طاہرہ صفدر پاکستان کی تاریخ میں پہلی (خاتون )چیف جسٹس

September 4, 2018

پہاڑوں کی سر زمین بلوچستان  میں رہنے والی خواتین جسمانی طور پہ  پہاڑوں کی طرح مضبوط ہوتی ہیں مشقت انکی جہیز میں شامل ہوتی ہے۔ بلوچ خواتین پہاڑوں کا سینہ چیرتی ہوئی کس قدر حسین لگ رہی ہیں یہ صرف بلوچستان کے باسی جانتے ہے یہ شہریوں کی طرح  فوم کی ہلکی چپل نہیں پہن سکتی ہیں بلکہ بلوچستان کی خواتین  ہمیشہ مضبوط جوتے پہنتی ہیں کیونکہ ان خواتین کو پہاڑ کی سختیوں سے لڑنا ہے اور اسے شکست دینا ہے۔ اسکی بلندیوں کو پیروں تلے روندنا ہے۔ اس طرح کی ایک تاریخ ساز خاتون طاہرہ صفدر ہے۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار خاتون چیف جسٹس ہائی کورٹ جسٹس طاہرہ صفدر نے بحثیت چیف جسٹس بلوچستان اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔حلف برداری کی تقریب بلوچستان ہائی کورٹ میں ہوئی جہاں گورنربلوچستان محمد خان اچکزئی نے جسٹس طاہرہ صفدرسےحلف لیا۔

جسٹس طاہرہ صفدر بلوچستان ہائی کورٹ کی 32ویں  چیف جسٹس مقرر ہوگئی ہیں۔جس کے بعد انہیں ملکی تاریخ کی پہلی خاتون چیف جسٹس ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوگیا۔ بلوچستان ہائی کورٹ کی چیف جسٹس کے لیے جسٹس طاہرہ کی نامزدگی کی تصدیق چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے رواں برس جولائی میں کی تھی اس سے قبل بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس محمد نور مسکانزئی تھے جو31 اگست کو اپنے عہدے سے ریٹائر ہوگئے تھے۔ جسٹس طاہرہ صفدر نے بلوچستان یونیورسٹی سے اردو ادب میں ماسٹرز کر رکھا ہے جبکہ انہوں نے لاء کالج کوئٹہ سے قانون کی ڈگری بھی حاصل کی ہے ۔وہ 7 ستمبر 2009 کو بلوچستان ہائی کورٹ کی جج مقرر ہوئی تھیں۔

جسٹس سید طاہرہ صفدر 5 اکتوبر 1957ء کو کوئٹہ میں پیدا ہوئیں۔ وہ سید امتیاز حسین باقری حنفی کی صاحبزادی ہیں۔ انہوں نے 1980ء میں لا کالج کوئٹہ سے ڈگری حاصل کی۔ 1982ء میں وہ پہلی خاتون سول جج رہیں ، وہ 1987ء میں سینئر سول جج، 1991ء میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اور 1996ء میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج رہیں۔انہوں نے اپریل انیس سو بیاسی کو پبلک سروس کمیشن کے بعد بطور سول جج کیرئیر کا آغاز کیا۔ چیف جسٹس سیدہ طاہرہ صفدر کو یہ امتیاز بھی حاصل ہے کہ جن جن عہدوں پر انہوں نے کام کیا وہ ان عہدوں پر کام کرنے والی بلوچستان کی پہلی خاتون بنی تھیں وہ  میں عارضی طور پر قائم مقام چیف جسٹس بھی بنی تھیں۔ وہ اس سہ رکنی بنچ کی بھی رکن ہیں جو پرویز مشرف کے خلاف مقدمے کی سماعت کر رہا ہے۔ جسٹس طاہرہ صفدر کی سربراہی میں بلوچستان ہائی کورٹ کے لاجر بینچ نے بلوچستان ہائی کورٹ کے ڈبل بینچ محمد نور مسکانزی کی سربراہی میں سید احسان شاہ کو آرٹیکل 63 اور 62 کے تحت ہمیشہ کے لیے نااہل قرار دینے کے فیصلے کی توثیق کرتے ہوۓ سید احسان شاہ کے اپیل پیٹیشن کو خارج کرکے سید احسان شاہ کے تاحیات نااہلی کے فیصلہ کو بحال رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔

وزیراعلئ بلوچستان جام کمال خان نے جسٹس سیدہ طاہرہ صفدر کو چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ تعینات ہونے پر مبارک باد پیش کی ہے اپنے ایک پیغام میں وزیراعلئ نے کہا ہے کہ جسٹس سیدہ طاہرہ صفدر ایک انتہائی باصلاحیت جج ہیں جنہوں نے اپنے تمام کیئریر میں فوری انصاف کی فراہمی کے لئے گرانقدر قدر خدمات انجام دیتے ہوۓعدلیہ کے وقار اور نیک نامی میں اضافہ کیا۔ وزیراعلئ نے کہا ہے کہ ایک خاتون جج کی بحثیت چیف جسٹس تعیناتی سے قومی سطح پر ایک نئی تاریخ رقم ہوئی ہے جو بلوچستان کے لئے اعزاز اور فخر کا باعث  ہے۔انہوں نے چیف جسٹس کی مذید کامیابیوں کے لئیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔