قائداعظم اور عمران خان کی ادھیڑ عمری کی شادیاں

September 3, 2018

سائرہ خان

پچھلے ہفتے سابقہ کرکٹر عمران خان پاکستان کے وزیراعظم بن گئے۔ انیس سو نوے کے اواخر تک وہ اپنی سابقہ شہرت میں بڑے آرام سے زندگی گذار رہے تھے کہ جب انہوں نے اپنی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد رکھی۔ اور یوں وہ سیاست کی سیڑھیوں پر اوپر چڑھتے ہی گئے۔

لیکن شاید وہ ابھی بھی اپنی محبت والی زندگی کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ ایک دفعہ وہ گولڈی ہان کی قربتوں میں پائے گئے۔ اور بالآخر تینتالیس سال کی عمر میں انہوں نے اکیس سالہ برطانوی دوشیزہ جمائمہ گولڈ اسمتھ سے شادی کر لی۔ جمائمہ کے ساتھ ان کی شادی صرف نو سال تک ہی چل پائی۔

عمران خان کی ادھیڑ عمری میں شادیاں، طلاقیں اور سیاست میں کھوکر مجھے لگا کہ میں وہ کتاب پڑھ رہی ہوں جو بھارتی مصنفہ۔۔۔۔۔۔ نے قائداعظم کی شکستہ شادی شدہ زندگی پر لکھی ہے۔

بھارتی مصنفہ شیلہ ریڈی کی کتاب ’’مسٹر اینڈ مسز جناح: دا میرج دیٹ شُک انڈیا‘‘ قائد اعظم محمد علی جناح کی تباہ حال شادی شدہ زندگی کی ایک دستاویز ہے۔

قیام پاکستان سے قبل قائد اعظم ایک کامیاب وکیل تھے، جنہوں نے تاج برطانیہ کے آخری دنوں میں پاکستان کے قیام کے لیے سر توڑ کوششیں کیں۔ انیس سو سینتالیس میں جب یہ موقع آیا تو آپ ملک کے پہلے گورنر جنرل بنے۔

لیکن ریڈی نے ان کی کہانی اس سے کہیں پہلے انیس سو اٹھارہ میں شروع کی۔ اس وقت قائداعظم کی عمر بیالیس سال تھی۔ اسی سال انہوں نے بومبے کی ایک اٹھارہ سالہ پارسی دوشیزہ رتن بائی (رتی) سے شادی کی۔

قائداعظم کے خاندان کے دوستوں اور رتی کے لکھے ایک ایک لفظ پر تحقیق کر کے شیلہ ریڈی نے دو مذہبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی اس شادی کو زبان زد خاص وعام کردیا۔

تنہائی پسند وکیل اور انکی کم سن دلہن کی اس شادی کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ کیسے ایک زندہ دلی کی جیتی جاگتی مورت وہ کم عمر لڑکی مَردوں کی انا کی بھینٹ چڑھ گئی۔ اس میں اس کے والد بھی شامل تھے جو اپنی کمسن بیٹی کی ایک ادھیڑ عمر مسلمان آدمی سے شادی کے اس قدر مخالف تھے کہ انہوں نے دونوں کے خلاف حکم جاری کردیا تھا۔ اور شیلہ ریڈی کے مطابق، دوسرے جناح تھے جنہوں نے رتی سے شادی شاید صرف یہ دکھانے کے لیے کی کہ ان میں ایسا کرنے کی ہمت ہے۔

رتی نے کئی سال اپنوں سے دور رہ کر گذار دیے۔ ان کو نہ صرف اپنی پارسی برادری نے خود سے دور کردیا تھا بلکہ وہ اپنے شوہر کی بے توجہی کا شکار بھی تھیں۔ ان کے شوہر ان سے زیادہ اپنے کام میں مگن تھے۔

گیارہ سال بعد یہ شادی ایک المناک انجام سے دوچار ہوئی جب رتی کا کا انتیس سال کی عمر میں انتقال ہوگیا۔ قائد اعظم نے شاید اس سے سبق سیکھا۔ پھر انہوں نے کبھی شادی نہیں کی۔ کیا عمران خان نے کبھی قائداعظم کی زندگی کے اس پہلو پر غور کیا ہوگا۔