حکومت بمقابلہ اپوزیشن

September 4, 2018

تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کو کمزور اپوزیشن کا سامنا ہے کیونکہ اپوزیشن کی دوسری بڑی جماعت اور ملکی سیاسی تاریخ میں سب سے زیادہ اہمیت رکھنے والی پاکستان پیپلز پارٹی نے خود کو اپوزیشن جماعتوں سے علیحدہ کرلیا۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو جے یو آئی (ف) سمیت حزب اختلاف کی دیگر تمام جماعتوں کی حمایت حاصل ہے مگر وہ پیپلز پارٹی کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے، جس کی وجہ شاید سابق وزیراعلیٰ پنجاب کے ماضی کے وہ بیانات ہیں جو پیپلز پارٹی اب تک بھول نہیں سکی۔

آپ کو یاد ہوگا شہباز شریف نے ایک تقریر میں کہا تھا کہ ہم آصف زرداری کو لاہور کی سڑکوں پر گھسیٹیں گے اور ملک کا لوٹا ہوا پیسہ واپس لائیں گے۔ سابق وزیراعلیٰ پنجاب کی تقریر سیاسی تھی جس کا مقصد صرف اور صرف عوام سے داد وصول کرنا تھا۔ شہباز شریف یہی تنقید مناسب الفاظ کا چناؤ کرکے بھی کرسکتے تھے مگر انہوں نے انتہائی سخت زبان استعمال کی، جس کا خمیازہ انہیں آج تک بھگتنا پڑ رہا ہے۔ مسلم لیگ ن کے صدر ہی نہیں بلکہ ملک کے تمام سیاسی و مذہبی رہنماؤں کو اپنی تقاریر میں غیر مناسب اور سخت الفاظ کے استعمال سے گریز کرنا چاہئے۔

پچھلے 5 سالوں میں جتنی مشکلات کا سامنا نواز حکومت نے کیا اگر اس کی نصف مشکلات کا سامنا موجودہ حکومت کو کرنا پڑ جائے تو شاید یہ حکومت ہی نہ رہے، کیونکہ تحریک انصاف کے رہنماؤں میں صبر اور برداشت کی شدید کمی ہے۔ گزشتہ 5 سالوں میں صحافیوں نے نواز حکومت پر بے انتہا تنقید کی جس کو مسلم لیگ (ن) نے برداشت کیا مگر تحریک انصاف کی موجودہ حکومت صحافیوں کی تنقید ہرگز برداشت نہیں کرسکے گی، ممکن ہے پی ٹی آئی کی حکومت صحافیوں کیخلاف انتقامی کارروائیاں بھی کرے، یہ میں اس لئے کہہ رہا ہوں کیونکہ چند دن پہلے ایک ٹی وی پروگرام میں وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان کا رویہ دیکھ چکا ہوں۔

فیاض الحسن چوہان کی جانب سے ایک ٹی وی چینل کے ورکرز کیلئے نازیبا زبان کا استعمال ناصرف شرمناک ہے بلکہ قابل مذمت بھی ہے، وزیراعظم عمران خان کو بطور پارٹی چیئرمین فوری طور پر ایکشن لیتے ہوئے فیاض الحسن چوہان کو برطرف کرکے مثال قائم کرنی چاہئے تھی مگر اس واقعے پر عمران خان کی خاموشی سوالیہ نشان ہے۔

بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت بمقابلہ اپوزیشن میں حکومت کا پلڑا بھاری ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ دونوں کو ایک دوسرے سے کوئی خطرہ نہیں، تحریک انصاف کی حکومت کو کسی اور سے نہیں خود اپنے وزراء سے خطرہ ہے۔ میری بات یاد رکھیں کہ تحریک انصاف کو اپوزیشن اراکین نہیں بلکہ خود تحریک انصاف کے اراکین کمزور کریں گے، جس کی جھلک فواد چوہدری، عمران علی شاہ، فیاض الحسن چوہان اور ڈاکٹر عامر لیاقت حسین پہلے ہی دکھا چکے ہیں۔ پی ٹی آئی میں موجود عمران علی شاہ جیسے لوگوں نے اپنے ہاتھوں اور فیاض الحسن چوہان جیسے لوگوں نے اپنی زبان کو قابو میں نہ رکھا تو تحریک انصاف کو شدید نقصان ہوگا۔

اپوزیشن جماعتیں بھی حکومت کا مقابلہ کرنے کے بجائے آپس میں دست و گریبان ہیں، حزب اختلاف کو متحد ہوکر عوامی مسائل کے حل کیلئے مثبت کردار ادا کرنا چاہئے کیونکہ اگر اپوزیشن جماعتیں آپس میں الجھی رہیں تو اس کا فائدہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو ہوگا۔ سیاست اپنی جگہ مگر جب بات ملکی سلامتی کی ہو تو حکومت میں شامل اتحادی جماعتیں ہوں یا اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے والی پارٹیاں سب ایک ہیں، اسی طرح تمام سیاسی جماعتوں کو عوامی مسائل کے حل کیلئے ایک پیچ پر آنا ہوگا تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔