تم تو ٹھہرے پردیسی، ساتھ نبھاؤ گے؟

Noor Saleem
September 5, 2018

سوشل میڈیا استعمال کرنے والے سب ہی لوگوں نے گزشتہ دنوں ایک پاکستانی نژاد امریکی ڈاکٹر کی وائرل ویڈیو ضرور دیکھی ہوگی۔ اس ویڈیو میں عمران نامی اس ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کے نو منتخب وزیر اعظم عمران خان کی تقریر سے بہت متاثر ہوئے ہیں اور وہ امریکا میں موجود اپنے گھر اور جائیداد کو بیچ کر اپنا پیسہ واپس پاکستان لے جارہے ہیں۔ اس ویڈیوکو سوشل میڈیا پر بہت لوگوں نے شئیر کیا اور ڈاکٹر صاحب کی واپسی کا خیر مقدم کیا۔ ڈاکٹر عمران کی طرح دنیا کے مختلف ممالک میں پاکستانی موجود ہیں ، یہ پاکستانی اپنا مستقبل بنانے کی غرض سے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کا رخ کرتے ہیں، تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانے میں کامیاب ہوسکیں۔ ان پاکستانیوں کو پردیسی کے نام سے بھی پکارا جاسکتا ہے، کیونکہ ان میں سے کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں، جو سالوں بعد خاندان کی کسی شادی میں شرکت کرنے کی غرض سے آتے ہیں یا کسی عزیز کی میت میں شرکت کرنے کی غرض سے آتے ہیں، بس خوشی و غم میں چند دن ساتھ رہ کر وہ پردیسیوں کی طرح ہی واپس بیرون ملک چلے جاتے ہیں۔

پاکستان سے ہجرت کرنے والے کئی خاندانوں کا کہنا ہے کہ انہیں پاکستان کے حالات نے ہجرت کرنے کی طرف مجبور کیا ہے۔ پاکستان میں گزشہ کئی سالوں کے دوران جہاں ایک طرف دہشت گردی نے اپنے قدم جمائے، وہیں دوسری طرف ملک کی بگڑتی معاشی صورت حال نے لوگوں کو بیرون ملک جاکر کاروبار کرنے یا ملازمتیں کرنے کے لئے مجبور کیا ہے۔ کئی لوگ یہ کہتے ہیں کہ انہیں ملک یعنی پاکستان سے محبت ہے، لیکن انہیں جیسے ہی کسی دوسرے ملک میں ملازمت ملتی ہے وہ فوراً یہاں سے رفو چکر ہوجاتے ہیں اور یہی کہتے نظرآتے ہیں کہ ’’ہم کیوں اس شاندار ملازمت سے فائدہ نہ اٹھائیں ، آخر پاکستان میں رکھا ہی کیا ہے۔‘‘ کئی پاکستانی ملک چھوڑتے وقت افسردہ بھی ہوتے ہیں ، جیسا کہ ہانگ کانگ میں رہائش پذیر ایک پاکستانی ناصر نوید نے گزشتہ دنوں ’’دس ویک ان ایشیا‘‘ نامی اخبار کو انٹرویو میں کہا کہ ان کی فیملی2006ء میں پاکستان سے ہانگ کانگ شفٹ ہوئی تھی، اس وقت ان کی عمر16سال تھی، ملک چھوڑتے وقت انہیں بے حد دکھ تھا، لیکن ان کے والد کی ملازمت یہاں ہوگئی تھی، اس لئے ان کی فیملی نے فیصلہ کیا کہ وہ پاکستان کو چھوڑ کر یہاں آجائیں کیونکہ ان کے والد کو یقین تھا کہ اگر ہم پاکستان میں رہے تو اپنا کیرئیر نہیں بنا سکیں گے۔ تاہم ناصر نوید کی کوشش رہی کہ ملک کی ترقی یا تبدیلی میں وہ اپنا کردار ایک محب وطن پاکستانی کی حیثیت سے نبھانا چاہتے ہیں، اس لئے انہوں نے 25جولائی سے ایک دن قبل صرف انتخابات میں اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے لئے پاکستان کا رخ کیا اور یہاں تبدیلی کے نعروں کا ساتھ دیتے ہوئے ووٹ ڈالا۔ ناصر جو کہ ماحولیاتی سائنس میں انجینیر ہیں ، وہ چاہتے ہیں کہ اب پاکستان بھی ترقی کی راہ پر چل پڑے، اس لئے باہر رہنے والے پردیسی اس میں ہیں کہ اس نئی حکومت کی جانب سے ایسے اقدامات کئے جائیں گے جوکہ پاکستان کو ترقی یافتہ ملک بناسکیں۔

ان تمام باتوں سے اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ بیرون ملک بسنے والے پاکستانی پردیسی ضرور ہیں لیکن ملک کے وفاداررہنا چاہتے ہیں ، ملک کی ترقی میں اس کا ساتھ دیناچاہتے ہیں۔ انہیں ملک میں واپس لانے کے لئے کوششیں کرنی ہوں گی، اچھی ملازمتیں فراہم کرنی ہوں گی، ملک کی کرنسی کی قدر کو بہتر بنانا ہوگا، معاشی طور پر مستحکم کرکے لوگوں کو بیرون ملک سے وطن واپس آنے کے لئے دعوت دینی ہوگی۔ نئی حکومت کو اپنے کئے ہوئے وعدے پورے کرنے ہوں گے تاکہ بیرون ملک مقیم پردیسی ملک کی ترقی میں ساتھ نبھانے کے لئے وطن واپس لوٹ آئیں۔