ہاکی فيڈريشن قومی کھیل سے کھلواڑ بند کرے

September 4, 2018

قومی کھیل کا زوال ہی زوال،اٹھارھویں ایشین گیمز میں پاکستان ہاکی ٹیم کوئی میڈل حاصل نہ کرسکی۔ یہ خبر پاکستانی عوام اور شائقین ہاکی پر بجلی بن کر گری لیکن پریشانی کاہے کی۔ یہ رسوائی بھی نئی بات نہیں دوچار دن میں لوگ یہ بھی بھول جائیں۔ فیڈریشن پھر کوئی ہدف بتا دے گی اور پھر سب ایسے ہی چلتا رہے گا۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کو توقعات تو بہت تھیں ٹیم سے بلندوبانگ دعوے بھی کئے گئے تھے کہ ایشین گیمز میں ہدف گولڈ میڈل ہے تاکہ براہ راست اولمپکس میں شرکت کرسکیں۔

 عالمی رینکنگ پر سولہویں نمبر پر موجود جاپان سے سیمی فائنل میں شکست پر ٹیم مینجر حسن سردار نے ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا کے مصداق عالمی رینکنگ پر تیرہویں ٹیم پاکستان کی شکست پر بھارتی امپائرز کو ذمہ دار ٹھہرادیا۔ حسن سردار کی یہ بات ٹھیک ہے کہ میچ میں پاکستان کا پنالٹی اسٹروک بنتا تھا اور بھارتی میچ ریفری نے غلط فیصلہ دیا۔ حسن سردار کو یہ بھی دیکھنا چاہیئے کہ غلط فیصلے کے بعد میچ میں پاکستان کو تین پنالٹی کارنر ملے اور پاکستان ایک بھی گول نہیں کرسکا جبکہ اس کے برعکس جاپان کو پہلا پنالٹی کارنر ملا اور جاپان نے گول کردیا۔  تیسری پوزیشن کےمیچ میں بھی پاکستان کو بھارت کے ہاتھوں شکست کامزہ چکھنا  پڑا۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری شہباز احمد نے ٹیم کی شکست کا ذمہ دار کھلاڑیوں کو قرار دے دیا۔  پاکستان کی ایشین گیمز میں ہاکی کی ناقص پرفارمنس پر اولمپئینز پھٹ پڑے اولمپئین حنیف خان نے وزیراعظم عمران خان سے فیڈریشن میں احتساب کا عمل شروع کرنے پر زور دیا اور فیڈریشن کے عہدے داروں کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تو وسیم فیروز نے بھی یہی مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ موجودہ فیڈریشن کے دور میں پاکستان ٹیم کوئی وکٹری حاصل نہ کرسکی فیڈریشن کے عہدداروں کا عہدوں پر رہنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں بنتا۔ اولمپئینز کے ہاکی فیڈریشن پر تابڑ توڑ حملوں کو دیکھتے ہوئے فیڈریشن کے حمایتی اولمپئینز بھی میدان میں آگئے اولمپئینز نے کہاکہ ٹیم کی شکست کی بازپرس فیڈریشن سے نہیں کھلاڑیوں سے کرنی چاہیئے جنہوں نے ناقص پرفارمنس کامظاہرہ کیا۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن ہمیشہ سے ہی فنڈز کا رونا روتی آئی ہے دیکھا جائے تو ملک میں دیگر کھیلوں کے مقابلےمیں ہاکی کو حکومت سب سے زیادہ فنڈز دیتی ہے اورموجودہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کو بھی حکومت سے تین سال میں تقریباً پینتالیس کروڑ روپے مل چکے ہیں اس عرصے میں یہ فیڈریشن وفاقی حکومت کے علاوہ پنجاب اور سندھ کی حکومتوں سے بھی کچھ نہ کچھ حاصل کرچکی ہے لیکن اس کے باوجود فیڈریشن کے صدر بریگیڈئر خالد سجاد کھوکھر کو یہ رقم بہت کم معلوم ہوتی ہے۔ اتنی رقم اگر کسی اور کھیل ویٹ لفٹنگ، کبڈی ، کراٹے، ایتھلیٹکس وغیرہ کو دی جاتی تو پاکستان ایشین گیمز میں میڈلزکی لائن لگا دیتا۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کی بیس کروڑ روپے کی ایک گرانٹ نگراں حکومت مایوس کن نتائج اور ناقص کارکردگی کی وجہ سے پہلے ہی روک چکی ہے۔  جو کہ نگراں حکومت کا درست فیصلہ ہے اور ہاکی فیڈریشن کو جب تک گرانٹ نہ دی جائے جب تک  ہاکی ٹیم کوئی میڈل نہ لے آئے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ارباب اختیار گرانٹ روکے جانے پر شور تو مچاتے ہیں لیکن یہ نہیں بتاتے کہ ایسے سال جس میں پاکستان کی سینئر ہاکی ٹیم کو کامن ویلتھ گیمز چیمپینز ٹرافی اور ایشین گیمز جیسے بڑے ایونٹس میں شرکت کرنا تھی اور ابھی ورلڈ کپ باقی ہے فیڈریشن نے جونیئر ٹیم کے کینیڈا اور آسٹریلیا کے غیرضروری طویل دورے پر ایک بڑی رقم کیوں ضائع کردی۔ اس کی تفصیلات فراہم کریں کہ ان دوروں پر کتنی کتنی رقم خرچ ہوئی اور اس سے ہاکی کو کیا فائدہ ہوا۔ ان دوروں پر گئے ہوئے افراد کی تفصیل بھی فراہم کی جائے۔  چیمپینز ٹرافی میں چھ ٹیموں نے حصہ لیا اور آخری نمبر پرآئی۔  ورلڈ کپ کوالیفائنگ روانڈ میں پانچ ٹیموں نے ورلڈ کپ کے لئے کوالیفائی کرنا تھا پاکستان ساتویں نمبر پر آیا بھارت اور ارجنٹائن پہلے ہی ورلڈ کپ میں پہنچ چکے تھے اس بناٗ پر پاکستان کو ورلڈ کپ میں انٹری ملی۔ ایشین گیمز میں گولڈ میڈل حاصل کرکے پاکستان کو اولمپکس کے لئے براہ راست انٹری ملنی تھی یہ موقع بھی ضائع کردیا۔ اولمپک کوالیفائینگ راونڈ میں ہلکی ٹیمیں نہیں ہوں گی اب فیڈریشن کی کیا حکمت عملی اختیار کرے گی۔

پاکستان کی ہاکی کو ایئرمارشل نور خان جیسے پیشہ ورانہ مہارت کے حامل ایڈمنسٹریٹر کی ضرورت ہے۔ سابق اولمپئینز کو فیڈریشن میں عہدے نہ دیئے جائیں بلکہ اولمپئینز کو کھلاڑیوں کو تربیت دینے کا کام سونپاجائے۔ فیڈریشن میں اولمپئینز کو عہدے دے کر تجربے بہت ہوچکے اور ان تجربوں کی بنیاد پر پاکستانی ہاکی کو سوائے نقصان اور  ناکامی کےکچھ نہیں ملا۔ملک میں ہاکی کا انفراسٹریکچر ٹھیک اور گراس روٹ لیول سے ٹیلنٹ اکٹھا کرنے کے عملی اقدامات کئے جائیں۔ ہاکی فیڈریشن کے عہدیداران کب تک ہاکی کو قومی کھیل۔ قومی کھیل کہہ کر حکومت اور عوام کے جذبات سے کھیلتے رہیں گے۔