خدمت میں سب سے آگے پنجاب

Fazal Elahi
September 4, 2018

پچھلے ہفتے براستہ روڈ کراچی سے پشاور تک کا سفر کیا اور مختلف شہروں میں قیام کیا۔ سفر کا آغاز شاندار ہوا، کراچی تا حیدرآباد موٹروے پر سفر آسانی سے گزر گیا مگر جونہی حیدرآباد پہنچے تو سڑکوں کی خستہ حالت اور گڑھے دیکھ کر گاڑی کی رفتار دھیمی کرنا پڑی۔ حیدرآباد سے سکھر کا سفر چار گھنٹے میں طے ہوتا ہے لیکن ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی وجہ سے چار گھنٹوں کا سفر چھ گھنٹوں میں طے ہوا۔ اگر حیدر آباد سے سکھر تک کراچی تا حیدرآباد موٹروے طرز کی سڑک یا موٹروے بن جائے تو یہ سفر صرف دو گھنٹوں میں طے ہوسکتا ہے۔ سندھ میں ٹوٹی پھوٹی سڑکیں حادثات کا سبب بھی بن رہی ہیں۔ جونہی ہم سندھ اور پنجاب کی سرحد صادق آباد پہنچے تو صاف ستھری اور بہترین سڑک دیکھ کر معلوم ہوگیا کہ اب ہم پنجاب کی حدود میں داخل ہوگئے ہیں۔

صرف سڑکوں یا شاہراہوں کی بات نہیں، اگر پچھلی تمام صوبائی حکومتوں کی پانچ سالہ کارکردگی دیکھی جائے تو ہر شعبے میں پنجاب سب سے آگے رہا۔ راستے میں لودھراں ڈسٹرکٹ اسپتال دیکھ کر ایسا لگا جیسے کسی بڑے شہر کا اسپتال ہو۔ خانیوال کا ریلوے اسٹیشن دیکھ کر تو شدید حیرانی ہوئی، ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے یہ لندن کا کوئی ریلوے اسٹیشن ہے۔ جب لاہور میں داخل ہوئے تو لاہور میں ترقیاتی کام دیکھ کر دلی خوشی ہوئی۔ لاہور میں ہر طرف سبزہ ہی سبزہ دیکھ کر ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے اسلام آباد آگیا ہوں۔ میں ذاتی طور پر ہمیشہ شہباز شریف کا سیاسی مخالف رہا ہوں مگر پنجاب بالخصوص لاہور کی ترقی دیکھ کر شہباز شریف کو سیلوٹ کرنے کا دل چاہتا ہے۔

پشاور پہنچا تو پھر وہی منظر دیکھا جو منظر سندھ میں دیکھا تھا۔ پشاور کا حال بھی سکھر اور لاڑکانہ سے مختلف نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ پانچ سالہ دور حکومت میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کوئی کام نہیں کرسکی۔ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف اور سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے کوئی خاص کام نہیں کیا مگر دونوں جماعتیں پچیس جولائی کے انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے ایک مرتبہ پھر صوبے میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی ہیں۔ حیرانگی اس بات پر بھی ہے کہ شہباز شریف کی کامیاب ترین حکومت کے باوجود پنجاب کی عوام نے مسلم لیگ (ن) کو نظرانداز کیا۔ پنجاب میں تحریک انصاف نے حکومت قائم کرلی ہے۔ لاہور سے بھی تحریک انصاف نے سب سے زیادہ سیٹیں حاصل کی ہیں مگر میری یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ اب لاہور کا نقشہ بگڑ جائے گا اور تحریک انصاف کی صوبائی حکومت لاہور کو نظرانداز کرے گی۔

میں پھر سندھ کا ذکر کروں گا جہاں سے میں نے اپنے سفر کا آغاز کیا۔ کراچی ہو یا حیدر آباد، سکھر ہو یا شکارپور، لاڑکانہ ہو یا جیکب آباد سندھ کے تمام چھوٹے بڑے شہروں کے اسپتالوں کی حالت زار دیکھ کر افسوس ہوتا ہے جہاں مریض صحت کی بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں۔ سندھ کے اسکولوں کی حالت دیکھ کر بھی مستقبل کے معماروں پر ترس آتا ہے جہاں بچوں کے پاس نہ بیٹھنے کے لئے ڈیسک ہیں اور نہ ہی کلاسز میں پنکھے لگے ہوئے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے اسپتالوں اور اسکولوں کی حالت بھی بدتر ہے لیکن سندھ سے بہتر ہے۔

سندھ، خیبر پختونخوا اور پنجاب کے نئے وزرائے اعلیٰ کو چاہیے کہ وہ سابق وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنے اپنے صوبے کی عوام کی خدمت کریں تاکہ شہریوں کو پریشانی سے نجات ملے۔ شہریوں کو صحت و تعلیم جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کا فرض بھی ہے۔ امید ہے نئی صوبائی حکومتیں عوامی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گی۔