تبدیلی کا دوسرا رخ

September 4, 2018

بلاگر: محمد فرمان

تبدیلی کا نعرہ گزشتہ کئی سالوں سے گونج رہا تھا۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے 2013 سے 2018 تک حقیقی اپوزیشن کا کردار نبھایا اور نا صرف مسلم لیگ (ن) بلکہ پیپلز پارٹی کو بھی پریشان کئے رکھا۔ عمران خان نے قوم کو بڑے بڑے خواب دکھائے۔ خان صاحب نے ستائی ہوئی اور پریشان حال عوام سے بڑے بڑے وعدے کئے۔ عمران خان کے بلند و بالا دعوؤں سے متاثر ہوکر پاکستانی قوم نے عمران خان کو ووٹ کی طاقت سے وزیراعظم ہاؤس بھیج دیا ہے اور اب وزیراعظم عمران خان کے بقول تبدیلی آگئی ہے۔

عمران خان الیکشن سے قبل متعدد مرتبہ اپنی تقاریر اور ٹی وی انٹرویوز میں کہہ چکے ہیں کہ ہالینڈ کا وزیراعظم سائیکل پر سفر کرتا ہے مگر عمران خان صاحب بنی گالہ سے وزیراعظم ہاؤس جانے کے لئے ہیلی کاپٹر کا استعمال کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ عمران خان اور ماضی کے حکمرانوں میں کیا فرق ہے؟ میں نے سوشل میڈیا پر جب یہ سوال اٹھایا تو تحریک انصاف کے کارکنوں نے جواب دیا کہ عمران خان ملک کے وزیراعظم ہیں انہیں سیکیورٹی فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ یہی بات جب پہلے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے کارکنان کہتے تھے تو تحریک انصاف کے رہنما اور کارکنان سابق وزیراعظم نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری کو ملنے والی سیکیورٹی کو شاہی پروٹوکول قرار دیتے تھے مگر اب کہا جا رہا ہے کہ یہ سیکیورٹی نہیں پروٹوکول ہے۔

تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنان کی باتیں سن کر یہ سمجھ آیا کہ جو سیکیورٹی عمران خان کو ملے اسے سیکیورٹی کہتے ہیں اور جو سیکیورٹی نواز شریف، آصف علی زرداری یا دیگر سیاسی رہنماؤں کو ملے اسے شاہانہ پروٹوکول کہتے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کے ہیلی کاپٹر استعمال کرنے پر کسی سیاسی جماعت کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے کیونکہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر ملک کے وزیراعظم کی سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ وزیراعظم عمران خان کے ہیلی کاپٹر استعمال کرنے پر اعتراض کر رہے ہیں، خوشید شاہ اپوزیشن رکن ہیں اس لئے انہیں اعتراض کا حق ہے مگر جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا یہ کہنا کہ ہیلی کاپٹر پر فی کلو میٹر 55 روپے کا فیول خرچ ہوتا ہے انتہائی مضحکہ خیز ہے۔

جس تبدیلی کا نقشہ ہمارے ذہنوں میں تھا وہ بلکل مختلف تھا مگر جب ہم نے تبدیلی کا دوسرا رخ دیکھا تو دنگ رہ گئے جب کراچی سے پی ٹی آئی کے رکن سندھ اسمبلی نے ایک بزرگ شہری پر تشدد کیا۔ تبدیلی کا جنازہ اس وقت نکلا جب سندھ کے گورنر عمران اسماعیل کوئٹہ کے دورے پر گئے جہاں سیکیورٹی کے نام پر 35 سے زائد گاڑیاں ان کے پروٹوکول میں شامل تھیں۔ قوم نے تبدیلی کا گھناؤنا چہرہ اس وقت دیکھا جب سماء ٹی وی کے اینکر ذیشان ملک کے سخت سوالات کرنے پر وزیر اطلاعات پنجاب اور تحریک انصاف کے سینئر رہنما فیاض الحسن چوہان نے پروگرام کے اختتام پر چینل کے کارکنوں کو گالیاں دیں اور انتہائی گھٹیا اور نازیبا زبان کا استعمال کیا۔ بعد ازاں فیاض الحسن چوہان نے معذرت تو کرلی مگر ان کا اصل چہرہ قوم کے سامنے آگیا۔ فیاض الحسن چوہان جو ٹی وی پروگراموں میں بیٹھ کر دوسروں کو اخلاقیات کا درس دیتے تھے ان کی نازیبا زبان سن کر مجھے زیادہ حیرانی نہیں ہوئی کیونکہ مجھے اس نام نہاد تبدیلی کا دوسرا رخ پہلے ہی نظر آگیا تھا۔

وزیراعظم عمران خان حقیقی تبدیلی لانے میں سنجیدہ نظر نہیں آتے۔ عمران خان اور تحریک انصاف کے تمام رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ خود کو متنازع نا بنائیں اور عوامی خدمت کا آغاز کریں جس کے لئے عوام نے انہیں منتخب کیا ہے ورنہ جس طرح عوام نے تبدیلی کا دوسرا رخ دیکھا ہے ویسے ہی تحریک انصاف کے رہنما عوام کا دوسرا رخ دیکھیں گے