خیبرپختونخوا اسمبلی اور خواتین کا کردار

Muhammad Faheem
September 4, 2018

ایشیاء میں موجود سیاسی جماعتوں پر موروثیت کی چھاپ ہمیشہ سے رہی ہے اور آج بھی یہ الزامات عائد کئے جاتے ہیں کہ باپ کی نشست پر بیٹا، بھائی کی نشست پر بھائی اور اسی طرح خاندان کے دیگر افراد ہی اقتدار کے ایوانوں تک پہچتے ہیں۔ ماضی میں جب قومی اور صوبائی ایوانوں میں خواتین کیلئے نشستیں مخصوص کر دی گئیں، تو اس میں بھی گھر کی بہو بیٹیوں کے نام ہی قرعہ نکلا، تاہم اس مرتبہ خیبر پختونخوا میں یہ تاثر آہستہ آہستہ زائل کیا جا رہا ہے۔ خیبر پختونخوا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایوان تک ایسی 9خواتین پہنچی ہیں، جو یہ دعویٰ کر سکتی ہیں کہ وہ خاندانی وابستگی نہیں بلکہ اپنی کارکردگی کو بنیاد بنا کر آئی ہیں اور اسی طرح وہ اس ایوان میں صرف ربڑ اسٹیمپ نہیں بلکہ ایک سوچ اور مقصد لے کر آئی ہیں۔ یہ 9خواتین دراصل خیبر پختونخوا کے بلدیاتی نظام کا ثمر ہے ان خواتین میں سے ایک کاتعلق متحدہ مجلس عمل، جب کہ 8کا تعلق پاکستان تحریک انصاف سے ہے۔ متحدہ مجلس عمل کی حمیرہ بشیر2005میں پہلی مرتبہ رکن ضلع کونسل منتخب ہوئیں، جب کہ 2015میں بھی وجود میں لائے گئے نئے بلدیاتی نظام میں وہ ضلع کونسل پشاور کی ہی رکن تھیں۔

پاکستان تحریک انصاف سے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کرنے والی مومنہ باسط ضلع کونسل ایبٹ آباد کی رکن رہی ہیں۔ مومنہ باسط 2012کے انٹرا پارٹی انتخابات میں پہلی مرتبہ منظر عام پر آئیں اور تحصیل ایبٹ آبادویمن ونگ کی صدر منتخب کی گئی ۔ مومنہ باسط کو پی ٹی آئی کی قیادت نے 2017میں ایبٹ آباد ریجن وومن ونگ کی صدارت کی ذمہ داریاں سونپ دیں، جس کے بعد انہوں نے کوہستان سمیت تمام اضلاع میں پی ٹی آئی خواتین ونگ کی تنظیم سازی کا عمل مکمل کر لیا۔ مومنہ باسط کے مطابق بطور رکن خیبر پختونخوا اسمبلی وہ اپنے 5سال میں خواتین، بچوں اور نوجوانوں پر توجہ مرکوز رکھیں گی۔ ڈاکٹرآسیہ اسد کا سیاست میں آنا احتجاج کے باعث ہے ماضی میں جب عوامی نیشنل پارٹی کے دور حکومت میں پشاور کے لیڈیز کلب پر قبضہ کیا گیا، تو اس کلب کو بچانے کیلئے جو خواتین سامنے آئیں ان میں ایک ڈاکٹر آسیہ اسد بھی تھیں۔ ڈاکٹر آسیہ اسد کے مطابق احتجاج کے بعد انہیں اندازہ ہو گیا تھا کہ اگر عملی طور پر کسی کیلئے کچھ کرنا ہے تو سیاست میں آنا ہو گا ۔ ڈاکٹر آسیہ اسد نے 2015کے بلدیاتی انتخابات میں یونیورسٹی ٹاﺅن سے کونسلرکیلئے الیکشن لڑا اور وہ  منتخب ہو گئیں، تاہم پی ٹی آئی کی جانب سے ضلع کونسل پشاور کیلئے ترجیحی فہرست میں ان کا نام ہونے کی وجہ سے انہیں نشست چھوڑنی پڑی ۔ دو مرتبہ سینٹ چیئرمین رہنے والے خان حبیب اللہ خان کی پوتی اور سابق سینیٹر و رکن صوبائی اسمبلی انور کمال مروت کی بھتیجی اور تین سال تک رکن ٹاﺅن کونسل تھری پشاوررہنے والی عائشہ بانو اب پی ٹی آئی کی نشست پر رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہو گئی ہیں۔

 

لیگی پس منظر سے تعلق رکھنے عائشہ بانو کیلئے پی ٹی آئی میں شمولیت آسان نہیں تھی۔فیملی دباﺅ کی وجہ سے وہ سامنے نہیں آ سکیں تاہم اسلام آباد دھرنوں کے دوران عائشہ بانو نے اپنی سیاسی وابستگی کا باقاعدہ اعلان کر دیا اور پی ٹی آئی کی ہم سفر بن گئیں۔ عائشہ بانو پشاور ریجن کی صدر بھی رہی ہیں ۔عائشہ بانو نے جامعہ پشاور سے قانون کی ڈگری حاصل کی ہے اور وہ اگلے 5سال کے دوران اسمبلی میں ہونے والی خواتین کے حوالے سے کی جانے والی قانون سازی پر عمل درآمد کرانا چاہتی ہیں۔

مردان سے تعلق رکھنے والی ساجدہ حنیف نے پی اے ایف ڈگری کالج رسالپور میں بطور معلم اپنی خدمات سرانجام دیں۔ 25سال تک درس و تدریس کے شعبے سے منسلک رہنے والی ساجدہ حنیف نے 2015میں بطور رکن ضلع کونسل مردان اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا اور تین سال بعد اب وہ خیبر پختونخوا اسمبلی کی رکن ہیں۔

 

ساجدہ حنیف کے مطابق سیاست میں پی ٹی آئی کا حصہ بننے کی سب سے بڑی وجہ عمران خان ہے، جب کہ دوسری بڑی وجہ اس پارٹی میں موجود لوگ ہے۔ پی ٹی آئی وہ واحد جماعت ہے جو کسی کی جاگیر نہیں ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے قیام کے بعد عمران خان کا ساتھ دینے والے بہت کم لوگ تھے اور انہی میں سے ایک جوڑا صوابی کا رہائشی تھا۔ انوار حق داد اور ان کی اہلیہ زینت بی بی روز اول سے عمران خان کے ساتھی ہیں اور اب 22سال بعد زینت بی بی کو پارٹی کی جانب سے رکن صوبائی اسمبلی منتخب کرلیا گیا ہے ۔2015میں خواتین کی مخصوص نشستوں پر ضلع کونسل صوابی کی رکن منتخب ہوئیں اورحزب اختلاف کا حصہ ہونے کی وجہ سے ضلع کونسل میں ایک مﺅثر کردار ادا کیا۔

 

زینت بی بی کے مطابق بلدیاتی نظام میں موجود خواتین ضلع ناظم کی محتاج ہیں اور ان کی مرضی کے مطابق فنڈز نہیں دیئے جاتے بطور ایم پی اے اب قانون سازی کے ذریعے ان خواتین کو آزاد کرانا ہے۔ آزادی سے قبل خواتین کے حقوق کیلئے آواز بلند کرنے والی ڈی آئی خان کے چھوٹے سے گاﺅں پنیالہ سے تعلق رکھنے والی عائشہ بی بی کی پوتی رابعہ بصری پاکستان کے قیام کے 71سال بعد خیبر پختونخوا اسمبلی خاتون رکن منتخب ہو گئی ہیں۔ دادی کا تعلق عوامی نیشنل پارٹی ،بھائی افضل پنیالہ کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہونے کے باوجود رابعہ بصری نے عمران خان کا ساتھ دیا۔2012کے انٹرا پارٹی انتخابات میں وومن ونگ ضلع پشاور کی صدر منتخب ہو گئیں ۔

 

رابعہ بصری نے 2001میں ہونےوالے بلدیاتی انتخابات میں یونین کونسل کی خواتین نشست الیکشن لڑتے ہوئے کامیابی حاصل کی، جب کہ 2015کے بلدیاتی نظام میں وہ ضلع کونسل پشاور کی رکن بنیں۔ رابعہ بصری کے مطابق سب سے زیادہ نظر انداز رہنے والا طبقہ جسمانی معذور افراد ہیں تاحال معذور افراد کیلئے قانون سازی تک نہیں کی جا سکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جسمانی معذور افراد کیلئے پہلے قانون سازی کرنا اور بعد میں اس پر عمل درآمد کرانا مقصد ہو گا۔

سال 2015 میں خواتین کی مخصوص نشستوں پی ٹی آئی کی جانب سے ضلع کونسل پشاور کی رکن منتخب ہونے والی آسیہ صالح خٹک کی پہلی ملاقات عمران خان سے تب ہوئی، جب وہ چوتھی جماعت کی طالبہ تھیں۔ آسیہ خٹک اس وقت سعودی عرب کے مقامی اسکول میں زیر تعلیم تھیں اور عمران خان شوکت خانم میموریل اسپتال کیلئے اپنی مہم کے سلسلے میں ان کے اسکول گئے تھے۔

آسیہ خٹک مشرف دور میں آمریت کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کر چکی ہیں اور اس وقت پی ٹی آئی یوتھ وومن ونگ کی صوبائی صدر بھی رہ چکی ہیں ۔آسیہ خٹک کے مطابق پینے کا پانی سب سے بڑا مسئلہ ہے، جب کہ پانی کے ضیاع کو روکنا ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔

 

 

ضلع کونسل نوشہرہ میں تین سال تک رکن کونسل رہنے والی سومی فلک نیاز خاتون خانہ ہیں۔ 2013میں پی ٹی آئی میں شامل ہونے والی سومی فلک نیازکہتی ہیں کہ تحریک انصاف وہ واحد جماعت نظر آئی جس میں حقیقی تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔

بلدیاتی نظام کے ساتھ وابستگی کے باعث آج خیبر پختونخوا کی خواتین کے تمام مسائل سے آگاہ ہوں

اور آئندہ 5سال ایوان میں بیٹھ کر ان خواتین کے حقوق کیلئے ایک جامعہ منصوبہ بندی کے تحت کام کروں گی ۔