بلوچستان میں جاری شجر کاری مہم اور جنگلات کی کٹائی

Zaheer Zarf
September 6, 2018

تحریر: ظہیر ظرف

ملک بھر کی طرح بلوچستان میں بھی شجر کاری مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے اور اس سلسلے میں بڑے زور و شور سے پودے بھی لگائے جا رہے ہیں، صوبے کے وزیر اعلیٰ جام کمال پُر عزم ہیں کہ شجر کاری مہم کے تحت آئندہ پانچ سال میں دس ارب پودے لگانے کا حدف مقرر کیا گیا ہے جسے ہر صورت مکمل کیا جائے گا۔

 

مگر دوسری طرف یہ دیکھا جارہا ہے کہ بلوچستان میں قدرتی جنگلات کی کٹائی میں ملوث مافیا بھی اسی زور و شور کےساتھ جنگلات کی بے دریغ کٹائی میں مصروف عمل ہے، نہ صرف بلوچستان کے اضلاع ژوب اور شیرانی میں لاکھوں ایکڑ اراضی پر پائے جانے والے زیتون کے قدرتی قیمتی جنگلات کا صفایا کیا جا رہا ہے اور یہ سلسلہ صرف ان دو اضلاع پر مشتمل نہیں بلکہ زیارت، لسبیلہ، قلات، خضدار، پنجگور، دالبندین سمیت دیگر اضلاع بھی جنگلات کی بے دریغ کٹائی کا شکار ہیں۔

دوسری جانب بلوچستان سے نکلنے والی قدرتی گیس پر بھی اب تک اہل بلوچستان کو مکمل رسائی نہیں دی جاسکی جس سے بلوچستان کے اکثر علاقے جہاں سردیوں میں پارہ نقطہ انجماد سے نیچے گر جاتا ہے وہاں ان نایاب درختوں کو کاٹ کر ہی سردیوں میں خود کو گرم رکھا جاتا ہے۔ اس کی واضح مثال ہزاروں ایکڑ پر مشتمل  دنیا کے قدیم جنگلات میں شمار زیارت میں صنوبر کا وسیع جنگل  ہے جہاں ایک طرف تو چارو نا چار مقامی آبادی ان نایاب درختوں کی کٹائی میں ملوث ہے تو دوسری طرف عالمی اثاثہ جات میں شامل زیارت کا خوبصورت جنگل ٹمبر مافیا کے نشانے پر ہے، جس کی وجہ سے اس خوبصورت وادی کا حسن دن بہ دن ماند پڑتا جا رہا ہے۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ محکمہ جنگلات کا کردار بھی اس مافیا کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے نہ ہونے کے برابر ہے، بلکہ بعض مقامات پر محکمہ جنگلات میں موجود کالی بھیڑوں کی ایما پر ہی ٹمبر مافیا دیدہ دلیری کے ساتھ نایاب درختوں کی بے دریغ کٹائی میں سرگرم ہیں اور یہ مافیا اس قدر طاقت ور ہے کہ ماضی کی تمام صوبائی حکومتیں تمام تر حقائق کو جاننے کے باوجود اس معاملے میں مکمل خاموشی اختیار کئے رہیں۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق موجودہ وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال کے اپنے آبائی ضلع لسبیلہ سے ہی ہزاروں ٹن نایاب لکڑی روزانہ محکمہ جنگلات اور پولیس کی ناک کے نیچے سے کراچی اسمگل ہوکر آتی ہے جب کہ ضلع میں جابجا پھیلے سیکڑوں آرا مشینوں پر بھی کسی قسم کی کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی۔

شجر کاری مہم میں اس سے پہلے بھی اربوں روپے خرچ کئے گئے اور اس بار بھی کروڑوں درخت لگانے کے دعوے کے ساتھ قومی خزانے سے اربوں روپے خرچ کئے جائیں گے مگر اس شجر کاری مہم کی افادیت تب تک سامنے نہیں آئے گی جب تک نایاب درختوں کی کٹائی میں ملوث عناصر کے گرد گھیرا تنگ نہیں کیا جاتا، اور جب تک ایسا نہیں کیا جاتا تب تک بلوچستان میں موسمیاتی تبدیلیوں اور اس کی تباہ کاریوں پر قابو پانا دیوانے کا خواب ہی لگتا ہے۔