دیر آید درست آید ، ہاکی بہتری کی ڈگر پر

September 5, 2018

Photo source: AFP

ایشین گیمز میں پاکستان کے قومی کھیل ہاکی ٹیم کا سفر بھارت کے خلاف میچ میں دو ایک کی شکست کے ساتھ ختم ہوا تو ملک میں چند مخصوص سابق ہاکی ا سٹارز نے پاکستان ہاکی کی تباہی کا واویلا مچاتے ہوئے ملک میں طوفان برپاکردیا اور فیڈریشن کی تبدیلی کا مطالبہ کردیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ مطالبہ کرنے والے کوئی اور نہیں بلکہ وہ ہیں جو پاکستان ہاکی فیڈریشن کے موجودہ سیٹ اپ کے تین سالہ دور کے ابتدائی دو سال میں فیڈریشن کے گن گاتے تھے اور پاکستان ٹیم کے براہ راست کرتا دھرتا تھے ۔ اس میں حنیف خان اور خواجہ جنید قابل ذکر ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ دونوں پاکستان ہاکی کے لیے بطور کھلاڑی نمایاں کارہائے سرانجام دے چکے ہیں اور اس وجہ سے انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

بریگیڈیئر خالد سجاد کھوکھر کو جب پاکستان ہاکی فیڈریشن کی سربراہی ملی تو انہوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیائے ہاکی کے عظیم ترین کھلاڑی شہباز سینئر کو بطور سیکریٹری جنرل فیڈریشن کا حصہ بنایا پھر شہباز سینئر کے ساتھ ملکر بریگیڈیئر خالد سجاد کھوکھر نے اپنی سربراہی میں ہاکی کی ایگزیکٹو باڈی سمیت ملکی ہاکی اولمپئنز سے رابطے کرکے ان سب کو آن بورڈ لیا جو ہاکی کی بہتری کے لیے کچھ کرنا چاہتے تھے ایسے میں ٹیم کی کوچنگ اور منیجر شپ کا قرعہ اولمپئن خواجہ جنید اور اولمپئن حنیف خان کے نام نکلا دونوں کو پاکستان ٹیم کی کمان سونپی گئی اور اس حد تک آزادی دی کہ و ہ سلیکشن میں بھی اپنی مرضی شامل کرواسکیں لیکن ایک سال سے زائد ٹیم کو اپنی مرضی کے مطابق کھلوانے والے حنیف خان اور خواجہ جنید ٹیم کی پرفارمنس بہتر نہ کرسکے ان کے دور میں پاکستان نے مجموعی طور پر تینتیس میچز کھیلے جن میں محض گیارہ میں کامیابی ملی بیس میں شکست ہوئی اور دو میچز ہی ڈرا کرسکے۔ دونوں صاحبان کی زیر کمان پاکستان نے آسٹریلیا کا دورہ کیا تو چار میچز کی سیریز میں ایک میچ بھی نہ جیت سکی۔ اسی طرح آیئرلینڈ کے دورے پر ٹیم نے تین میچز کھیلے دو ہارے اور ایک میچ آیئرلینڈ کی جونیئر ٹیم کے ساتھ کھیلا تو ٹیم ہاری تو نہ لیکن جیت بھی نہ سکی۔

حنیف خان اور خواجہ جنید کی زیر کمان پاکستان ہاکی ٹیم ورلڈہاکی لیگ کھیلنے گئی تو ایک ہی ٹورنامنٹ میں بھارت کے خلاف دو میچز چھ اور سات گولوں سے ہارے کینیڈا کی ٹیم نے بھی اسے چھ صفر سے مات دی۔ محض دو میچز پاکستان نے جیتے جس پر فیڈریشن کی برداشت جواب دے گئی اور انہیں عہدوں سے ہٹادیا گیا جس کا خمیازہ آج فیڈریشن کو بھگتنا پڑرہا ہے کہ دونوں افراد باہر بیٹھ کر ٹیم کی کارکردگی پر تنقید کررہے ہیں حالانکہ اعداد و شمار ان کی زیر کمان ٹیم کی کارکردگی کا نوحہ چیخ چیخ کر سنارہے ہیں۔

حنیف خان اور خواجہ جنید کے بعد اولمپئن فرحت خان کو ٹیم کی کمان سونپی تو یہاں بھی ٹیم گیارہ میں سے صرف دو میچز ہی جیت سکی اور تو اور آسٹریلیا میں فور نیشن ہاکی ٹورنامنٹ میں میزبان ٹیم نے پاکستان کو تاریخ کی بدترین شکست ایک کے مقابلے میں نو گول سے ہرایا۔ جبکہ جاپان سے ایک ہی ٹورنامنٹ میں پاکستانی ٹیم دو مرتبہ ہارگئی تو فیڈریشن نے انہیں بھی ہیڈ کوچ کے عہدے سے ہٹادیا۔

جس کے بعد رولنٹ اولٹمنٹز جن کا تعلق ہالینڈ سے ہے کو قومی ٹیم کا ہیڈ کوچ بنایا گیا تو ان کی کوچنگ میں پاکستان ٹیم کامن ویلتھ گیمز کھیلنے آسٹریلیا گئی تو وہاں پانچ میچز میں ناقابل شکست رہی جس کے بعد اگلے اسائنمنٹ پاکستان ٹیم چیمپئنزٹرافی کھیلنے ہالینڈ گئی تو اولمپک چیمپئن ارجنٹینا کو شکست دے دی یہ کامیابی اس لیے بھی بڑی قرار دی جارہی تھی کہ پاکستانی ٹیم رینکنگ میں تیرہویں نمبر پر موجود تھی۔ اس ایونٹ میں پاکستان نے بیلجئم جیسی مضبوط ٹیم کے خلاف ڈرا میچ کھیلا۔ جبکہ آسٹریلیا سے سخت مقابلے کے بعد ایک گول سے میچ ہاری۔ حال ہی میں پاکستان ٹیم ایشین گیمز میں رولنٹ کی زیر کمان کھیلنے گئی تو پول میچز میں ناقابل شکست رہی۔ البتہ جاپان سے ایک اور بھارت سے دو گولوں سے ہاری۔ مجموعی طور پر پاکستان نے اس ایونٹ میں سات میچز کھیلے دو ہارے پانچ جیتے۔

اگر رولنٹ اولٹمنٹس کی کوچنگ کے اعداد و شمار دیکھیں تو وہ پاکستان ہاکی کے بہتر مستقبل کی کہانی سنارہے ہیں ڈچ کوچ کی کوچنگ میں پاکستان ٹیم نے اٹھارہ میچز کھیلے جن میں سے سات جیتے چھ ہارے اور پانچ میچزڈرا کھیلے۔

اس پرفارمنس کے بعد کوئی حواس الباختہ شخص ہی یہ واویلا مچا سکتا ہے کہ پاکستان ہاکی ٹیم ماضی کی بہ نسبت بہتر کھیل پیش نہیں کررہی۔

کچھ اولمپئنز واویلا مچارہے ہیں کہ موجودہ فیڈریشن نے اتنا برا کیا ہے کہ ہاکی کا بیڑہ غرق کردیا ہے تو ان کی نظر میں یقیناًیہ برا کام ہوگا کہ ورلڈ الیون کو پاکستان مدعو کیا تاکہ دنیا بھر میں یہ پیغام جائے کہ پاکستان کھیلوں سے محبت کرنے والا پرامن اور محفوظ ملک ہے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہاکی کی عالمی تنظیم فیڈریشن آف انٹرنیشنل ہاکی نے پاکستان کو انٹرنیشنل ایونٹ کی میزبانی سونپ دی۔ شاید ان اولمپئنز کی نظر میں فیڈریشن نے گیارہ انٹرنیشنل گول کیپرز بلوا کر نشان حیدر جیسا ٹورنامنٹ کروانے کی بھی غلطی کی اس ایونٹ میں ارجنٹائن ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے کھلاڑی شرکت کیلئے آئے۔ جنوبی افریقہ کے بہترین گول کیپنگ کوچ کو پاکستانی گول کیپرز کی کوچنگ کیلئے بلوانا بھی فیڈریشن کی غلطیوں میں شامل کیا جارہا ہے۔

چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان ہاکی ٹیم جو تیرہویں نمبر کی تھی کو انٹری دلوانا بھی شاید فیڈریشن کی غلطی ہے۔

فیڈریشن کا مقدمہ لڑنا میرا مقصد نہیں اگر فیڈریشن نے کرپشن کی ہے تو تبدیلی کانعرہ بلند کرنے کے بجائے فیڈریشن کے آڈٹ کا مطالبہ کرنا چاہیے جو کہ نہیں کیا جارہا جس سے پتہ چلتا ہے کہ واویلا مچانے والوں کو ہاکی کا درد نہیں بلکہ مقاصد کچھ اور ہیں۔