یہ چنگاریاں ان کے نشیمن میں بھی آگ بھڑکاسکتی ہیں۔اکثر ایسا بھی دیکھنے کو ملا ہے کہ محض کاروباری و دیگر تنازعات کوبرادری و گروہی دشمنی کا رنگ دینے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ ستم بالائے ستم یہ کہ اس پورے منظرنامے میں حکومتوں کی سنجیدہ ومثبت توجہ سرے سے رہی ہی نہیں ہے،مسلح جتھے بڑی بڑی گاڑیوں میں آزادانہ گھوم پھر رہے ہوتے ہیں ،گویا انہیں مسلح رہنے کی اجازت دے رکھی گئی ہے، نیز سیاسی ،سماجی و عوامی حلقے اعتراضات اُٹھا رہے ہیں کہ ان جتھوں کی عملًا پالا پوس کر سرپرستی کی جاتی ہے۔ ان رویوں و پالیسیوں سے لامحالہ خون ریزی، تصادم اور قبائلی تنازعات کو ہوا مل رہی ہے۔ لہٰذا ذمہ داری کا احساس عوامی حکومتوں ، مسند اختیار و اقتدار پر بیٹھے لوگوں کو کرنا چاہیے کہ کس طرح معاشرے کو ان عفریتوں سے چھٹکارہ دلایا جائے۔

 غالباً اپریل 1990میں گورنمنٹ کالج پشین کے چند اساتذہ کو دن دیہاڑے کالج کے احاطے سے اغواءکرلیا گیا تھا۔ایک دوسرے مقام سے مزید سرکاری ملازمین کو اُٹھا لیا گیا۔ اغوا کاروں کے خاندانوں کا ایک فرد سندھ کے شہر حیدرآباد میں قتل اور ڈکیتی کے مقدمات میں قید تھا۔ یہ واردات ان کی رہائی کی خاطر کی گئی تھی ۔ چنانچہ اس وقت کی حکومت نے احساس اور دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ میرے والد مولانا نیاز محمد درانی مرحوم کی سرکردگی میں جرگہ قائم کیا گیا ۔ جرگہ افغانستان کے علاقے غزنی اغواءکاروں سے ملنے گیا ۔ ما بعد حیدرآباد میں مقتول خاندان سے راضی نامہ کرایا گیا۔ اغواءکاروں کی فائرنگ سے ایک استاد جاں بحق بھی ہوا تھا۔ چنانچہ ان کے لواحقین سے بھی بخشش کرائی گئی۔ اس طرح بائیس ماہ بعد قضیہ حل ہوگیا ،مغوی اساتذہ اور دوسرے سرکاری ملازم رہا کردیئے گئے۔ یہ جرگہ ایسے ایام میں افغانستان گیا کہ جب غزنی خون جما دینی والی سردی کی لپیٹ میں تھا ۔چونکہ مسئلہ انسانی جانوں کا تھا اور انہوں نے موسم کی سختی کی بجائے نیک مقصد کو پیش نظر رکھا۔

کہنا یہ چاہ رہا ہوں کہ حکومتیں اور دوسرے صاحبان اقتدار بھی اپنی ذمہ داری و موجودگی کا احساس دلائیں،اگر حکومت اس صورتحال میں معاون بنتی ہے تو میرا کامل یقین ہے کہ لا لہ یوسف خلجی اور ان کے رفقاءاس عظیم مقصد میں کامیاب ہوکر رہیں گے، اور لازم ہے کہ فریقین بھی اسلامی تعلیمات کو مد نظر رکھیں ،فریقین کے لئے فتح و شکست کی سوچ و انا کی بجائے اختلافات سے باہر آنا یعنی صلح ہی با عزت رستہ ہے،یقینا ایسا کرنے میں فریقین کی عزت میں اضافہ ہوگا۔

 اللہ رب العزت کا ارشاد ہے کہ تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں بس اپنے بھائیوں کے درمیان میل ملاپ کرایا کرو۔(القرآن) رسول مہربان نے باہمی خلش کو دور کرنا اور صلح کرانے کو روزہ اور زکواة سے افضل چیز قرار دیا ہے۔ رسول مبارک کو مسلمانوں کے درمیان صلح اور ان کے باہمی اختلافات رفع کرنے کا پاس و لحاظ رہتا تھا،ایک بار قبیلہ عمرو بن عوف میں جھگڑا ہوا تو آپ مصالحت کرانے اپنے اصحاب کرام کو ساتھ لے کر فوراً پہنچ گئے،صلح و مصالحت کرانے میں زیادہ وقت لگا یہاں تک کہ نماز باجماعت میں تاخیر ہونے لگی،حضرت بلال ؓنے حضرت ابو بکر ؓ کو نماز کی امامت کے لئے کہا،نماز شروع ہونے کے بعد رسول اکرم پہنچ گئے،لوگوں کے درمیان صلح کرانا تعلقات قائم کرانے میں اللہ کی رضا حاصل ہوتی ہے، سیاستدان ووٹ مانگنے در در پر دستک دیتے رہتے ہیں۔ لیکن اپنے اردگرد کو دشمنیوں اور رقابتوں کی وباء سے پاک کرنے کی زحمت نہیں کرتے ۔ میں سمجھتا ہوں ہر وہ با اثر و باحیثیت شخص جو خود کو ان تنازعات سے لا تعلق رکھتا ہے معاشرے کا خیرخواہ نہیں ہے،گلستان میں امن جرگہ کا پڑاﺅ دراصل پشتون ولی کے ساتھ ایک اہم انسانی و اسلامی فریضہ ہے،حکومت ،قبائل ،علما ءو سادات اور سیاسی شخصیات کو اس کار خیر میں جرگے کی مدد و معاونت کرنی چاہیے۔​